Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195755
Published : 13/10/2018 15:43

ہانی بن عروہ مذحجی(رض)

مسعودی کی روایت کے مطابق ، ہانی کا اپنے قبیلے میں اس حد تک اثر و رسوخ تھا کہ جب وہ بنی مراد والوں کو مدد کے لئے پکارتے تھے تو 4000 شہسوار اور 8000 پیادہ فوج ان کی آواز پر جمع ہوجاتے تھے لیکن جب ہانی کو قتل کرنے کے لئے لیجایا جارہا تھا تو کوئی ایک بھی مدد کرنے کے لئے آگے نہیں آیا۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! آپ نے جناب ہانی بن عروہ مرادی کا نام تو سنا ہی ہوگا آپ امام علی علیہ السلام کے خاص صحابی اور کوفہ کے بزرگوں اور اشراف میں سے تھے۔آپ جمل و صفین کی جنگوں میں بھی مولا علی(ع) کے ہمراکاب رہ چکے تھے۔جب جناب حجر بن عدی نے زیاد بن ابیہ کے خلاف آواز اٹھائی تو ہانی بن عروہ بھی ان لوگوں میں سے تھے جو ان کے ساتھ ان کے مشن میں شریک تھے چنانچہ جناب ہانی یزید بن معاویہ کی بیعت کے شروع ہی سے مخالف تھے یہی وجہ ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل(ع) کو کوفہ میں اپنا سفیر بنا کر بھیجا تو ہانی کا گھر اس وقت شیعوں کے جمع ہونے اور سیاسی کارئیوں کا سب سے بڑا مرکز تھا۔
جناب مسلم بن عقیل کے قیام میں آپ کا کردار بہت اہم تھا یہی وجہ تھی کہ شہادت مسلم کے بعد آپ کو بھی ابن زیاد کے نمک خواروں نے شہید کردیا اور آپ کی شہادت کی خبرجب امام حسین(ع) کو کوفہ کے راستہ میں ملی،آپ کی خبر شہادت سن کر امام حسین(ع) بہت روئے اور آپ کے لئے مغفرت و رحمت کی دعا فرمائی شہادت کے بعد آپ کے جسد اقدس کو کوفہ کے دار الامارہ میں دفن کردیا گیا اور آج آپ کی قبر ہر خاص و عام کے لئے زیارت گاہ ہے جو شخص مسجد کوفہ اور شہر کوفہ جاکر دوسرے شہدائے اسلام کی زیارت کرتا ہے وہ آپ کی قبر پر حاضری کو بھی اپنا شرف سمجھتا ہے۔
آپ کا خاندان
جناب ہانی بن عروہ کے بارے میں علمائے رجال نے لکھا ہے کہ آپ امام علی(ع) کے نہایت باوفا اور قریبی صحابی تھے۔(اعیان الشیعہ،ج۷،ص ۳۴۴)آپ قبلہ بنی مراد کی مشہور شاخ بنی مذحج کے سردار تھے۔(جمہورۃ الانساب العرب،ج۱۰،ص۴۹۰)آپ اہل کوفہ کے درمیان بہت ہی معروف اور مشہور شخصیت تھے۔(الامامۃ و السیاسۃ،ج۲،ص۴)
مسلم(ع) کے قیام میں ہانی بن عروہ کا کردار
جب جناب مسلم بن عقیل کو کوفہ کے نئے گورنر عبیداللہ بن زیاد کی طرف سے دھمکی ملی تو آپ مختار کا گھر چھوڑ کر ہانی کے گھر چلے گئے چونکہ جناب مسلم نے جناب ہانی کا گھر کوفہ کے بگڑتے سیاسی حالات کے پیش نظر انتخاب کیا اور یہی وجہ ہے کہ ہانی نے مسلم کی آخری دم تک حفاظت کی اور ان حالات میں جتنی مدد ہوسکتی تھی اس سے دریغ نہیں کیا۔
ابن زیاد جیسے درندے کے خوف سے جن کوفیوں نے امام حسین(ع) کو خط لکھ کر نصرت کے وعدے کئے تھے وہ اپنے گھروں میں چھپ کر بیٹھ گئے اور مسلم بن عقیل تو امام حسین(ع) کے سفیر تھے لہذا ایسے حالات میں انہیں اپنے گھر میں پناہ دینا،ان کی مدد کرنا،ان کے حفاظتی انتظامات کرنا یہ سب چیزیں ہانی بن عروہ کے ایمان کی بلندی اور خاندان وحی سے ان کی محبت کو ظاہر کرتی ہیں۔
ہانی کی گرفتاری اور شہادت
عبیداللہ بن زیاد نے اپنے شامی غلام کو حکم دیا کہ وہ ہانی کے گھر پر نظر رکھے اور چونکہ ہانی ابن زیاد سے ملاقات کے لئے نہیں گئے تھے اس لئے اس نے بڑی مکاری سے محمد بن اشعث اور عمر ابن حجاج زبیدی جو ہانی کے دوست اور خاندان سے تھے ان کے ذریعہ ان دار الامارہ میں بلوایا گیا اور یہ سازش صرف یہی نہیں تھی کہ ہانی کو گرفتار کرلیا جائے بلکہ ہانی کو مسلم سے دور کردینا بھی مقصد تھا یہی وجہ ہے کہ ہانی کے گرفتار ہوتے ہی وہ لوگ جو ہانی کے گھر میں آکر مسلم سے ملتے اور جن لوگوں نے مسلم کے ہاتھ پر بیعت کررکھی تھی وہ ایک ایک کرکے گرفتار کرلئے گئے۔جس کے نتیجہ میں جناب مسلم تنہا رہ گئے اور اس طرح آپ کا مشن مکمل نہ ہوسکا اور جب جناب ہانی نے جناب مسلم کو عبیداللہ بن زیاد کے حوالے کرنے سے صاف انکار کردیا تو آپ پر بہت ظلم کیا گیا جس میں آپ کی ناک زخمی ہوگئی اور پھر آپ کو قید خانہ میں ڈال دیا گیا۔(تاریخ طبری،ج۵،ص۳۶۵،مروج الذھب،ج۲،ص۲۵۲)
جناب مسلم کی شہادت کے بعد ہانی کے ہاتھوں اور پیروں کو باندھ کر بازار میں گھسیٹا گیا اور پھر ابن زیاد کے حکم سے اس کے غلام نے اسی بازار میں آپ کا سر کاٹ دیا(طبقات ابن سعد،ج۵،ص۱۲۲)
مسعودی کی روایت  کے مطابق ، ہانی کا اپنے قبیلے میں اس حد تک اثر و رسوخ تھا کہ جب وہ بنی مراد والوں کو مدد کے لئے پکارتے تھے تو 4000 شہسوار اور 8000 پیادہ فوج ان کی آواز پر جمع ہوجاتے تھے لیکن جب ہانی کو قتل کرنے کے لئے لیجایا جارہا تھا تو کوئی ایک بھی مدد کرنے کے لئے آگے نہیں آیا۔(مروج الذھب،مسعودی،ج۳،ص۲۵۵ )




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19