Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196751
Published : 2/12/2018 15:13

تنگ نظری؛ انسانی معاشرہ کے لئے ایک بڑی آفت

تنگ نظری، اور دوسروں کو اپنے سے چھوٹا گمان کرنا انسانی معاشرہ کی سب سے بڑی آفت ہے اور اگر کسی انسان میں تنگ نظری کا جرثومہ پروان چڑھ جائے یہ ایک مہلک بیماری اور مصیبت ہے اور طول تاریخ میں بشریت نے اس کا خمیازہ بھگتا ہے، اور بہت سی جنگیں اسی تنگ نظری کے سبب وجود میں آئی ہیں۔


ولایت پورٹل: تنگ نظری، اور دوسروں کو اپنے سے چھوٹا گمان کرنا انسانی معاشرہ کی سب سے بڑی آفت ہے اور اگر کسی انسان میں تنگ نظری کا جرثومہ پروان چڑھ جائے یہ ایک مہلک بیماری اور مصیبت ہے اور طول تاریخ میں بشریت نے اس کا خمیازہ بھگتا ہے، اور بہت سی جنگیں اسی تنگ نظری کے سبب وجود میں آئی ہیں۔
Dogmatism اور خود محوری در حقیقت انسان کا سب سے پہلا دشمن ہے جو انسانی معاشرہ کو انحطاط اور تنزل کی کھائی کی طرف دھکیل دیتی ہے،انسان کو مسلسل تضاد اور ایک ختم نہ ہونے والی جنگ میں مبتلاء کردیتی ہے غرض! اس آفت کو ام الفساد کا نام دیا جاسکتا ہے۔
چونکہ خود محوری اور Dogmatism کے شکم سے ہی خود مختاری سیاسی و اقتصادی بھی جنم لیتی ہے،اور اسی شوم و بد موجود کے اندر سے ہی خشک مذہبی تعصب اور اجتماعی طبقہ بندی وجود پاتی ہے اور اگر اس آفت کی دقیق طور پر موشگافی کی جائے تو سب سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ یہ سب سے پہلا سبب ہے کہ جو کسی معاشرہ کو بیچارہ بناکر اسے ترقی و کمال کے راستے سے منحرف کردیتا ہے۔
تنگ نظری کسی بھی شعبہ میں پائی جائے بُری ہے،چاہے وہ مذہبی امور میں ہو یا سیاسی و اقتصادی۔اس دور میں سیاسی تنگ نظری کی مثال امریکہ اور دیگر سامراجی ممالک ہیں چونکہ ان ممالک کو یہ برداشت نہیں کہ عالمی سیاست میں ان کے علاوہ کسی اور کے راگ الاپے جائیں۔
اسی طرح اقتصادی تنگ نظری کا سب سے بڑا مصداق برطانوی سامراج تھا کہ جس نے سابق میں برطانیہ نے تقریباً ۸۰ ممالک سے زیادہ پر حکومت کی اور وہاں کی ثروت کو بے تحاشا لوٹا،اور مذہبی تنگ نظری کی مثال صدر اول اسلام میں خوارج کی دی جاسکتی ہے اور یہ خصوصیت خوارج کی رہی ہے۔
البتہ آج بھی یہ فکر(تنگ نظری) اسلامی معاشرہ میں پائی جاتی ہے اگرچہ ظاہری طور پر خوارج کے نعرے ، ان کے شور شرابے اور ان کی ظاہری پہچان ختم ہوگئی لیکن ان کے مذہب کی روح کم و بیش بعض افراد اور بعض طبقات میں ابھی زندہ ہے۔
کچھ خشک مغز متقیوں کو آج بھی دیکھتے ہیں کہ وہ صرف اپنے کو ہی سب سے پکا سچا مسلمان سمجھتے ہیں اور باقی دیگر مسلمانوں کو الحاد و کفر کی نظر سے دیکھتے ہیں گویا ان کی نظر میں اسلام و ایمان کا دائرہ بہت ہی چھوٹا اور محدود ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10