Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196733
Published : 1/12/2018 18:22

محنت و وقت شناسی؛تعلیمی میدان میں کامیابی کی کنجیاں

ظاہری طور پر اپنی زندگی کو کامیاب بنانے اور علم کے اعلیٰ درجات تک پہونچنے کے لئے محنت کرنا ایک ناگزیر امر ہے اور اگر انسان اپنے وقت کو منظم کرلینے کے ساتھ ساتھ اپنے مقصد پر محنت بھی کرلے تو کامیابی اس کے قدم ضرور چومے گی البتہ یہ پورا سفر توفیق الہی اور رضائے الہی کے سائے میں جاری وہ ساری رکھا جائے چونکہ ہمیں قرآن مجید کے فرامین کی روشنی میں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ کسی کی محنت کو نہیں رکھتا اور اس نے انسان کو بااختیار بنایا ہے لہذا ہمیں محنت کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیئے۔

ولایت پورٹل: وہ طالبعلم کہ جو اپنی پڑھائی میں مشغول ہیں،کسی کالج یا یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں وہ اسی وقت اپنے روشن مستقبل کے تئیں پر امید ہوسکتے ہیں کہ ان کی زندگی کا ہر لمحہ دقیق حساب و کتاب کے تحت منظم ہو،مثال کے طور پر،ایک طالب علم کی زندگی میں یہ معین ہو کہ اسے صبح میں کتنے بجے اٹھنا ہے،نماز کب پڑھنی ہے،ناشتہ کب کرنا ہے،کلاس میں کب حاضر ہونا ہے،ظہر کے بعد کیا کرناہے وغیرہ وغیرہ۔
دوسری اہم بات یہ کہ اسے اپنے ہر دن کے سبق کو اسی دن پڑھنا و سمجھنا ہے،کلاس میں جانے سے پہلے ایک مربوطہ سبق کا ایک سرسری مطالعہ ضرور کرنا چاہیئے تاکہ جب وہ کلاس میں حاضر ہو اور استاد اس کے سامنے آج کے نئے سبق کے بارے میں بتا رہا ہو تو حد اقل ابتدائی معلومات اس کے پاس ہونا چاہیئے۔گھر پہونچ کر جو کالج یا مدرسہ میں پڑھایا گیا ہے اسے ضرور دوہرائے،اگر اس کے سبق میں کچھ چیزیں اس حل نہ ہورہی ہوں یا سخت ہوں تو انہیں انڈر لائن کرے تاکہ اگلے دن اپنے کسی ہوشیار ساتھی یا کلاس میں استاد سے دریافت کرسکے۔
پس ایک طالب علم اسی وقت علمی میدان میں ترقی کرسکتا ہے اور آگے بڑھ سکتا ہے جب وہ سوال کرنے میں جھجک اور شرم محسوس نہ کرے اور اگر کوئی طالب علم اپنے استاد یا اپنے کلاس فیلو سے سوال کرنے اور سمجھنے کے معاملہ میں سُست ہو یا شرم محسوس کرے تو وہ کبھی علم کے اعلٰی مراتب و درجات تک نہیں پہونچ سکتا۔
اگر کسی طالب علم نے اس نکتہ پر توجہ کرلی اور اسے گرہ سے باندھ لیا تو وہ اپنے سبق کو عمیق و دقیق طور پر سمجھنے لگے گا اور امتحان کے وقت بھی اسے چنداں دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ صرف ایک بار خاص عناوین پر طائرانہ نظر ڈالنے سے پورا مسئلہ اس کے لئے واضح ہوجائے گا چنانچہ حدیث میں آیا ہے:’’السؤال مفتاح المعرفة‘‘۔سوال کرنا معرفت اور علم کی کنجی ہے۔
جس طرح خزانہ تک پہونچنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ انسان پہلے اس کے قفل شدہ دروازوں کو کھولے تب اس کی رسائی خزانے تک ہوگی اسی طرح اگر طالب علم کسی علم یا(Subject) میں مہارت کا خواہاں ہے اسے سوال کرنے کی عادت کو اپنانا ہوگا۔ البتہ ہماری سوال سے مراد یہ نہیں ہے کہ فالتوں اور فضول میں استاد کے سامنے سوالات کا انبار لگا دیا جائے بلکہ استاد سے صرف انہیں مسائل کے متعلق سوال کرے جو اسے سمجھ میں نہیں آئے ہیں۔
طالب علم کو اپنا وقت منظم کرتے وقت ان سب چیزوں کا بھی خیال رکھنا چاہیئے کہ انسان کو اپنے اصلی مقاصد پر توجہ کرتے ہوئے اکثر وقت اسی کے لئے صرف کرنا چاہیئے۔
البتہ صرف یہی نہیں کہ ہمیں پڑھائی کے لئے ہی اپنے وقت کا حساب کتاب کرنا چاہیئے بلکہ ہمارے ہوری زندگی کے وقت کا حساب کتاب دقیق ہونا چاہیئے۔چونکہ زندگی وہ سرمایہ ہے جو ہر آن ہم سے کم ہوتا جارہا ہے اگر ہم نے اس کا صحیح استعمال نہ کیا تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہونگے۔اگر کوئی طالب علم مذکورہ طریقہ سے محنت کرلے تو مجھے نہیں لگتا کہ اس کا مستقبل روشن نہ ہو۔
البتہ ظاہری طور پر اپنی زندگی کو کامیاب بنانے اور علم کے اعلیٰ درجات تک پہونچنے کے لئے محنت کرنا ایک ناگزیر امر ہے اور اگر انسان اپنے وقت کو منظم کرلینے کے ساتھ ساتھ اپنے مقصد پر محنت بھی کرلے تو کامیابی اس کے قدم ضرور چومے گی البتہ یہ پورا سفر توفیق الہی اور رضائے الہی کے سائے میں جاری وہ ساری رکھا جائے چونکہ ہمیں قرآن مجید کے فرامین کی روشنی میں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ کسی کی محنت کو نہیں رکھتا اور اس نے انسان کو بااختیار بنایا ہے لہذا ہمیں محنت کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیئے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13