Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196801
Published : 4/12/2018 15:15

امام زمانہ(عج) کے ناصرین 313 ؛جبکہ دنیا میں لاکھوں مؤمنین آباد؟

کُتب احادیث میں پہلے گروہ کے متعلق کہ جو 313 افراد و جانثاروں پر مشتمل ہوگا اس تعداد میں ہی کیوں محدود ہے؟ اس کی کوئی خاص وجہ نہیں ملتی فقط جو تشبیہ یا تمثیل روایات میں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت حجت(عج) کے ان اصحاب کی تعداد جنگ بدر میں موجود مجاہدین کے جتنی ہوگی۔تاکہ ظہور حضرت حجت(عج) میں صدر اول کے مجاہدین کی قربانیوں کی یاد بھی تازہ رہے چونکہ جنگ بدر ہی ایک ایسی جنگ تھی جو مسلمانوں نے بڑی بے سر و سامانی کے عالم میں لڑی تھی جن کی امید اور اعتماد صرف اللہ کی ذات تھی اور صرف ایمانی قوت کے سہارے معرکہ جنگ میں داخل ہوئے تھے اور ان کا مقصد صرف اسلام کی حفاظت اور پرچم توحید کی سربلندی تھی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اور حضرت حجت ابن الحسن العسکری(عج) کا شدت سے انتظار کرنے والوں کو اس امر پر توجہ دینا بھی ضروری ہے کہ آپ(عج) کے اصحاب کی تعداد کو صرف ۳۱۳ افراد میں محدود کردینا صحیح نہیں ہے۔ جبکہ آج اگر حضرت(عج) کا ظہور ہوجائے تو دنیا میں کروڑوں شیعہ اور آپ کے پیروکار بستے ہیں تو کیا یہ اتنی بڑی تعداد میں انتظار کرنے والے لوگ محروم رہ جائیں گے؟
اس سوال کا جواب پانے کے لئے یہ بات ذہن نشین کرلینا ضروری ہے کہ حضرت امام زمانہ (عج) کے تمام اصحاب و پیروکار ۳ الک الگ گروہوں پر مشتمل ہونگے:
1۔313 افراد والا گروہ ان خاص افراد پر مشتمل ہوگا جو آپ کے خاص کمانڈر اور لشکر کے سردار و سپہ سالار ہونگے اور ان کا رابطہ امام سے بہت گہرا ہوگا۔لہذا یہ ایک طبیعی امر ہے کہ کسی بھی فوج میں کمانڈر اور سپہ سالاروں کی تعداد تھوڑی ہی ہوتی ہے اگرچہ یہ امر بھی قابل ملاحظہ ہے کہ جس فوج میں 313 سپہ سالار ہوں اس میں لشکریوں کی تعداد کتنی بڑی ہوگی!
اور جس امام کا لشکر اتنا عظیم ہو تو اس کی رعایا کتنی وسیع زمین میں پھیلی ہوگی۔پس یہ تعداد حضرت کے ان انصار کی ہے جو بالکل حضرت کے قریبی ہونگے۔
2۔دوسرا گروہ ایسے لشکر پر مشتمل ہوگا جو آپ کا ہراول دستہ شمار ہوگا اور اس کی تعداد 10 ہزار تک ملتی ہے۔
3۔تیسرے گروہ میں عام مؤمنین ہونگے جو بہت بڑی تعداد میں ہونگے۔
البتہ کُتب احادیث میں پہلے گروہ کے متعلق کہ جو 313 افراد و جانثاروں پر مشتمل ہوگا اس تعداد میں ہی کیوں محدود ہے؟ اس کی کوئی خاص وجہ نہیں ملتی فقط جو تشبیہ یا تمثیل روایات میں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت حجت(عج) کے ان اصحاب کی تعداد جنگ بدر میں موجود مجاہدین کے جتنی ہوگی۔تاکہ ظہور حضرت حجت(عج) میں صدر اول کے مجاہدین کی قربانیوں کی یاد بھی تازہ رہے چونکہ جنگ بدر ہی ایک ایسی جنگ تھی جو مسلمانوں نے بڑی بے سر و سامانی کے عالم میں لڑی تھی جن کی امید اور اعتماد صرف اللہ کی ذات تھی اور صرف ایمانی قوت کے سہارے معرکہ جنگ میں داخل ہوئے  تھے اور ان کا مقصد صرف اسلام کی حفاظت اور پرچم توحید کی سربلندی تھی۔( کتاب آفتاب مهر؛ پرسش ها و پاسخ های مهدوی)
اللہ نے بھی اہل بدر کی خاص طور پر نصرت فرمائی چنانچہ سورہ مبارکہ انفال کی ابتدائی آیات میں اس امر کی طرف اشارہ ملتا ہے۔یہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں مسلمانوں کے ہر قبیلے کے لوگ شریک تھے،اور اس جنگ میں شریک ہونے والے سپاہیوں کے درمیان نوجوانوں سے لیکر ضعیف العمر تک ہر سن کے افراد بھی شامل تھے آخرکار مسلمانوں کو قلت تعداد کے باوجود اس جنگ میں کامیابی ملی اور مکہ کی فوج کے کئی مشرک و کافر سردار تہہ تیغ کردیئے گئے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13