Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196873
Published : 8/12/2018 15:46

اسلامی حکام کے درمیان شاہانہ ٹھاٹ باٹ سب سے پہلے کس کے ذریعہ رائج ہوئے

امیر شام جب خلیفہ دوم کے استقبال کے لئے اپنے شاہی عملہ کو ساتھ لیکر آئے اور خلیفہ دوم نے معاویہ کی یہ شأن و شوکت اور ٹھاٹ باٹ دیکھے تو ان سے رہا نہ گیا انہوں نے دریافت کر ہی لیا:یہ تم نے اپنی کیسی حالت بنا رکھی ہے؟میں نے سنا ہے کہ تمہارے دربار میں ضرورت مندوں کو پہونچنے نہیں دیا جاتا اور تم ان کی کچھ نہیں سنتے؟امیر شام نے جواب دیا:ہم ایسی جگہ پر ہیں جہاں دشمن کے جاسوسوں کی کثرت ہے پس ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنی حکومت کی شان و شوکت کو ظاہر کریں تاکہ وہ ہم سے خوف کھائیں اور ہمارے رعب کے سامنے مرعوب رہیں!خلیفہ دوم معاویہ کی اس توجیہ کے مقابل خاموش ہوگئے اور اسی کے بعد سے اسلام میں آمرانہ ٹھاٹ باٹ کے جراثیم پنپنے لگے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اسلام نے سادگی کو بڑی اہمیت دی ہے ،اسلام میں ٹھاٹ باٹ،فضول خرچی،عیش پرستی کی سخت مذمت کی گئی ہے یہ ایک ایسا دین ہے جس کی پہلے نمبر کی شخصیت، خود سرکار رسالتمآب(ص) نے اپنی پوری زندگی سادگی میں گذار دی حتٰی روایات کی کتابوں میں سرکار کے متعلق یہ جملہ ملتا ہے:’’لم یضع لبنۃ علی لبنۃ‘‘ یعنی آپ نے اپنی زندگی کی نمائش کے لئے کبھی اینٹ پر اینٹ بھی نہ رکھی۔اگر آپ نے مسجد بھی بنائی تو مسلمانوں کے لئے ایک عبادت کا مرکز،اگر ازواج مطہرات کے لئے کچھ چھوٹے چھوٹے کمرے بھی بنوائے تو صرف محض زندگی بسر کرنے کے لئے ،جن کی چھتیں چٹائی کی بنی ہوئی تھیں۔
آپ کی سادگی کا عالم یہ تھا کہ عین اس کے کہ آپ اسلامی حکومت کے سربراہ تھے آپ اپنی امت کے درمیان اس طرح بیٹھ جاتے تھے کہ باہر سے آنے والا اجنبی کبھی یہ پہچان ہی نہیں پاتا تھا کہ ان میں رسول اللہ(ص) کون ہیں؟
آپ کی نظریں اپنی امت کے اس فرد کی زندگی اور حالات پر رہتی تھیں کہ جو زندگی میں سب سے نادار تھا یہی وجہ تھی کہ آپ نے مسجد کے چبوترے پر ان اصحاب کو پناہ دی تھی کہ جن کا مدینہ میں کوئی نہیں تھا، جنہیں تاریخ اصحاب صفہ کے نام سے یاد کرتی ہے۔آپ ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تباول فرماتے تھے۔
لیکن رسول خدا(ص) کی وفات کے بعد جیسے جیسے مسلمانوں کو فتوحات ملنے لگیں اب سپہ سالاروں کے ساتھ ساتھ صاحبان اقتدار کے رنگ بھی بدلنے لگے اب عام رعایا اور حکمراں کے درمیان تشخیص دینا سخت نہ رہ گیا تھا غرض اسلام کی دولت اتنی سخاوت سے اقرباء پروری پر لٹائی گئی جس کی مثالوں سے کتب تواریخ بھری پڑی ہیں۔
لیکن مدینہ منورہ میں بہر حال ارباب اقتدار کے یہاں ۔اگرچہ ظاہری طور پرہی سہی ۔وہ جاہ حشم نہیں ملتا تھا۔ اگر کوئی ضرورت مند ہوتا تھا اسے خلیفہ تک پہونچنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہوتی تھی۔لیکن ملک شام میں معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔یہاں حاکم کا مرتبہ رعایا اور عوام سے بلند تھا اور امیر شام کی نظر میں رعایا کی کی حیثیت جانوروں سے بھی پست تھی۔
چنانچہ صاحب کتاب الاستعاب نے سن ۲۰ ہجری کی ایک روداد نقل کی ہے کہ جب خلیفہ دوم(عمر) شام گئے اس زمانہ میں شام کا حاکم معاویہ بن ابی سفیان تھا۔
چنانچہ امیر شام  جب خلیفہ دوم کے استقبال کے لئے اپنے شاہی عملہ کو ساتھ لیکر آئے اور خلیفہ دوم نے معاویہ کی یہ شأن و شوکت اور ٹھاٹ باٹ دیکھے تو ان سے رہا نہ گیا انہوں نے دریافت کر ہی لیا:
یہ تم نے اپنی کیسی شأن و شوکت بنا رکھی ہے؟میں نے سنا ہے کہ تمہارے دربار میں ضرورت مندوں کو پہونچنے نہیں دیا جاتا اور تم ان کی کچھ نہیں سنتے؟
امیر شام نے جواب دیا:ہم ایسی جگہ ہیں جہاں دشمن کے جاسوسوں کی کثرت ہے پس ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنی حکومت کی شان و شوکت کو ظاہر کریں تاکہ وہ ہم سے خوف کھائیں اور ہمارے رعب کے سامنے مرعوب رہیں!
خلیفہ دوم معاویہ کی اس توجیہ کے مقابل خاموش ہوگئے اور اسی کے بعد سے اسلام میں آمرانہ ٹھاٹ باٹ کے جراثیم پنپنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع:
الاستیعاب – ج ۱ – ص ۲۵۲



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13