Tuesday - 2018 Oct. 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195732
Published : 11/10/2018 17:24

حقیقی توبہ

درگاہ الہی میں حقیقی توبہ ایسی پشیمانی سے عبارت ہے جس کے ساتھ معذرت،مغفرت اور طلب بخشش ہو البتہ توبہ حقیقی کی پہچان یہ ہے کہ انسان ترک گناہ کے لئے عزم راسخ رکھے اورگناہ کی طرف لوٹنے کا کوئی ارادہ اس کے دل میں نہ ہو۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو دوست رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ سعادت مند ہوں اور ان کا انجام بھی بخیر ہو لہذا ان کے لئے لوٹنے اور واپسی کا ایک دروازہ کھول رکھا ہے اور اس رحمت کے دروازے کو’’توبہ‘‘ کہا جاتا ہے۔لہذا یہ دروازہ ہر ایک کے لئے ہمیشہ کھلا ہوا ہے بس شرط اتنی ہے کہ انسان اس دروازے سے داخل ہوجائے۔ چنانچہ روایات میں ہے کہ اگر خطاکار و گناہکار بندہ یہ جان لیتا کہ اللہ تعالٰی اور اس کا معبود اس کی واپسی کا کتنا منتظر ہے تو وہ اس اشتیاق میں اپنی جان دیدیتا لہذا اطمئنان رکھئے کہ اللہ تعالٰی اس کی مدد کرے گا اور وہ زندگی کے ہر نشیب و فراز میں آپ کے ساتھ ہے۔
اور یہی کہ جب انسان اپنے کئے پر پشیمان ہوجائے اور مستقبل میں اس گذشتہ گناہ کی تکرار کرنے کا ارادہ نہ کرے اس کی توبہ محقق ہوجاتی ہے لہذا کوشش کرنا چاہیئے کہ اپنے ارادے اور ایمان کو مستحکم کرکے پھر گناہ کے پیچھے نہ جائے اوراگر کبھی کوئی گناہ کرنے کا موقع ہو اور اس بات کے مد نظر، کہ گناہ کی لذت زود گذر ہوتی ہے اور صرف اس کی پشیمانی باقی رہ جاتی ہے، اپنے کو گناہ سے بچائیں چنانچہ اگر انسان حقیقت میں ماضی کے اپنے گناہوں پر پشیمان ہوجائے مثلاً حق الناس کو ادا کرےاور اگر واجبات کو ترک کیا ہے اس کی قضا بجا لائے وہ بالکل ایسے ہو جائے گا جیسے اس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو۔( التائب من الذنب كمن لا ذنب له)۔
چونکہ اللہ کی چادر مغفرت اتنی وسیع ہے کہ اگرا نسان حقیقتاً اپنے ماضی پر شرمندہ ہو تو اس کے نامہ اعمال میں گناہوں کی جگہ حسنات لکھ دیئے جاتے ہیں:’’ اولئک یبدل الله سیئاتهم حسنات. فرقان/70‘‘۔اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا۔
لیکن یہ خیال رہے کہ انسان کی توبہ و ندامت حقیقی ہو اور صرف زبانی لقلقہ نہ ہو پس درگاہ الہی میں حقیقی توبہ ایسی پشیمانی سے عبارت ہے جس کے ساتھ معذرت،مغفرت اور طلب بخشش ہو البتہ توبہ حقیقی کی پہچان یہ ہے کہ انسان ترک گناہ کے لئے عزم راسخ رکھے اورگناہ کی طرف لوٹنے کا کوئی ارادہ اس کے دل میں نہ ہو۔
اگر گناہ حق الناس سے مربوط ہو تواسے  ادا کرنا چاہیئے یہی اس کی توبہ ہے اور اگر حق اللہ ہو(یعنی نماز ترک کی ہے یا روزہ چھوڑا ہے) تو اس کی قضا بجالائی جائے چونکہ اس دنیا میں لوگوں کے پاس ایک محدود فرصت ہے لیکن افسوس ہم بہت ہی آسانی سے غلط اور بیہودہ کاموں میں اپنی زندگی برباد کردیتے ہیں اور پھر اچانک ہمارا ورود ایک ایسے مقام(برزخ)پرہوتا ہے جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے اور نہ ہمارے پاس کوئی توشہ اور سامان ہوتا ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 23