Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196829
Published : 5/12/2018 17:12

کیوں خدا ماضی کی طرح آج کے گنہگاروں پر عذاب نازل نہیں کرتا؟

اللہ تعالٰی نے خود شیطان کو مہلت دے رکھی ہے اور انسان کو راستہ انتخاب کرنے کا اختیار بھی تو طبیعی طور پر اللہ اور بندوں کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں کہ جو کوئی بھی ادھر گناہ کرے گا اُدھر آسمان سے آگ نازل ہوکر اسے نابود کردے گی۔بلکہ قانون خدا یہ ہے کہ بشر ایک دو راہے پر کھڑا ہوکر اپنے بارے میں یہ فیصلہ کرسکے کہ اسے کہاں اور کس سمت میں جانا ہے؟آج کے حالات بہت برے صحیح لیکن ابھی بھی بہت سے صادق الایمان افراد دنیا میں موجود ہیں ،ابھی حق کی بات سنی جاتی ہے اور اگر کوئی طالب حق ہو اسے جلد ہی منزل مل جاتی ہے لہذا ایسا عذاب جو آج کی نسل کو ختم کردے وہ سنت الہی کے برخلاف ہے۔

ولایت پورٹل: حضرت یونس علیہ السلام  30 برس کی عمر میں مبعوث برسالت ہوئے،اور پھر مسلسل 33 برس اپنی قوم میں تبلیغ کی اور اس عرصہ میں ان کی قوم کے صرف 2 لوگ ایمان لائے، لہذا آپ نے اللہ کے حضور اپنی قوم کی شکایت کی اور فرمایا:اے اللہ! یہ میری قوم میرے ساتھ دشمن کرتی ہے مجھے ان کی طرف سے اپنی جان کا خطرہ ہے،لہذا تو ان پر عذاب نازل کردے چونکہ یہ لوگ اب ایمان نہیں لائیں گے۔
خداوند عالم نے یونس کی اس خواہش کے جواب میں فرمایا:اے یونس! ان کے درمیان،ابھی وہ بچے بھی پیدا نہیں ہوئے ہیں جو اپنی ماؤں کے شکم میں ہیں،کچھ بوڑھے مرد و عورت بھی ہیں،اور چونکہ میری رحمت میرے غضب پر مقدم ہے،یہ میرے بندے اور میری مخلوق ہیں اور میں ان کے ساتھ رحم کرنے کے لئے تیار ہوں بس مجھے ان کی توبہ کا انتظار ہے۔
جب حضرت نوح علیہ السلام 300 برس اپنی قوم کو تبلیغ کرچکے اور کوئی مطلوب نتیجہ برآمد نہ ہوا تو ایک دن صبح کے وقت انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ان کے لئے بددعا کریں گے،چنانچہ 12 ہزار فرشتے نوح کے پاس آئے اور ان سے چاہا کہ وہ اپنے فیصلہ کے بارے میں تجدید نظر کرلیں چنانچہ جناب نوح علیہ السلام نے ان کے جواب میں کہا:میں مزید 300 سال انہیں مہلت دیتا ہوں اور انہیں آزماتا ہوں اور آپ دن رات اپنی قوم کو ہدایت، تبلیغ اور دعوت دینے میں لگ گئے جب 300 سال گذرگئے اور آپ نے اپنی قوم میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی تو ایک پھر ان فرشتوں نے اس فرصت کا دورانیہ بڑھانے کے لئے حضرت نوح سے درخواست کی لہذا پھر حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو 300 برس کی مہلت دیدی اور اس عرصہ میں آپ نے پہلے سے کہیں زیادہ محنت اور مشقت اور اہتمام کیا ،دن رات تبلیغ، ہدایت اور دعوت میں جُٹے رہے۔ جب نوح علیہ السلام کو تبلیغ کرتے ہوئے  پورے 900 سال ہوگئے اور قوم کو اسی جگہ پایا جہاں وہ پہلے تھی تو اب اللہ نے نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ ایک درخت لگائیں!
جب آپ کی قوم نے دیکھا کہ نوح پیڑ اگا رہے ہیں قوم نے آپ کا مذاق اڑانا شروع کیا،لیکن 50 برس اس پیڑ کو لگائے ہوئے گذر گئے یہاں تک کہ وہ ایک تناور درخت بن گیا نوح کو حکم دیا گیا کہ وہ جبرئیل علیہ السلام کی رہنمائی میں اس درخت کی لکڑی سے ایک کشتی بنائیں۔
لہذا ماضی کی تاریخ کی نسبت ہمیں اپنی معرفت کو بڑھانا چاہیئے ،ہم بنی نوع بشر کی مکمل تاریخ کو ایک جگہ دیکھتے ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ جو حوادث پوری تاریخ میں رونما ہوئے ہیں ہم ان سب کا ایک جگہ مشاہدہ کرلیں۔
اب جبکہ خود اللہ تعالٰی نے شیطان کو مہلت دے رکھی ہے اور انسان کو راستہ انتخاب کرنے کا اختیار بھی تو طبیعی طور پر اللہ اور بندوں کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں کہ جو کوئی بھی ادھر گناہ کرے گا اُدھر آسمان سے آگ نازل ہوکر اسے نابود کردے گی۔بلکہ قانون خدا یہ ہے کہ بشر ایک دو راہے پر کھڑا ہوکر اپنے بارے میں یہ فیصلہ کرسکے کہ اسے کہاں اور کس سمت میں جانا ہے؟ لہذا اگر کسی نے نادرست اور غلط راستہ کا انتخاب کیا ہے تو وہ اس پر چلنے کا پورا اختیار رکھتا ہے۔
سابقہ امتوں پر عذاب اس وقت نازل ہوتا تھا کہ جب ان کے حالات اس درجہ ابتر ہوجاتے تھے کہ اب ان میں سے کسی کے ایمان لانے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی  تھی اور ان کے درمیان کسی دیگر مؤمن کے پیدا ہونے کا امکان باقی نہیں ہوتا تھا:’’ إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبادَكَ وَ لا يَلِدُوا إِلاَّ فاجِراً كَفَّاراً‘‘۔(سورہ نوح:27) اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور فاجر و کافر کے علاوہ کوئی اولاد بھی نہ پیدا کریں گے۔
پس ہم واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ آج کے حالات بہت برے صحیح لیکن ابھی بھی بہت سے صادق الایمان افراد دنیا میں موجود ہیں ،ابھی حق کی بات سنی جاتی ہے اور اگر کوئی طالب حق ہو اسے جلد ہی منزل مل جاتی ہے لہذا ایسا عذاب جو آج کی نسل کو ختم کردے وہ سنت الہی کے برخلاف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
1۔بحارالانوار، ج 14، ص 393
2۔تفسير القمي، ج1، ص: 326



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12