Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196494
Published : 19/11/2018 19:14

جناب خدیجہ(س) کی نظر میں رسول خدا(ص) کا احترام

ممکن ہے کوئی شخص یہ گمان کرے کہ جناب خدیجہ سلام اللہ کا یہ ادب اور احترام اور بھی رسول خدا(ص) جیسے شوہر کے سامنے کوئی بڑی چیز نہیں ہے لیکن اگر تھوڑا غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جناب خدیجہ کا اپنے عزیز شوہر کا احترام ،اس احترام سے بالکل مختلف ہے جو ایک عام بیوی اپنے شوہر کا کرتی ہے۔چونکہ جناب خدیجہ(س) رسول خدا(ص) کو پہچانتی تھیں اور انہیں آپ کے مقام و مرتبہ کا کامل عرفان تھا۔

ولایت پورٹل: پیغمبر اکرم(ص) کی زوجہ نامدار بی بی جناب خدیجہ کبرٰی(س) کی مشترکہ زندگی میں ایسے مناظر مشاہدہ کئے جاسکتے ہیں جو آج کی خواتین کے لئے نمونہ ہوں چنانچہ جناب خدیجہ(س) اور رسول اکرم(ص) ایک دوسرے کا خاص احترام کرتے تھے۔
اور جناب خدیجہ(س) تو وہ خاتون ہیں کہ جنہوں  نے نہ صرف یہ کہ کبھی اپنی ثروت اور مال پر غرور نہیں کیا بلکہ نہایت متواضعانہ انداز میں اپنی اتنی کثیر دولت کو اپنے شوہر کے قدموں میں ڈال دیا  چنانچہ جب جناب خدیجہ(س)نے اپنا رشتہ رسول اسلام(ص) کے لئے بھیجا تو آنحضرت(ص) نے اس درخواست کے جواب میں ارشاد فرمایا:’’ یا ابنة عم أنت امرأة ذات مال و أنا فقیر لاأملک الاّ ما تجودین به علیّ و لیس مثلک من یرغب فی مثلی و أنا أطلب امرأة یکون حالها کحالی و مالها کمالی‘‘۔
اے میرے چچا کی بیٹی! تم ایک مالدار خاتون ہو اور میں ایک نادار انسان ہوں میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی سرمایہ نہیں ہے جو تم اپنی تجارت سے مجھے دیتی ہو،مجھ جیسے نادار انسان میں تم جیسی ثروت مند کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے،میں تو ایک ایسی خاتون سے شادی کرنے کا خواہاں ہوں جو مالی اعتبار سے میرے جیسی ہو۔
ملکہ شرف جناب خدیجہ(س) نے  یتیم عبد اللہ ،امین مکہ،حضرت محمد(ص) کے جواب میں جو جملہ کہا وہ تاریخ میں آج بھی محفوظ ہے:’’واللّه یا محمد ان کان مالک قلیلاً فمالی کثیر، و من یسمح لک بنفسه کیف لا یسمح لک بماله، و أنا و مالی و جواری و جمیع ما املک بین یدیک و فی حکمک لا امنعک منه شیئاً‘‘۔
یا محمد! خدا کی قسم اگر آپ کے پاس مال و دولت نہیں تو کیا ہوا؟ میرے پاس تو بہت زیادہ دولت ہے اور جو اپنے کو آپ کی خدمت کے لئے وقف کرنا چاہتی ہو اس کا مال کیونکر آپ پر نچھاور نہ ہوگا۔میں ،اور میرا سرمایہ،میرے غلام و کنیزیں،اور جو کچھ میرے پاس ہے وہ سب آپ کا ہے۔آپ اسے جس طرح اور جس جگہ چاہیں خرچ کریں میری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اور یہ کہتے کہتے بی بی کی آنکھوں میں آنسوں چھلکنے لگے اور یہ اشعار زبان پر جاری فرمائے:
واللّه ما هب نسیم الشمال
الاّ تذکرت لیالی الوصالی
ولا أضامن نحوکم بارق
الاّ توهمت لطیف الخیال
جور اللیالی خصّنی بالجفا
منکم و من یأمن جور اللیالی
رقوا و جودوا و اعطفو و ارحموا
لا بّد لی منکم علی کل حال(بحار الانوار،علامہ مجلسی، ج16، ص55)
ممکن ہے کوئی شخص یہ گمان کرے کہ جناب خدیجہ سلام اللہ کا یہ ادب اور احترام اور بھی رسول خدا(ص) جیسے شوہر کے سامنے کوئی بڑی چیز نہیں ہے لیکن اگر تھوڑا غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جناب خدیجہ کا اپنے عزیز شوہر کا احترام ،اس احترام سے بالکل مختلف ہے جو ایک عام بیوی اپنے شوہر کا کرتی ہے۔
چونکہ جناب خدیجہ(س) رسول خدا(ص) کو پہچانتی تھیں اور انہیں آپ کے مقام و مرتبہ کا کامل عرفان تھا اس وجہ سے آپ رسول خدا(ص) کا اتنا احترام کرتی تھیں۔
اور خود جیسا کہ ہم نے روایت بیان کی ہے کہ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا صرف یہی نہیں کہ شادی کے بعد آپ کا احترام کرتی تھیں بلکہ رسول اللہ(ص) کے تئیں آپ کا احترام، اس وقت بھی قابل ملاحظہ ہے جب آپ نے یتیم عبداللہ کو تجارتی قافلے کا امین بناکر بھیجا اور آپ نے اپنے دونوں غلاموں میسرہ اور ناصح کو حکم دیا:’’اعلما قد ارسلت الیکما امیناً علی اموالی و انه امیر قریش و سیّدها، فلا یدٌ علی یده، فان باع لایمنع، و ان ترک لا یؤمر، فلیکن کلامکما بلطف و أدب و لا یعلوا کلامکما علی کلامه‘‘۔تم دونوں جان لو کہ میں نے اپنے اموال پر ایک امین بنا کر تمہارے پاس بھیجا ہے کہ جو قریش کا امیر و سردار ہے ،کسی کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے بلند نہیں ہے اگر وہ کسی سامان کے فروخت کرنے کا ارادہ کریں تو کسی کو انہیں منع کرنے کا حق نہیں ہے اور اگر کسی چیز کے فروخت نہ کرنے کا فیصلہ کریں تو کسی کو یہ حق نہیں پہونچتا انہیں حکم دے اور تم دونوں کا فرض ہے کہ ان کے ساتھ نہایت احترام و ادب کے ساتھ پیش آنا اور ان کے کلام پر اپنی بات کو ترجیح نہ دینا۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11