Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196832
Published : 5/12/2018 18:11

امر بالمعروف و نہی عن المنکر ایک معاشرتی ذمہ داری

امام علی (ع)نے امر بالمعروف کے لئے جو تعبیر استعمال کی ہے وہ قابل غور ہے۔آپ نے فرمایا:"وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ تَكُنْ مِنْ أَهْلِهِ" نیکیوں کی تلقین کرتے رہو ،تم بھی نیکی کرنے والوں میں سے ہوجاؤگے،اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اگر انسان خود نیکی نہیں کرپارہا ہے لیکن اس کے اندر نیکی کے تئیں پاک جذبہ موجود ہےتو وہ دوسروں کے لئے اس نیکی کو انجام دینے کی راہ ہموار کرسکتا ہے ،ایک دن آئے گا کہ وہ بھی دوسروں کی طرح عملی طور پر نیکی کرنے لگے گا۔

ولایت پورٹل: دوسروں کو نیکیوں کی طرف راغب کرنا اور برائیوں سے بچنے کی تلقین کرنا ایک مسلمان کی معاشرتی ذمہ داری ہے۔آج اسلامی معاشرے کی بدبختیوں کی ایک بڑی وجہ  یہ ہے کہ  مسلمان ان دو اہم فرائض کو فراموش کرچکے ہیں،یہاں تک کہ اب باپ بیٹے کو نیکیوں کی جانب راغب کرنے سے گھبراتا ہے اور اسے برائیوں سے روکنے سے ڈرتا ہے،ایک بھائی دوسرے بھائی کو برائیوں میں ملوث پاتا ہے لیکن خاموش رہتا ہے،علماء  اپنی قوم کو گناہوں میں غرق دیکھتے ہیں لیکن وعظ و نصیحت نہیں کرتے،جبکہ نبی کریم (ص) نے فرمایا تھا کہ جب تک مسلمان ان دو فرائض پر عمل کرتے رہیں گے ان پر خیر و برکت اور رحمت و مغفرت کے دروازے کھلتے رہیں گے لیکن اگر انہوں نے یہ فرائض بھلا دئے تو خدا ان پر اشرار کو مسلط کردے گا پھر وہ دعا بھی کریں گے تو خدا ان کی نہیں سنے گا۔قرآن کریم فرماتا ہے:’’وَتَرَىٰ كَثِيرًا مِنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ‘‘۔(مائدہ/62 و 63)تم ان میں سے بہت سے افراد کو دیکھو گے کہ وہ تیزی کے ساتھ گناہ اور ظلم انجام دیتے ہیں اور حرام مال کھاتے ہیں  اور بہت برا کرتے ہیں ۔لیکن ان کے روحانی پیشوا اور علماء انہیں   گناہ کرنے اور حرام کھانے سے روکتے نہیں ہیں۔  بنی امیہ کے دور میں جب گناہوں کا بازار گرم ہوا،اخلاقی فسادات عام ہوئے اور بڑے بڑے صحابی و تابعی بھی خاموش رہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یزید جیسا شخص امت پر مسلط ہوگیا،ایسے میں اگر امام عالی مقام حسین ابن علی (ع)قیام نہ کرتے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرتے تو پوری امت مسلمہ نابود ہوکر رہ جاتی۔امام عالی مقام(ع) نے اپنے قیام کا مقصدبیان  کرتے ہوئے فرمایا تھا:"میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں"۔
امام علی (ع)نے  امر بالمعروف  کے لئے جو تعبیر استعمال کی ہے وہ قابل غور ہے۔آپ نے فرمایا:"وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ تَكُنْ مِنْ أَهْلِهِ" نیکیوں کی تلقین کرتے رہو ،تم بھی نیکی کرنے والوں میں سے ہوجاؤگے،اس کا کیا مطلب ہے؟اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اگر انسان خود نیکی نہیں کرپارہا ہے لیکن اس کے اندر نیکی کے تئیں پاک جذبہ موجود ہےتو وہ دوسروں کے لئے اس نیکی کو انجام دینے کی راہ ہموار کرسکتا ہے ،ایک دن آئے گا کہ وہ بھی دوسروں کی طرح عملی طور پر نیکی کرنے لگے گا۔دوسری طرف اگر ہمیں کوئی انسان نیکی کی نصیحت کرتا ہے یا کسی برے کام سے روکتا ہے لیکن خود اس پر عامل نہیں ہے تو اسے یہ کہہ کر نہیں دھتکارنا چاہیے کہ بڑے آئے نصیحت کرنے والےکیونکہ ممکن ہے کہ خدا نے اسی کو ہماری ہدایت کا ذریعہ بنا یا ہو اور خود مولائے کائنات  کی یہ تعلیم ہے کہ کہنے والے کی بات کو دیکھو اس کے کردار کو نہ دیکھو۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12