Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196486
Published : 19/11/2018 16:12

ہمارے تعلیمی سسٹم کی سب سے بڑی مشکل

آج ہم ایک ایسی نسل سے روبرو ہیں جس کے بچپن کا حساس دور مسلسل شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہا ہے اور اب اگر ہم کہیں روڑ پر ایکسیڈینٹ دیکھتے ہیں میری نظر میں تقصیر اس جوان کی نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی سسٹم کی ہے۔چونکہ جب تک یہ جوان باشعور ہوگا اس کے اعصاب کام کرنا چھوڑ چکے ہونگے یہ بلا جو ہمارے سروں پر آئی ہے وہ ہمارے تعلیمی سسٹم کی خرابی کے باعث آئی ہے اور ایسے ہم لوگ ترقی نہیں کرسکتے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آج ہمارے معاشرے کا ہر فرد اپنے بچوں کے مستقبل کو لیکر بہت پریشان ہے اور انسان کی اسی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تعلیمی شعبہ کے جاہل مافیاؤں نے پورے ملک میں ایسا جال بچھا رکھا ہے جس سے بچ پانا آسان کام نہیں ہے۔
بچوں کی تعلیم کے نام پر بڑے بڑے ادارے پیسہ اینٹھنے میں لگے ہوئے ہیں اور مجبور انسان کیا نہ کرتا وہ اپنا بہت بڑا سرمایہ ان اداروں کو ہنسی خوشی سونپ دیتا ہے لیکن پھر بھی عام انسان کو اپنے بچوں کی کارکردگی اور اسکولس کی فعالیت پر شک رہتا ہے۔
آج آپ نرسری کے بچوں کو ہی لے لیجئے ،ان کے بیگ کا وزن ان کے اپنے جسم کے بوجھ سے دوگنا ہوتا ہے ،ایک ۳ یا ۴ برس کے بچے کے پڑھنے کے لئے کئی ہزار کی کتابیں اور اسٹیشنری خریدی جاتی ہے جبکہ ماہر نفسیات کا ماننا ہے کہ اس عمر کے بچوں کو پڑھائی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے چونکہ پڑھنے کا مرحلہ فکر کرنے کے بعد کا ہے اور چونکہ بچہ میں فکر کرنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی تو وہ کیسے پڑھے گا۔پس اگر اسکول میں بچوں کے لئے کوئی اہم کام ہونا چاہیئے اور ٹیچرس  کو انہیں سکھانا چاہیئے تو وہ فکر کرنا اور ان کے سوچنے سمجھنے کی قوت کی پرورش ہے تاکہ بعد میں پڑھائی کا مرحلہ آسان ہوجائے۔لیکن ہمارے یہاں کے اسکولس میں سب کچھ اس کے الٹا ہوتا ہے۔ٹیچرس ہر روز آکر اس کے سامنے معلومات کا انبار لگا دیتے ہیں جسے وہ سمیٹ بھی نہیں پاتے اور یہ وہ سب اطلاعات ہوتی ہیں جو بے فائدہ ہوتی ہیں  جن کا اس کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
لہذا جہاں زمانہ ہم سے ہر شعبہ میں اصلاحات کا متقاضی ہے وہیں ہمیں  تعلیمی سسٹم میں بھی اصلاح کرنے کی طرف دعوت دیتا ہے۔آپ خود سوچئے ! کہ پرائیمری سیکشن میں بچوں کو کتابیں پڑھانے کے بجائے زندگی کے صحیح طور طریقوں سے آشنا کیا جائے اور عملاً اس پر کام کیا جائے اسے غور و فکر کرنے کا عادی بنایا جائے تاکہ جب وہ میڈل کلاسز میں پہونچے تو  اسے اپنے اچھے اور بُرے کے بارے میں پتہ ہو اور یونیورسٹی میں پہونچتے پہونچے وہ پختہ فکر اور بالغ النظر بن جائے ۔لیکن ہم اس کے برعکس عمل کرتے ہیں ہم پرائمری اسکول سے اس کے ذہن میں اطلاعات کا انبار انڈیلنا شروع کرتے ہیں اور ساتھ میں ٹینشن بھی دیتے ہیں بغیر اس کے اسے فکر کرنا سکھایا جائے۔
آج ہم ایک ایسی نسل سے روبرو ہیں جس کے بچپن کا حساس دور مسلسل شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہا ہے اور اب اگر ہم کہیں روڑ پر ایکسیڈینٹ دیکھتے ہیں میری نظر میں تقصیر اس جوان کی نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی سسٹم کی ہے۔
چونکہ جب تک یہ جوان باشعور ہوگا اس کے اعصاب کام کرنا چھوڑ چکے ہونگے یہ بلا جو ہمارے سروں پر آئی ہے وہ ہمارے تعلیمی سسٹم کی خرابی کے باعث آئی ہے اور ایسے ہم لوگ ترقی نہیں کرسکتے۔
اگر ہم اپنے ملک کو ایک ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتے ہیں تو تعلیمی شعبہ جات کو سیاسی دراندازیوں سے بچا کر رکھنا ہوگا اور اس کے بلند مدت اہداف معین کرنے ہونگے یعنی اگر حکومتیں بدلیں تو بدلیں تعلیمی سسٹم میں ترمیم نہ کی جائے۔البتہ بعض اصلاحات بہر حال ضروری ہوتی ہیں۔اور اس شعبہ کے بجٹ کو بھی دیگر شعبہ جات کے مقابل خصوصی مراعات حاصل ہوں لیکن افسوس! ہمارے تعلیمی شعبہ پر خرچ ہونے والی رقم کی مقدار دوسری ضرورتوں پر خرچ ہونے والی رقم سے بہت کم ہے۔میری نظر میں اگر کوئی ملک ترقی کرنا چاہتا ہے تو اس کی ساری توانائی اس کے تعلیمی سسٹم میں خرچ ہونا چاہیئے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11