Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195751
Published : 13/10/2018 14:34

کیا ہم اپنے کو پہچانتے ہیں؟

توبہ یعنی انسان کے وجود کے اندر پیدا ہونے والے انقلاب اور قیام کا نام ہے یعنی انسان کے وجود میں سرکشی کرنے والے عناصر کا کنٹرول جب عقل و شعور کے ہاتھ میں آجاتا ہے تو ایک انقلاب پیدا ہوجاتا ہے اور یہ طاقت ان سب کو زیر کرکے سب کو قید و زندان میں ڈال دیتی ہے اور انسانی وجود کی باگ ڈور اور زمام کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتی ہے۔
ولایت پورٹل: انسان ویسا نہیں ہے جسیا وہ خود کو خیال کرتا ہے یعنی وہ ایک شخص نہیں ہے ہاں وہ ایک فرد ضرور ہے لیکن ایسی فرد کے جو مرکب ہے بسیط نہیں،یعنی ہم جو یہاں بٹھے ہیں (جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے)یہاں ایک جماد بیٹھا ہوا ہے،ایک جاندار یہاں بیٹھا ہوا ہے،ایک شہوانی حیوان یہاں بیٹھا ہوا ہے،ایک چیر پھاڑ کھانے والا درندہ یہاں بیٹھا ہوا ہے، ایک شیطان یہاں بیٹھا ہوا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ ایک فرشتہ بلکہ فرشتہ سے بھی افضل موجود یہاں بیٹھا ہوا ہے۔
کبھی شہوت رانی کا وہ مظہر جسے ہماری زبان میں ’’سور‘‘ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ وہ انسان کے امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور پھر اس درندہ ، شیطان اور فرشتہ کو ابھرنے کا موقع نہیں دیتا۔اور کبھی ان ساری قوتوں میں سے کوئی اس شہوانی حیوان کو زیر کردیتا ہے اور انسان میں ایک تبدیلی رونما ہوجاتی ہے اور انسان کے وجود پر کسی اور طاقت کی حکومت ہوجاتی ہے۔
پس گنہگار انسان ایسے انسان کو کہتے ہیں کہ جس کے وجود کا حیوان اس پر مسلط ہوجاتا ہے یا اس کے وجود کا شیطان اس پر مسلط ہوجاتا ہے یا اس کے وجود کا درندہ اس پر حاکم ہوجاتا ہے اور اس کے وجود میں نورانی اور مُلکی طاقت(یعنی فرشتہ والی صفت) کو زیر کرکے اسے قید خانہ میں ڈال دیا جاتا ہے۔
توبہ یعنی انسان کے وجود کے اندر پیدا ہونے والے انقلاب اور قیام کا نام ہے یعنی انسان کے وجود میں سرکشی کرنے والے عناصر کا کنٹرول جب عقل و شعور کے ہاتھ میں آجاتا ہے تو ایک انقلاب پیدا ہوجاتا ہے اور یہ طاقت ان سب کو زیر کرکے سب کو قید و زندان میں ڈال دیتی ہے اور انسانی وجود کی باگ ڈور اور زمام کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتی ہے۔

منبع:آزادی معنوی، استاد شهید مطهری،ص 114





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19