Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195761
Published : 13/10/2018 17:28

آیت عظمٰی نے جب نیزے سے پڑھا قرآن

سر بریدہ امام حسین علیہ السلام سے قرآن مجید کی تلاوت بالکل عجیب اور محال نہیں ہے چونکہ امام حسین(ع) اللہ کے خاص بندے تھے کہ جنہیں مظلومانہ طریقہ سے شہید کیا گیا لہذا اللہ نے آپ کے دشمنوں کو یہ بتلایا کہ جسے تم لوگوں نے شہید کیا ہے وہ اللہ کی کتنی عظیم آیت ہیں اور وہ قرآن کے ساتھ ہے اس کا پورا وجود قرآنی ہے اور ہم نے شہادت کےبعد بھی اسے کرامت تکلم سے نوازا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! صفر المظر سن 1440 ہجری کا آغاز ہوچکا ہے یہ وہ ایام ہیں جن میں اسیران اہل بیت(ع) کا قافلہ اس وقت شام میں یزید بن معاویہ کے یہاں قید ہے۔
یوں تو اس قافلہ میں نوارانی چہرے والے لوگ تھے اور بہت سے ایسے حادثات رونما ہوئے جنہیں دیکھ کر بہت سے لوگ اور فکر و شعور رکھنے والے دین اسلام کی حقانیت کی قائل ہوگئے انہیں میں سے ایک واقعہ اور عظیم معجزہ جسے سوچ کر بشریت انگشت بدنداں ہے امام حسین علیہ السلام کے کٹے سر کا نوک نیزہ سے قرآن مجید کی تلاوت کرنا ہے۔
اگرچہ بعض منکرین فضائل اہل بیت(ع) اور کربلا کو ایک عام واقعہ سمجھنے والے لوگوں کے خیال میں یہ شیعوں کا گھڑا ہوا واقعہ ہے۔
اس گمان بد کی اصلی وجہ یہ ہے کہ جسے حسین(ع) کے انسان کامل،ولی خدا، امام منصوص و مفروض الطاعۃ ہونے کا ہی یقین نہیں وہ اس سچائی کو درک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا آئیے ہم تاریخ سے پوچھتے ہیں کہ کیا واقعاً ایسا ہوا کہ حسین مظلوم(ع) کے کٹے سر نے بازار کوفہ و شام میں قرآن مجید کی تلاوت کی یا نہیں؟
اگر ہم معروف محدثین اور مورخین سے دریافت کریں تو وہ صراحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے شہادت کے بعد کٹے ہوئے سر سے نوک نیزہ پر سورہ کہف اور دیگر سورہائے مبارکہ کی کچھ آیات کا کئی جگہ تلاوت فرمائی چنانچہ زید بن ارقم(کہ جو رسول اللہ (ص) کے صحابی ہیں) بیان کرتے ہیں:میں نے کوفہ میں حسین(ع) کے سر اقدس کو قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت کرتے دیکھا ہے:’’اَم حَسِبت َ اَن َّ اَصحـَب َ الكَهف ِ و الرَّقیم ِ كانوا مِن ءایـَتِنا عَجَبـا‘‘۔(سورہ کہف:9) کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ کہف و رقیم (غار اور کتبے) والے ہماری نشانیوں میں سے کوئی عجیب نشانی تھے؟۔( الارشاد، شیخ مفید، ج 2، ص 116، كنگره شیخ مفید)۔
بلکہ ایک دوسری روایت میں تو یہاں تک آیا ہے کہ:جب امام حسین(ع) کے سر اقدس کو  اس جگہ رکھا گیا کہ جہاں قافلہ میں شہداء کے سروں کو رکھا جاتا تھا چونکہ تماشائیوں کی بھیڑ تھی لہذا امام حسین(ع) نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے تلاوت کلام اللہ کرنے کے سے پہلے اپنے گلے کو صاف کیا۔(جیسا کہ عادتاً کچھ لوگ کچھ کہنے یا بولنے سے پہلے کرتے ہیں) جب تماشائیوں کی بھیڑ  نے آپ کی آواز کو سنا تو متعجب ہوکر  آپ کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگے اور سورہ کہف کو اس آیت:’’ انهم فتیه آمنوا بربهم فزدناهم هدی و لا نزد الظالمین الا ضلالاً‘‘۔تک تلاوت فرمائی۔( مقتل الحسین ، مقرم، ص 332)
ایک اور جگہ نقل ہوا ہے کہ جس نیزہ پر آپ کے سر مبارک کو بلند کیا گیا تھا چہرے اقدس سے نور ساطع ہوکر آسمان کی طرف جارہا تھا اور آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:’’ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون‘‘۔(مناقب، ابن ‏شهراشوب ، ج 2 ، ص 188)
سلمہ بن کہیل نے سر امام حسین علیہ السلام سے اس آیت کی تلاوت سنی:’’ فسیكفیكهم الله و هو السمیع العلیم‘‘۔(اسرار الشهادة ، ص 488)
ابن وکیدہ کہتا ہے: میں نے سر امام حسین سے سورہ کہف کی آواز کو سنا میں نے شک کیا کہ کیا یہ آواز سر سے آرہی ہے یا کہیں اور سے؟
اچانک سر مبارک سے آواز آنا بند ہوگئی اور میری طرف خطاب ہوا: اے وکیدہ کے بیٹے! کیا تو نہیں جانتا ہم زندہ امام ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پاتے ہیں۔
یہ آواز سن کر اس نے ارادہ کیا کہ رات کی تاریکی میں کسی صورت لشکر یزید سے وہ سر چُرا کر کہیں دفن کردوں گا۔
سر مبارک نے اس فرمایا: اے وکیدہ کے بیٹے! تم اپنے اس ارادے میں کامیاب نہیں ہوسکتے اور ان لوگوں(لشکر یزید) کو میرے خون بہانے کا عذاب میرے سر کو شہر بشہر پھرانے سے زیادہ دیا جائے گا لہذا تو ان کو اس دن کے لئے چھوڑ دے:’’اذ الاغلال في أعناقهم و السلاسل يسحبون‘‘۔(شرح قصيدة ابي‏فراس ،ص 148)
منہال بن عمرو کہتے ہیں کہ میں  نے دمشق میں امام حسین(ع) کے سر مبارک کو نیزے پر دیکھا سورہ کہف کی اس آیت:’’ام حسبت ان اصحاب الكهف و الرقیم كانوا من آیاتنا عجباً‘‘ کی تلاوت فرمائی اور آشکار طور پر فرمایا کہ اصحاب کہف سے بھی زیادہ عجیب مجھے قتل کرنا اور میرے سر کو نیزے پر اٹھا کر کوچہ بکوچہ پھرانا ہے۔(خصائص سيوطي ، ج 2 ، ص 127)
ایک روایت میں ملتا ہے کہ جب یزید کے دربار میں حاضر روم کے سفیر نے یزید کے سامنے امام حسین(ع) اور آپ کے اہل بیت(ع) کی حمایت میں اپنے وہ تاریخی جملے کہے جنہیں سن کر پسر ہندہ جگر خوارہ تیش میں آگیا اور اس نے اس سفیر کو قتل کرنے کا حکم دیا تو سر مبارک نے باصدائے بلند فرمایا:’’لا حول و لا قوه الا بالله‘‘۔(مقتل العوالم ،ص 151)
قارئین کرام! ہم نے جن روایات کو آپ حضرات کی خدمت میں پیش کیا ہے وہ معتبر کتابوں سے ہیں اور قرآن مجید کی تلاوت سر بریدہ امام حسین علیہ السلام سے بالکل عجیب اور محال نہیں ہے چونکہ امام حسین(ع) اللہ کے خاص بندے تھے کہ جنہیں مظلومانہ طریقہ سے شہید کیا گیا لہذا اللہ نے آپ کے دشمنوں کو یہ بتلایا کہ جسے تم لوگوں نے شہید کیا ہے وہ اللہ کی کتنی عظیم آیت ہیں اور وہ قرآن کے ساتھ ہے اس کا پورا وجود قرآنی ہے اور ہم نے شہادت کےبعد بھی  اسے کرامت تکلم سے نوازا ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20