Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196809
Published : 4/12/2018 17:48

صلح حسنی(ع) کے فراموش پہلو

ہم لوگوں کو اگر امام حسن(ع) کے سچے مُحب اور پیروکار ہونے کا دعویٰ ہے تو ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ جگہ کہ جہاں ہماری جان،مال،آبرو، دنیاوی منصب کو خطرہ لاحق ہوجائے تو ہم فرمانبردار ہی رہیں ایسا نہ ہو کہ اگر ہماری جان، مال، یا منصب کو خطرہ لاحق ہوجائے تو ہم اپنا رنگ تبدیل کردیں اور نتیجے میں وقت کا امام تنہا رہ جائے۔ہم لوگوں کا دشمن ہماری تاریخ کو خوب اچھی طرح جانتا ہے اور اس سے مسلسل سبق لینے کے فراق میں ہے لیکن ہم اپنی تاریخ کو بھول بیٹھے ہیں۔

ولایت پورٹل: کسی بھی تاریخی واقعہ اور حادثہ کی تحقیق کرنے کا سب سے اہم فائدہ اور اثر اس سے عبرت حاصل کرنا ہوتا ہے لہذا اس پہلو سے صلح امام حسن(ع) کا بھی مطالعہ اور اس کے بارے میں تحقیق کرنا چاہیئے تاکہ اس میں نہفتہ تمام عبرتیں اس سے اخذ کی جاسکے ورنہ اگر یہ فائدہ اس میں تلاش نہ کیا جائے اور اس سے سبق حاصل نہ کیا جائے تو یہ واقعہ ہمارے کسی کام نہیں آسکے گا اور یہ واقعہ صرف سن ۴۱ ہجری میں محدود ہوکر رہ جائے گا۔
چنانچہ امام حسن(ع) کی صلح خود آپ ہی کی طرح نہایت مظلوم واقع ہوئی ہے چنانچہ اس واقعہ پر جس طرح علمی حوالہ سے کام نہیں ہوا اسی طرح سیاسی اور اجتماعی نقطہ نگاہ سے بھی اسے نظر انداز کردیا گیا گویا ایک طریقہ سے ہر ایک شعبے والوں کی طرف سے اس تاریخ کے اہم واقعہ کے ساتھ سوتیلا پن برتا گیا ہے۔
شاید بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں امام حسن(ع) کی صلح کے متعلق سب سے پہلی چیز جو آتی ہے وہ یہ ہے کہ(نعوذ باللہ) اس کا سارا کریڈیٹ معاویہ بن ابو سفیان کو دیدیتے ہیں اور یہ تعبیر استعمال کی جاتی ہے کہ کیوں امام حسن(ع) نے اپنے برادر خرد امام حسین(ع) کی طرح اقدام جنگ نہیں کیا؟
قارئین کرام! امام حسن(ع) کی صلح کے متعلق یہ تصور بالکل غلط  اور نادرست ہے۔
اگر صلح امام حسن(ع) کے بارے میں تحقیق کی جائے تو یہ بات سامنے آئی گی شاید آج بھی ہمارے سامنے ایسے حالات ہوں اور اگر ہم نے ان شرائط اور حالات سے سبق نہ لیا تو درحقیقت اس میں اسلام اور مسلمانوں کا بہت بڑا خسارہ ہوسکتا ہے؟
اگر ہم تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا ۔اگرچہ تمام آئمہ(ع) نور واحد ہیں اور ہر ایک کے عمل کو کسی صورت بھی سُبُک اور ہلکہ تصور نہیں کیا جاسکتا،اور خاص طور پر امام حسن اور امام حسین(ع) کے زمانہ امامت  کا اگر مقائسہ و موازنہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ وہ شرائط اور حالات جو امام حسن(ع) کے سامنے تھے اگر ان سے امام حسین(ع) روبرو ہوتے تو وہی کام کرتے جو آپ کے برادر بزرگوار نے کیا جیسا کہ تاریخ میں ملتا بھی ہے کہ امام حسن(ع) کی شہادت کے بعد ۲ مواقع پر آپ نے اپنے چاہنے والوں اور شیعوں کی درخواست کرنے کے باوجود معاویہ کے خلاف قیام کرنے کو قبول نہیں کیا۔
توجہ رہے کہ امام حسین(ع) کے سکوت اور خاموشی کا زمانہ تقریباً ۲۰ برس پر محیط ہے یعنی ہجرت کی چوتھی دہائی سے لیکر چھٹی دہائی تک کہ جس میں خود پورے ایک دہائی امت کی امامت آپ کے سپرد تھی اور شہادت امام حسن(ع) کے بعد تقریباً ۱۳ برس آپ کا دوران امامت ہے۔ آپ نے اس پورے دور میں لوگوں کو سکوت و خاموشی کی تلقین فرمائی اور مناسب وقت کے پہونچنے کا انتظار کرنے کو کہا اور فرمایا: جب تک یہ نابکار زندہ ہے تم کوئی اقدام نہ کرنا۔
اور دونوں بھائیوں کے عمل میں اختلاف کا راز یہ ہے کہ زمانہ معاویہ کے  سیاسی اور اجتماعی حالات یزید کے دور حکومت سے الگ تھے لہذا امام حسین(ع) معاویہ کے دور حکومت میں قیام کرنے پر تیار نہ ہوئے لیکن جیسے ہی یزید کا زمانے کا آغاز ہوا آپ نے کسی ساتھ دینے والے کا انتظار کئے بغیر انقلاب و قیام برپا کرنے کے لئے مدینہ چھوڑ دیا بلکہ یہ کہا جائے آپ نے حالات کے  تقاضوں کو سمجھتے ہوئے یہ محسوس کیا کہ اب قیام کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
لہذا امام حسین(ع) کے قیام کو امام حسن علیہ السلام کی صلح یا دیگر آئمہ(ع) کے قیام نہ کرنے سے موازنہ کرنا شاید صحیح نہ ہو چونکہ امام حسن(ع) اور ہمارے دیگر آئمہ(ع) درایت، دوراندیشی،اور شجاعت میں امام حسین(ع) کی مانند تھے لیکن ان سب کے زمانوں میں ایسا قیام برپا نہیں کیا جاسکتا تھا جو رہتی دنیا تک ایک مکتب کی صورت باقی رہے اور جس کے اجتماعی و سیاسی و دینی فوائد رہتی دنیا تک پائدار رہیں۔
لہذا اگر ہم اس تاریخی واقعہ کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنے آشکارا اور کھلے دشمن کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتے ہیں تو ہمیں امام حسن(ع) کی صلح کا بغور مطالعہ کرنا ہوگا۔
اگر امام حسن(ع) کی صلح کے تمام شرائط اور تقاضے پورے ہوجاتے تو آج اسلام اور مسلمانوں کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔بنی امیہ کے ہاتھوں سے اسلامی حکومت ہمشیہ کے لئے ختم ہوجاتی اور مسلمانوں کے لئے ایک نئی صبح کا اجالہ ہوتا ۔جو نہ ہوسکا۔
نیز یہ توجہ بھی بہت ضروری ہے کہ اگر صلح امام حسن(ع) کے تمام شرائط پر عمل کیا جاتا تو اس کی بہت سی برکتیں نظر آتیں لیکن افسوس!کہ ان تمام شرائط پر عمل نہیں ہوا جو امام حسن(ع) نے تحریر کئے تھی ان سب کو معاویہ نے پیرو تلے روند دیا لہذا صلح کی برکات کا ظاہر نہ ہونے میں معاویہ مقصر ہے۔
لہذا یہ بالکل غلط رویہ ہے کہ ہم آئمہ اہل بیت(ع) میں سے ہر ایک کے اقدام و اعمال کو مساوی کرنے میں لگ جائیں چونکہ یہ ایک بڑا ظلم ہے۔لہذا ہمیں ہر معصوم کے زمانہ کے حالات و شرائط اور تقاضوں کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔
امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کے اصحاب کے درمیان بنیادی فرق
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ امام مجتبٰی(ع) کے زمانہ میں شیعوں اور محبوں کی تعداد قیام عاشورا کے وقت میں موجود شیعوں سے کئی گنا زیادہ تھی،اور کربلا کے مقابل ان کی کامیابی کے امکان بھی بہت قوی تھے یعنی اگر سب لوگ خلوص نیت کے ساتھ اتباع کرتے تو دشمن پر غلبہ پانے کے تمام اسباب فراہم تھے۔ پس امام حسن(ع) کو جس چیز نے معاویہ جیسے ظالم کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور کیا وہ آپ کے اصحاب کی سستی،لالچ،خود غرضی وغیرہ تھی لیکن اس کے برخلاف امام حسین(ع) کے اصحاب کی کل تعداد ۷۰ یا ۸۰ افراد تھی لیکن ان قلیل تعداد مجاہدوں نے ثبات قدمی ،جانثاری و فداکاری کا ایسا نمونہ پیش کیا جس کے سبب کربلا رہتی دنیا تک ہر بھٹکے ہوئے کے لئے آفتاب نصف النہار بن گئی۔
صلح امام حسن(ع) اور قیام حسین(ع) سے عبرت
ہم لوگوں کو اگر امام حسن(ع) کے سچے مُحب اور پیروکار ہونے کا دعویٰ ہے تو ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ جگہ کہ جہاں ہماری جان،مال،آبرو، دنیاوی منصب کو خطرہ لاحق ہوجائے تو ہم فرمانبردار ہی رہیں ایسا نہ ہو کہ اگر ہماری جان، مال، یا منصب کو خطرہ لاحق ہوجائے تو ہم اپنا رنگ تبدیل کردیں اور نتیجے میں وقت کا امام تنہا رہ جائے۔
ہم لوگوں کے لئے تاریخ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ اگر ہم نے امام حسن(ع) کی صلح سے سبق حاصل نہ کیا تو ممکن ہے کہ ہمارے سامنے بھی تلخ سرنوشت کا سامنا کرنا پڑے اور آئندہ میں عاشور جیسے دیگر قیام کا زمینہ ہمارے لئے بند ہوجائے،چونکہ دشمن نے ہماری تاریخ سے سبق لے لیا ہے اور اب وہ اشتباہات اور غلطیوں کو تکرار نہیں کرنا چاہتے چنانچہ واقعہ کربلا کے بعد امام سجاد(ع) اور جناب زینب(س) کہ جو واقعہ عاشورا کی بقا کا سبب بنیں۔ یہ صدام کے لئے ایک سبق بن گیا لہذا جب آیت اللہ باقر الصدر(رح) کو شہید کردیا تو ان کی خواہر گرامی کو بھی شہید کروا دیا گیا جب اس سے معلوم کیا گیا کہ تیری دشمنی بھائی سے تھی تو نے بہن کو کیوں قتل کروا۔تو اس نے جواب دیا کہ میں یزید والی غلطی نہیں دہراؤں گا چونکہ ایک بہن(زینب) نے ہی بھائی(حسین(ع) کے مکتب کو ایک پائدار مکتب میں تبدیل کردیا تھا۔لہذا میں بنت الہدیٰ کو یہ موقع نہیں دینا چاہتا کہ وہ شہد صدر کے مشن کو آگے بڑھا سکے۔
صدام کے اس جملہ کا مطلب سمجھئے! کہ ہم لوگوں کا دشمن ہماری تاریخ کو خوب اچھی طرح جانتا ہے اور اس سے مسلسل سبق لینے کے فراق میں ہے لیکن ہم اپنی تاریخ کو بھول بیٹھے ہیں۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12