Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196725
Published : 1/12/2018 15:10

جب معصوم 14 ہیں تو معصومہ قم(ص) کو معصومہ کہنے کی وجہ؟

حضرت معصومہ قم(س) کو اس معنٰی میں معصومہ نہیں کہا جاتا جس معنٰی میں دیگر معصومین اور انبیاء(ع) کو کہا جاتا ہے۔لیکن آپ کو معصومہ کہنے کا اصلی سبب یہ ہے کہ آپ معنوی کمالات اور روحانی درجات کے اعتبار سے بڑے بلند مقام و منزلت پر فائز تھیں اس طرح کے آپ کی زیارت کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے:سعید بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو الحسن امام رضا(ع) سے آپ کی ہمشیرہ حضرت فاطمہ بنت موسٰی ابن جعفر(ع) کے متعلق دریافت کیا،تو آپ نے فرمایا:جو ان کی زیارت کرے گا اس کے لئے جنت ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم شیعیان علی(ع) کا عقیدہ ہے کہ اس امت میں 14 ہستیاں معصوم ہیں جنہیں اللہ نے منتخب کیا ہے تاکہ امت کی ہدایت کرسکیں۔
اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ معصوم اس ذات کو کہتے ہیں جو ہر طرح کی ظاہری و معنوی پلیدی اور گناہ سے دور ہو۔چنانچہ جب ہمارے اور آپ کے چھٹے امام حضرت صادق آل محمد(ع) سے معصوم کی تعریف کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:’’ “المعصوم؛ هو الممتنع بالله من جمیع المحارم،و قد قال الله تبارک و تعالی: و من یعتصم بالله فقد هدی الی صراط مستقیم‘‘۔معصوم وہ ہے جو اللہ کی مدد سے تمام گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اللہ تعالٰی معصوم کی شأن و منزلت کے لئے فرماتا ہے: اور جو خدا سے وابستہ ہوجائے سمجھو کہ اسے سیدھے راستہ کی ہدایت کردی گئی۔( شیخ صدوق، معانی الاخبار، ص ۱۳۲، انتشارات جامعه مدرسین قم، ۱۳۶۱ ھ)
اب ہمارے بعض قارئین کی ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ جب دین نصوص کے تناظر میں معصومین(ع) کی تعداد 14 ہیں تو پھر ہم حضرت معصومہ قم(س) کو معصومہ کیوں کہتے ہیں؟کیا حضرت معصومہ قم(س) کو معصومہ کہنے کے سلسلہ میں ہمارے پاس کوئی معتبر سند یا روایت موجود ہے؟
اس سوال کا جواب:
حضرت معصومہ قم(س) کا اصلی نام اپنی جدہ سیدہ نساء العالمین(س) کے نام پر فاطمہ ہے،اور تاریخ اور روایات کی معتبر کتابوں میں بھی بی بی کو فاطمہ بنت موسٰی ابن جعفر(ع) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔( شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا علیه السلام، ج ‏۲، ص ۲۶۷، نشر جهان، تهران، چاپ اول، ۱۳۷۸ ھ)
لیکن سینکڑوں برس سے یہ مقدس بی بی اسی نام سے اپنے چاہنے والوں کے درمیان معروف و مشہور ہے۔( مجلسی، بحار الانوار، ج ۱۰۶، ص ۱۶۸٫) اور ایران میں آپ کو اسی نام یعنی’’معصومہ‘‘ سے لوگ پہچانتے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ: حضرت معصومہ قم(س) کو اس معنٰی میں معصومہ نہیں کہا جاتا جس معنٰی میں دیگر معصومین اور انبیاء(ع) کو کہا جاتا ہے۔لیکن آپ کو معصومہ کہنے کا اصلی سبب یہ ہے کہ آپ معنوی کمالات اور روحانی درجات کے اعتبار سے بڑے بلند مقام و منزلت پر فائز تھیں اس طرح کے آپ کی زیارت کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے:’’ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا الْحَسَنِ الرِّضَا (ع) عَنْ زِیَارَهِ فَاطِمَهَ بِنْتِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ (ع) بِقُمَّ فَقَالَ مَنْ زَارَهَا فَلَهُ الْجَنَّه‘‘۔(عاملى، شیخ حر، وسائل‏الشیعه، ج ۱۴، ص ۵۷۶، ح ۹۴، مؤسسه آل البیت علیهم‏السلام، قم، ۱۴۰۹ هجرى)سعید بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو الحسن امام رضا(ع) سے آپ کی ہمشیرہ حضرت فاطمہ بنت موسٰی ابن جعفر(ع) کے متعلق دریافت کیا،تو آپ نے فرمایا:جو ان کی زیارت کرے گا اس کے لئے جنت ہے۔
تیسرا یہ نکتہ بھی قابل ملاحظہ ہے کہ عصمت ایک نسبی امر ہے اور حضرت معصومہ قم(س) بھی عصمت کے ایک ۔نہ آئمہ(ع) کے برابر۔ درجہ پر فائز ہیں چونکہ اس بی بی کی اگر سوانح حیات کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں گناہ تو بڑی چیز کہیں ترک اولٰی کا بھی تصور نہیں ملتا اور اس معںٰی میں عصمت، حضرت معصومہ قم(س)کے علاوہ دیگر فرزندان آئمہ(ع) کے لئے بھی ثابت تھا جیسا کہ حضرت ابو الفضل العباس(س) جناب سید عبد العظیم حسنی(ع) کہ جن کا روضہ شہر ری میں ہے اور جن کی زیارت کے ثواب کو سید الشہداء(ع) کے ثواب کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13