Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195708
Published : 10/10/2018 17:47

خدا پر توکل عزت اور سرافرازی کاعظیم منبع

توکل اس عظیم خصلت کو کہتے ہیں جس کے سلسلہ سے امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں :’’ من اتکل علی حسن اختیار الله تعالی له لم یتمن غیر مااختاره عزوجل له‘‘۔ جو اللہ کے حسن اختیار ( انتخاب ) پر توکل کرے وہ ان چیزوں کی تمنا نہیں کرتا جسے اللہ نے اس کے لئے نہیں چنا ہے۔

ولایت پورٹل: اسباب عزت  میں ایک بڑا سبب جسکی بنا پر انسان ہمیشہ عزت کے ساتھ جیتا ہے  وہ خدا پر بھروسہ اور توکل ہے ۔امام محمد باقر علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں :’’الغنی والعز یجولان فی قلب المؤمن فاذا وصلا الی مکان فیه التوکل اقطناه‘‘۔(۱)بے نیازی و عزت مؤمن کے دل میں جولانی کرتے رہتے ہیں اور جب وہ ایسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جس  میں توکل ہو تو اس پر تصرف کر لیتے ہیں۔
شاید امام محمد باقر علیہ السلام کی یہ حدیث یہ بتانا چاہتی ہو، کہ بےنیازی و عزت دو ایسی چیزیں ہیں جو اس وقت تک انسان کے وجود میں نہیں سماتیں جب تک اس کے دل میں توکل نہ ہو  جیسا کہ امام حسین علیہ السلام نے بھی ایک دوسرے انداز میں اسی بات کو یوں فرمایا ہے : ’’ان العز والغنی خرجا یجولان، فلقیا التوکل فاستوطناً‘‘۔(۲) بیشک عزت و بے نیازی  نکل گئیں اور حرکت کرنے لگیں پس انکی ملاقات توکل سے ہوئی وہیں انہوں نے اپنا وطن بنا لیا ۔ شاید مفہوم حدیث یہ ہے کہ عزت و بے نیازی اس وقت تک نہیں آتیں جب تک توکل نہ ہو اور  ایک عزت مند و بے نیاز انسان وہی ہوتا ہے جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہو  ظاہر ہے جب وہ خدا پر بھروسہ کرے گا تو این و آن کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرے گا جسکی بنا پر اسے کسی کے سامنے ذلیل نہیں ہونا پڑے گا    ، اب دیکھنا  یہ ہے کہ اللہ پر بھروسہ و توکل کیسا ہونا چاہیے ؟
توکل اس عظیم خصلت کو کہتے ہیں  جس  کے سلسلہ سے امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں :’’ من اتکل علی حسن اختیار الله تعالی له لم یتمن غیر مااختاره عزوجل له‘‘۔(۳)
جو اللہ کے حسن اختیار ( انتخاب ) پر توکل کرے وہ ان چیزوں کی تمنا نہیں کرتا جسے اللہ  نے اس کے لئے  نہیں چنا ہے۔
توکل  یہ ہے کہ انسان سب کچھ خدا پر چھوڑ دےبندگی کرے اور بس ، اپنی کوشش کرے لیکن یہ نہ سوچے کہ’’ میں کر رہا ہوں‘‘ توفیقات کو بھی اپنے مالک کی عنایت جانے  اسی پر بھروسہ کرے اور اسی کی طرف بازگشت کو اپنے دل سے قبول کرے جیسا کہ امام حسین علیہ السلام اپنے وصیت نامے میں بیان فرماتے ہیں:’’ وهذه وصیتی الیک یا اخی وما توفیقی الا بالله علیه توکلت والیه انیب‘‘۔ائے میرے بھائی تمہارے لئے یہ میری وصیت ہے کہ کوئی توفیق حاصل نہیں ہوتی مگر خدا کی جانب سے ، اسی پر بھروسہ ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔
اگر ہم کربلا کے آفاقی تعلیمات پر غور کریں تو ہمیں کربلا میں خدا پر بھروسہ و توکل اپنی عالی ترین منزل پر  نظر آتا ہے، توکل اگر روایت کے بموجب عزت و بے نیازی کے لئے وطن کی حیثیت رکھتا ہے تو اب ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی خاص پارٹی یا تنظیم کا دامن  تھام لینے سے ہمارا کام نہیں چلے گا اس لئے کہ ممکن ہے کوئی پارٹی  کسی خاص زمانے میں ووٹوں کی بنا پر ہم پر مہربان ہو لیکن الیکشن کے بعد ہی اپنا رنگ دکھانے لگے لہذا یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ اگر اس کثیر المذاہب اور کثیر اللسانی ملک میں رہنا ہے تو کسی نہ کسی پارٹی کا دامن تو تھامنا ہی ہوگا ، انسان اگر خود پر بھروسہ کرتے ہوئے اللہ کا دامن تھامے تو اس کے اندر یہ دم بھی پیدا ہوگا کہ اپنی کنڈیشن کسی بھی پارٹی کے سامنے رکھ  سکتا ہے کہ اگر تمہیں اس جمہوری ملک میں ہمارے ووٹوں کی ضرورت ہے تو یہ ہمارے جائز مطالبات ہیں پہلے ان پر عمل کر کے دکھاؤ ، اور یہ کچھ ایسے مطالبات ہیں جن پر عمل اقتدار کے بعد ممکن ہے تو انکی عملی ضمانت دو اسکے بعد ہم فیصلہ کریں گےکہ  کیا کرنا ہے ، لیکن یہ بات تبھی ہو سکتی ہے جب ہمارے سامنے اپنا وجود نہ ہو کر خدا کا وجود ہو ، لیکن ہماری بدقسمتی تو  یہ ہے کہ چاہے ملک ہو یا ملک سے باہر کا مسلم معاشرہ ، ہر طرف دوسروں کی طرف ہم حسرت سے دیکھتے نظر آتے ہیں اور خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے بل پر کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں نتیجہ یہ ہے کہ زمانہ ہمیں بری طرح ذلیل کرتا ہے  اور ہم گلے میں ذلتوں کے طوق ڈالے عزتوں کو تلاش کرنے میں سرگرداں نظر آتے ہیں ، اگر ہم کربلا سے اپنی روح کو متصل کرلیں تو یقیناً ایک ہی مقام پر ہمیں یکجا وہ ساری چیزیں مل سکتی ہیں جنکی بنیاد پر ہم دنیا میں سربلندی کے ساتھ جی سکیں ، اس لئے کربلا کی روح کی فریاد ہے :’’ ھییات منا الذلۃ‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ میزان الحکمہ ، ج 5، ص 1959، حدیث 12862۔
۲۔ میرزا حسین نوری، مستدرک الوسائل، ج 11، ص 218، حدیث 12793۔
۳۔ ملحقات احقاق الحق، ج 11، ص 602 ۔


 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20