Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196757
Published : 2/12/2018 17:20

مُوحد و غیر مُوحد کی زندگی کا بنیادی فرق

انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی اس کے طرز تفکر اور عقیدہ کی غماز ہوتی ہے،ظاہر سی بات ہے کہ عقیدہ ،نظریہ اور ائیڈیالوجی کے طور پر جو شخص موحد ہے، خدا اور روز قیامت پر عقیدہ رکھتا ہے اس کی عملی زندگی ہر حال میں ان افراد سے مختلف ہوتی ہے جو عقیدہ کے لحاظ سے موحد نہ ہوں۔


ولایت پورٹل: انسان کا اخلاق، کردار اور اس کی رفتار اور دیگر لوگوں کے ساتھ اس کا برتاؤ اور تعلقات اس کے افکار و عقائد کے تابع ہوتے ہیں،بہ عبارت دیگر؛ انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی اس کے طرز تفکر اور عقیدہ کی غماز ہوتی ہے،ظاہر سی بات ہے کہ عقیدہ ،نظریہ اور ائیڈیالوجی کے طور پر جو شخص موحد ہے، خدا اور روز قیامت پر عقیدہ رکھتا ہے اس کی عملی زندگی ہر حال میں ان افراد سے مختلف ہوتی ہے جو عقیدہ کے لحاظ سے موحد نہ ہوں،چونکہ ہر انسان کے لئے سب سے پہلے جو چیز سامنے آتی ہے وہ اس کی آئیڈیالوجی اور اس کا نظریاتی مکتب ہے،اس کا خدا پر عقیدہ یا خدا پر عقیدہ نہ رکھنا ہے۔
انسان کی زندگی ،زندگی کا مقصد اور حیات کا فلسفہ،اور طرز زندگی ،دوسروں کے ساتھ برتاؤ اور تعلقات ان سب کا دارومدار انسان کے نظریہ اور اس کے عقیدہ سے وابستہ ہوتا ہے۔
چونکہ اللہ کی توحید پر عقیدہ رکھنے والے کا کوئی قدم،بے جا نہیں اٹھتا،بلکہ اس کے سامنے ہر آن عالم غیب اور قیامت رہتا ہے اور وہ اپنے تمام اعمال و رفتار پر خدا کو حاضر  و ناظر جانتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم  ہوتا ہے کہ اگر میں نے دوسروں کے ساتھ غلط رویہ اختیار کیا یا ان کے ساتھ اس کا برتاؤ مناسب نہ ہوا تو مجھے قیامت کے دن اس کا حساب کتاب دینا ہوگا۔لیکن وہ شخص کہ نہ عقیدہ توحید جس کا مستحکم ہو،نہ قیامت پر یقین رکھتا ہو تو وہ دوسروں کے ساتھ تعلقات نبھانے میں اس طرح عزم راسخ کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔
جو شخص اللہ اور اس کی توحید پر عقیدہ رکھتا ہے وہ فساد و فحشا، حلال و حرام، واجب و مستحب و مکروہ جیسے امور سے واقف ہوتا ہے۔لیکن جس کا عقیدہ توحید مستحکم نہ ہو وہ وہ ان سب امور کی رعایت نہی کرسکتا۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13