Wed - 2018 Oct. 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195735
Published : 11/10/2018 18:28

ذخیرہ اندوزی چوری سے بھی بدتر گناہ

اس انسانیت سوز مصیبت اور المیہ پر نہ حکومت کوئی خاص ایکشن لیتی ہے اور نہ قانون کے نافذ کرنے والے ادارے کسی رد عمل کا اظہار کرتے ہیں چونکہ اس المیہ میں جہاں سرمایہ داروں کو فائدہ پہونچتا ہے وہیں پولیس بھی بے بہرہ نہیں رہتی چائے پانی کے پیسے تو انہیں بھی مل ہی جاتے ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آج کل ہر جگہ مہنگائی کے چرچے ہیں ہر انسان مہنگائی سے پریشان ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ بازار سے کبھی کبھی تو روز مرہ کی ضروریات کے سامان ہی غائب ہوجاتے ہیں اور ہر روز نیا مضحکہ،کبھی مارکیٹ سے آلو غائب ہیں تو کبھی پیاز و لہسن کے بھاؤ آسمان کو چھونے لگتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے تو یقینی طور پر اس کی زندگی کی تمام ضرورتوں کے وسائل کو بھی خلق کیا ہے تو آخر ہماری ضرورتوں کے سامان یکدم مارکیٹ سے کیوں غائب ہوجاتے ہیں اور ان تک ہماری یا تو رسائی مطلق طور پر نہیں ہوپاتی یا پھر ان چیزوں کو فراہم کرنے کے لئے کثیر رقم ادا کرنا پڑتی ہے؟
اصل مشکل دنیا پر حاکم جابرانہ نظام اقتصاد ہے جہاں ہر کمپنی اپنی مارکیٹ کے چکر میں ہے اور کسی صورت زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے فراق میں ہے اور اس میں حکومتیں بھی غیر جانبدار نہیں ہوتیں اور سرمایہ دار بھی انسانیت کا خون چوسنے کے لئے آمادہ بیٹھے رہتے ہیں ۔آج سرمایہ دارانہ نظام میں ایک بسکوٹ چیپس پاپڑ کی قیمت ہے لیکن انسانی جان اور ان کے ضیاع کی کوئی فکر نہیں ہے انہیں صرف اپنے منافع عزیز ہیں اپنے فائدہ کے لئے انہیں جس حد تک بھی جانا پڑے وہ جاسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر روز بازار میں کسی ایک ضرورت کی چیز کی قمیت زیادہ ہوتی ہے کبھی دال مہنگی تو کبھی پیٹرول پر غضب!
عام طبقہ کا استحصال کرنے کے لئے سرمایہ دار لوگ اور بڑے بڑے تاجر پیشہ اپنے یہاں ضروری اشیاء کے بڑے بڑے ذخائر جمع کرلیتے ہیں اور جب ان کی قیمتیں آسمان پر پہونچ جاتی ہیں انہیں مارکیٹ میں لاکر فروخت کرکے بڑا سرمایہ جمع کرلیتے ہیں۔
اب اس انسانیت سوز مصیبت اور المیہ پر نہ حکومت کوئی خاص ایکشن لیتی ہے اور نہ قانون کے نافذ کرنے والے ادارے کسی رد عمل کا اظہار کرتے ہیں چونکہ اس المیہ میں جہاں سرمایہ داروں کو فائدہ پہونچتا ہے وہیں پولیس بھی بے بہرہ نہیں رہتی چائے پانی کے پیسے تو انہیں بھی مل ہی جاتے ہیں۔
اب اس درد سے تڑپتی اور رنج سے سسکتی انسانیت پر کون رحم کرے؟ ظاہر سی بات ہے وہی خالق انسان اس انسان کا پرسان حال اور پروردگار ہے جس نے اسے خلق کیا ہے اور وہ دین جو انسانی اقدار کی حفاظت کے لئے آیا ہے وہی میدان میں قدم رکھتا ہے اور اس ذخیرہ اندوزی کو گناہ قرار دیتا ہے۔
چنانچہ ہمارے سامنے معصوم ہادیان برحق کی زندگیاں ہیں۔ امام کاظم علیہ السلام سے روایت میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے ذخیرہ اندوزی کو چوری سے بدتر شمار کیا ہے چونکہ چور فقط کسی ایک کے یہاں ڈاکہ ڈالتا ہے لیکن ذخیرہ اندوزی کرنے والا پورے معاشرہ کی ضروریات پر ڈاکہ ڈالتا ہے اور بازار سے ضرورتوں کی چیزوں کو چھپا لیتا ہے اس امید پر کہ جب ضرورت حد سے زیادہ بڑھیں گی تو ان کی قیمتیں بھی زیادہ ہی ملں گی۔
جس طرح آئمہ(ع) نے ذخیرہ اندوز کی مذمت کی ہے ہمارے علماء بھی اس کام کو حرام جانتے ہیں اور ایک عالم دین کی تعبیر کے مطابق ذخیرہ اندوزی چوہوں جیسا کام ہے چونکہ ذخیرہ اندوز شخص لوگوں کا خون چوس کر جو پیسہ اکھٹا کرتا ہے حقیقتاً یہ پیسہ بہت خراب و کثیف ہوتا ہے چنانچہ ایسے لوگوں سے شدید برتاؤ ہونا چاہیئے۔
ہماری روایات میں ذخیرہ اندوزی کو اجتماعی چوری سے تعبیر کیا گیا ہے لہذا اسے مقابلہ کا واحد راستہ یہ ہے کہ معاشرہ ثقافتی لحاظ سے اس درجہ پر پہونچ جائے کہ جہاں وہ دوسرے انسانوں کے درد کو اپنا ہی درد سمجھے جیسا کہ روایات و تواریخ کی کتابوں میں ملتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے زمانہ میں مدینہ میں قحط پڑ گیا آپ نے اپنے خدمت گذار سے فرمایا:کیا ہمارے گھر میں کچھ اناج اور غلہ وغیرہ رکھا ہوا ہے ۔
اس نے کہا: مولا! ہاں کچھ غلہ رکھا ہوا ہے
آپ نے فرمایا: اسے بازار میں لے جاکر فروخت کردو۔
اس نے کہا مولا! پھر ہم کھائیں گے کیا؟
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس طرح دوسرے لوگ اپنے لئے اناج خریدیں گے ہم بھی ویسے ہی انتظام کریں گے۔
اگرچہ امام صادق علیہ السلام کے گھر میں موجود اناج ذخیرہ اندوزی نہیں تھا چونکہ آپ کے خدمت گذاروں نے گھر کے استعمال کے لئے خرید رکھا تھا لیکن امام علیہ السلام کو یہ گوارا نہیں ہوا کہ لوگ اپنی غذا فراہم کرنے کے لئے دشواریوں کا سامنا کریں اور ہمیں کوئی مشکل ہی نہ ہو۔
یہ ہے دین اسلام کے وہ عظیم پیشوا جنہوں نے اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی کی ضرورت کی اشیاء کو اپنے گھر میں چھپا کر نہ رکھیں۔
ہمارے سماج کے بزرگوں اور صاحب حیثیت لوگوں کو امام صادق علیہ السلام کی زندگی سے سبق لینا چاہیئے کہ جو کچھ ہماری اپنی ضرورت کے لئے گھر میں رکھا ہوا ہے اسے بھی لوگوں کی ضرورتوں میں دے دیا جائے۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 24