Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196749
Published : 2/12/2018 14:6

حضرت معصومہ قم(س) نے ساری دنیائے عرب کو چھوڑ کر ہجرت کے لئے ایران کا انتخاب کیوں کیا؟

اللہ کا کوئی کام مصلحت سے خالی نہیں ہوتا حضرت معصومہ سلام اللہ کا ایران آنا صرف اپنی جان کی حفاظت کی خاطر نہیں تھا بلکہ ایک الہی منصوبہ آپ کے وجود کے سبب مکمل ہونا تھا لہذا یہ اسی کی ایک کڑی تھی۔جبکہ کچھ مورخین کا ماننا ہے کہ چونکہ حضرت معصومہ قم(س) اور امام رضا علیہ السلام دونوں ایک ہی ماں کے بطن سے تھے لہذا بھائی کی بے پناہ محبت آپ کو ایران کھینچ لائی۔

ولایت پورٹل: مورخین نے حضرت فاطمہ معصومہ(س) کے ایران تشریف لانے کے کئی وجوہات بیان کئے ہیں کچھ مورخین کا کہنا ہے کہ آپ ایران اس لئے تشریف لائیں چونکہ ایرانی قوم اولاد علی(ع) سے محبت کرتی تھی،کچھ مورخین کا خیال ہے کہ چونکہ جب مدینہ میں  خاندان رسول(ص) کا جینا دشوار کردیا گیا تھا  تو انہوں نے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرنا شروع کردی چنانچہ ان میں سے کچھ بزرگ ایران بھی تشریف لائے،کچھ اور کہنا ہے کہ جب ایران کے لوگوں نے امام علی(ع) کی ولایت کو قبول کرتے ہوئے اپنی جان مال کا نذرانہ پیش کرنے سے دریغ نہ کیا تو اولاد علی(ع) نے بھی تبلیغ اسلام کے لئے اس خطہ کا انتخاب کیا۔
ہجرت کے راز
اللہ کا کوئی کام مصلحت سے خالی نہیں ہوتا حضرت معصومہ سلام اللہ کا ایران آنا صرف اپنی جان کی حفاظت کی خاطر نہیں تھا بلکہ ایک الہی منصوبہ آپ کے وجود کے سبب مکمل ہونا تھا لہذا یہ اسی کی ایک کڑی تھی۔
جبکہ کچھ مورخین کا ماننا ہے کہ چونکہ حضرت معصومہ قم(س) اور امام رضا علیہ السلام دونوں ایک ہی ماں کے بطن سے تھے لہذا بھائی کی بے پناہ محبت آپ کو ایران کھینچ لائی۔
بے شک اسلام میں محبت ، جذبات اور احساسات کی بہت اہمیت ہے لیکن پھر بھی آپ کی اس ہجرت کے مقصد کو صرف جذبات و احساسات میں خلاصہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ آپ کی ہجرت دینی تعلیمات کو عام کرنے، لوگوں کو اسلام کے مقصد سے روشناس کروانے کے لئے نیز اس وقت کے ظالم و جابر حکمرانوں کے خلاف آپ کی یہ ہجرت آپ کے صریحی موقف کی غماز تھی اگرچہ اولاد علی(ع) کا باقی و زندہ رہنا بھی اس ہجرت کے سبب محقق ہوا تھا چنانچہ ذیل میں مورخین کے کچھ اقوال پیش خدمت ہیں:
تاریخ مذہبی قم کے مصنف نے علویوں کے ایران آنے کے تین وجوہات کا تذکرہ کیا ہے:
۱۔قم امام علی(ع) کے چاہنے والوں کی بستی تھی اور یہاں امام علی(ع) کے خاندان کے لئے امن و امان تھی جبکہ دوسرے بہت سے شہروں میں اولاد علی(ع) بڑی مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔اور حالات اتنے خراب تھے کہ محض کسی کا یہ مشہور ہوجانا کہ یہ علی(ع) کا پیروکار ہے تو اس کی موت کے لئے یہ سند ہی کافی تھی چنانچہ ان حالات کی بنا پر ایران کو اپنی ہجرت کا مرکز قرار دینے کو ترجیح دی گئی۔
2- قم کی سرزمین کو اہل بیت (ع) نے آل محمد کے لئے پناہ گاہ جیسے الفاط سے یاد کیا ہے اور اس راز کو علوی اور قم کے رہنے والے جانتے تھے اس لئے علویوں نے قم کا سفر کیا ۔
۳ پورا علوی خاندان دوسری اور تیسری صدی ہجری میں بنی امیہ اور بنی عباس کے مظالم و ستم کا شکار تھا اور کچھ نام نہاد خلفاء جیسا کہ منصور دوانقی، اور متوکل عباسی جیسوں نے تو امام علی(ع) کے خاندان سے دشمنی کی ساری حدیں ہی پار کردی تھیں اسی لئے جب بھی آل علی(ع) کو موقع ملتا تھا وہ ہجرت کرجاتے تھے تاکہ جان بھی محفوظ بھی رہ سکے اور ساتھ ہی اہل بیت(ع) کی وہ تعلمات جنہوں بنی امیہ و بنی عباس لوگوں تک نہیں پہونچنے دے رہی تھی ،وہ تعلیمات لوگوں تک پہونچائی جاسکے۔
ایرانی شیعوں کے عقیدے کی مضبوطی
4.ایرانی لوگوں نے توحید اور نبوت کا پیغام سن کر اس پر لبیک کہا اور پھر پورے پورے شہر اسلام قبول کرنے لگے اور اسلام کو نقصان پہونچانے والوں کے خلاف بہت ساری جنگ بھی کی ، ان کا عقیدہ اتنا مضبوط تھا کہ اس کے لئے وہ اپنی جان اور مال کو قربان کردینے کے لئے تیار بھی رہتے تھے جب آل علی(ع) نے ان کی عقیدت و محبت دیکھی تو اسی کی خاطر ان کے شہروں کی طرف ہجرت اختیار کی۔
ایران کی تاریخ اور وہاں کی آب و ہوا
۵۔ہمیشہ سے تاریخ میں ایران اور اس کے مشہور شہر قم کی ایک خاص تاریخ رہی ہے اور اس مقدس شہر کے سلسلہ میں معصومین(ع) کی احادیث بھی موجود ہے کہ جن کو تمام عرب والوں نے ان حضرات زبان اقدس سے بارہا سن رکھا تھا دوسرے یہ کہ ایران کی آب و ہوا زندگی گذارنے کے لئے مناسب تھی شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت معصومہ(ص) اور دیگر آئمہ(ع) کی بہت سی اولادیں قم اور ایران کے دیگر شہر تشریف لائی۔
امام رضا علیہ السلام کی ہجرت
۶۔ایران کی طرف ہجرت کرنے کے پیچھے ایک اہم راز آپ کے برادر بزرگوار حضرت امام رضا اعلیہ السلام کی ہجرت بھی تھی اور امام رضا(ع) چونکہ خاندان اہل بیت(ع) سے رسول خدا(ص) کے آٹھویں جانشین تھے اس لئے ان کے چاہنے والے ان سے ملاقات کے لئے ایران آیا کرتے تھے تاکہ دینی اور دنیاوی مسائل میں آپ سے ہدایت حاصل کرسکیں۔
جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا کہ قم کی طرف حضرت معصومہ(س) کی ہجرت کے سلسلہ میں مورخین نے کئی وجوہات بیان کی ہیں لیکن ایک چیز جو یقینی ہے وہ یہ کہ سن ۲۰۰ ہجری میں امام رضا علیہ السلام کو وقت کے ظالم خلیفہ مامون عباسی نے مدینہ چھوڑنے پر مجبور کیا اور پھر آپ کے سامنے ولیعہد بننے کی پیشکش کی گئی جسے امام نے رد کردیا لیکن جب قتل کی دھمکی دی تو مجبوراً آپ نے ولیعہدی کو قبول تو کیا لیکن آپ حکومتی مسائل میں کوئی دخالت نہیں کرتے تھے جب یہ خبر مدینہ میں پھیلی تو امام کے چاہنے والے آپ سے ملنے کے لئے جوق در جوق ایران آنے لگے اور ان میں سے ایک حضرت معصومہ(ص) بھی تھیں جو اپنے بھائی سے ملاقات کرنے کے لئے اور دینی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے ایران تشریف لائیں۔
دوسری ایک روایت ایسی بھی ملتی ہے کہ جب امام رضا علیہ السلام مدینہ سے نکلنے تو آپ نے اپنی شہادت کی خبر دی تھی اور امام اس طرح لوگوں سے گلے مل رہے تھے جیسے مدینہ واپسی نہیں ہوگی،اور یہی بات وجہ بنی کہ امام رضا علیہ السلام کے بعد حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے بھی ایران کی طرف ہجرت فرمائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
۱۔تاریخ قم، حسن ابن محمد بن حسن صائب ابن مالک اشعری قمی
۲۔تاریخ مذہبی قم، علی اصغر، فقیہی
۳۔بحار الانوار ،علامہ مجلسی
۴۔حضرت معصومہ(س) ،فاطمہ دوم،محمد محمدی اشتہاردی

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12