Sunday - 2018 Oct. 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195725
Published : 11/10/2018 14:59

اربعین کی زیارت جہالت کے اندھیروں میں پڑے مستضعفین کے لئے امید کی کرن

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اس زیارت کا ثواب ایک ہزار غلام آزاد کرنے کے مساوی ہے شاید اس تعبیر کا معنٰی یہ ہے کہ زیارت کربلا کے لئے راستے میں اٹھنے والے ہمارے ہر قدم پر دنیا کے سامنے امام حسین(ع) کا تعارف ہوگا اور جہالت و شہوت کی زنجیروں میں جکڑے ہزاروں غلاموں کے دلوں میں آزاد ہونے کی تمنا موجزن ہونے لگے گی ۔پس ہماری اس آمادگی اور مشق کے سبب ،دست طاغوت و ظلم و جہالت سے بشریت کو آزادی فراہم ہوسکتی ہے۔

ولایت پورٹل: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:جو شخص معرفت کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جائے اللہ تعالٰی اس کے لئے ایک ہزار(1000) غلاموں کو آزاد کرنے کا ثواب لکھے گا  اور وہ اس شخص کے مانند ہے کہ جس نے ایک ہزار(1000) مجاہدوں کو زین بستہ گھوڑوں پر سوار کرکے اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے لئے روانہ کئے ہوں۔( کافی، ج4، ص581)
حدیث کی تشریح:
1۔اربعین امام حسین علیہ السلام کی ہمراہ کا اعلان کرنے کا بہترین موقع ہے چونکہ اس موقع پر تقریباً 2 کروڑ لوگ زیارت اربعین پڑھتے ہوئے کہتے ہیں:’’ نُصْرَتِي لَكُمْ مُعَدَّة ‘‘۔ہمارے مولا و آقا ہم آپ کی نصرت کے لئے تیار ہوں۔پس اربعین کے اس عظیم اور طولانی پیدل مارچ میں اسی حقیقت تک پہونچنے اور خود کو باور کرانے کے لئے ہے اور یہی زیارت اربعین کا فلسفہ ہے کہ اپنے مولا کے حضور یہ اظہار کرنا کہ ہم آمادہ ہیں۔
کیا آپ نے کبھی فوجی مشقیں دیکھی ہیں؟ ان مشقوں کا فلسفہ اور حکمت کیا ہوتی ہے؟
صاف ہے کہ فوجی مشقوں کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لئے اور اس مقصد کے تحت جان قربان کرنے کے لئے مکمل طور پر آمادہ ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’ وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ ‘‘۔(سورہ انفال:60) (اے مسلمانو!) تم جس قدر استطاعت رکھتے ہو ان (کفار) کے لئے قوت و طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو۔ تاکہ تم اس (جنگی تیاری) سے خدا کے دشمن اور اپنے دشمن کو اور ان کھلے دشمنوں کے علاوہ دوسرے لوگوں (منافقوں) کو خوفزدہ کر سکو۔
پس آپ اربعین کے اس لاکھوں کے مارچ میں یہ آمادگی اور تیاری کا اعلان کرکے دشمنان دین کے دلوں میں رعب و وحشت ایجاد کررہے ہیں اور یہی مقصد ہے تاکہ انہیں یہ اندازہ رہے کہ جس دین کو کل کربلا میں بہتر(72) نے زندہ کیا تھا آج کروڑوں لوگ اسی دین کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کو ہتھیلی پر لیکر سید الشہداء(ع) کی بارگاہ میں پہونچ کر بیعت شہادت کی تجدید کرنے کے لئے آئے ہیں لہذا اس دین کو مٹانا تو دور کی بات ہے اس کی طرف ٹیڑھی نظروں سے بھی دیکھنا ممکن نہیں ہے۔
2۔دوسرے حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اس زیارت کا ثواب ایک ہزار غلام آزاد کرنے کے مساوی ہے شاید اس تعبیر کا معنٰی یہ ہے کہ زیارت کربلا کے لئے راستے میں اٹھنے والے ہمارے ہر قدم پر دنیا  کے سامنے امام حسین(ع) کا تعارف ہوگا اور جہالت و شہوت کی زنجیروں میں جکڑے ہزاروں غلاموں کے دلوں میں  آزاد ہونے کی تمنا موجزن ہونے لگے گی ۔پس ہماری اس آمادگی اور مشق کے سبب ،دست طاغوت و ظلم و جہالت سے بشریت کو آزادی فراہم ہوسکتی ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Oct. 21