Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195684
Published : 9/10/2018 19:19

تقیہ روایات اہل بیت(ع) کی روایات کے تناظر میں

تقیہ کے بارے میں آئمہ معصومین(ع) کی احادیث دیکھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات اپنے شیعوں کو دو طرح کے تقیہ کا حکم دیا کرتے تھے،ایک خوف کے حالات میں تقیہ دوسرے رواداری اور خیال خاطرکے لئے تقیہ۔

ولایت پورٹل:  قارئین کرام! ہم نے ’’تقیہ‘‘ سے متعلق کالم میں یہ عرض کیا تھا کہ تقیہ ایک عقلی طریقۂ کار ہے اور ’’قاعدۂ اہم اور مہم ‘‘اس کی بنیاد ہے عقلاء عالم (چاہے وہ دیندار ہوں یا لامذہب)کی ہمیشہ سیرت یہ رہی ہے کہ جب بھی وہ اپنی جان،مال یا آبرو کے لئے کوئی خطرہ محسوس کرتے ہیں تو اس سے نجات پانے کے لئے اپنے مذہب اور عقیدہ کے بر خلاف اسی کے مذہب کے مطابق زبانی یا عملی اظہار کرتے ہیں جس کی طرف سے انھیں خطرہ در پیش ہوتا ہے اور اسی طرح تقیہ کے ذریعہ دشمن کے خطرہ کو اپنے سے دور کرتے ہیں اور آج بھی عالم بشریت میں یہی طریقہ کار جاری ہے۔آئیے آج ہم آئمہ معصومین(ع) کے فرامین میں تلاش کرتے ہیں کہ تقیہ کیا ہے اور اس کی ضرورت کب پیش آتی ہے چنانچہ اسی موضوع سے مربوط گذشتہ کالمس کو پڑھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنکس پر کلک کیجئے!
گذشتہ سے پیوستہ: اب تک یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ تقیہ ایک عاقلانہ طریقہ ہے جو انسانی زندگی کی ضروریات میں شامل ہے اور آسمانی ادیان میں بھی اسے قانونی حیثیت حاصل ہے۔اور مسلمانوں کے تمام مکاتب فکرنے اس پر عمل کیا ہے مگر ائمہ معصومین ؑکی احادیث میں تقیہ کے لئے خاص اہمیت اور مخصوص تاکید نظر آتی ہے یہاں تک کہ بعض روایات میں تو یہاں تک ذکر ہوا ہے کہ:’’لا ایمان لمن لا تقیۃ لہ لادین لمن لا تقیۃ لہ‘‘(۱)
ترجمہ:جس کے پاس تقیہ نہیں ہے اس کا کوئی دین ایمان بھی نہیں ہے۔
یاامام محمد باقر(ع) نے فرمایا ہے:’’التقیۃ من دینی و دین آبائی‘‘۔(۲)
ترجمہ:تقیہ میرا اور میرے آباء و اجداد کا دین ہے۔اسی کے مثل امام جعفر صادق(ع) سے بھی ایک حدیث نقل ہوئی ہے۔
تقیہ کے بارے میں آئمہ معصومین(ع) کی احادیث دیکھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات اپنے شیعوں کو دو طرح کے تقیہ کا حکم دیا کرتے تھے،ایک خوف کے حالات میں تقیہ دوسرے رواداری اور خیال خاطرکے لئے تقیہ۔
خوف والے تقیہ کا تعلق کبھی خود اس کی جان و مال اور عزت و آبرو کے خطرہ سے ہے اور کبھی اس کے اعزاء و اقرباء یا دوسرے مؤمنین کو خطرہ در پیش ہوتا ہے اور کبھی کبھی خود اسلام اور مذہب کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔رواداری اور خیال خاطر کے لئے تقیہ وہاں ہوتا ہے کہ جہاں مذکورہ چیزوں کے لئے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو مگر انسان تقیہ کے ذریعہ دوسروں کی ہدایت اور اتحاد مسلمین کی تقویت سے متعلق اپنی دینی ذمہ داریوں کو اچھی طرح ادا کرسکتا ہے،جن احادیث میں تقیہ کو سپر کہا گیا ہے وہاں خوف والا تقیہ مراد ہے اور جن روایات میں حسن سلوک اور اچھے برتاؤ کا حکم دیا گیا ہے وہاں اکثر رواداری والا تقیہ ہی مراد ہے جس کا اصل مقصد شیعوں کے مخالفین کو مذہب شیعہ سے قریب کرنا ہے اگرچہ یہ شیعوں کی جان و مال کی حفاظت میں بھی مؤثر ہوتا ہے۔
ہشام بن حکم نے امام جعفر صادق(ع) سے یہ روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا:ایسے کام کرنے سے پرہیز کرو جن کی بنا پر ہمیں برا بھلا کہا جائے کیونکہ بعض اوقات نالائق اولاد ایسے کام کرتی ہے جس سے اس کے باپ کی مذمت ہوتی ہے لہذا تم اپنے کو جس سے (اہل بیت(ع)وابستہ اور ان کا طرفدار کہتے ہو ان کی نیک نامی کا ذریعہ بنو نہ کہ بدنامی اور برائیوں کا ذریعہ ،ان کی نماز جماعت میں شرکت کرو ،ان کے بیماروں کی عیادت کرو ،ان کی تشییع جنازہ میں شرکت کرو کسی کار خیر میں وہ تم سے آگے نظر نہ آئیں پھر آپ نے فرمایا:’’واللّٰہ ما عبداللّٰہ بشیء أحب الیہ من الخباء‘‘
ترجمہ:خدا کی قسم کسی ایسی چیز سے اللہ کی عبادت نہیں ہوتی ہے جو اس کے نزدیک خباء سے زیادہ محبوب ہو۔
ہشام نے پوچھا کہ یہ ’’خباء‘‘کیا ہے ؟آپ نے فرمایا:’’التقیۃ‘‘۔(۳)
آئمہ معصومین(ع) کی متعدد احادیث میں اس آیۂ کریمہ:{ولا تستوی الحسنۃ ولاالسیئۃ ادفع بالتی ھی احسن فاذا الذی بینک وبینہ عداۃ کانہ ولی حمیم ومایلقٰھا الا الذین صبروا و مایلقٰھا الا ذو حظ عظیم}۔(۴)کی تفسیر تقیہ سے کی گئی ہے، واضح طور پر اس سے حسن سلوک اور رواداری والا تقیہ مراد ہے۔
جس کی واضح ترین دلیل یہ ہے کہ اس سے پہلے والی آیت خدا پرستی اور توحید کی طرف دعوت دے رہی ہے جیسا کہ ارشاد ہے:{ومن احسن قولا ممن دعا الیٰ اللہ و عمل صالحاً وقال اننی من المسلمین}۔(۵)
.............................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔وسائل الشیعہ ج۱ کتاب الامر بالمعروت و النہی عن المنکر ابواب الامر و النہی باب۲۴روایات۲؍۳؍۶؍۲۲؍۲۹؍۳۱۔
۲۔گذشتہ حوالہ ج۲۔
۳۔وسائل الشیعہ ،گذشتہ حوالہ باب ۲۶ حدیث ۲۔
۴۔ سورہ فصلت: ۳۴،۳۵۔
۵۔سورہ فصلت: ۳۳۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20