Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196877
Published : 8/12/2018 17:19

حق الناس کی ادائیگی کا آسان طریقہ

ان حقوق کو ادا کرنے کے لئے کسی مال اور دولت کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ان کی ادائیگی نہایت آسان امر ہے اور وہ فقط یہ ہے کہ انسان صاحب حق سے معافی مانگ لے اور معذرت طلب کرلے کہ بھائی اگر ہم سے آپ کی شأن میں گستاخی ہوئی ہے تو ہمیں معاف کردیجئے۔البتہ یہ طریقہ اس وقت کارگر ہے جب صاحب حق زندہ ہو لیکن اگر وہ شخص جس کا آپ نے حق ضائع کیا ہے اس دنیا سے جاچکا ہے تو تلافی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے لئے نیک اعمال کئے جائیں ،دعا و استغفار کی جائے تاکہ وہ آپ سے راضی ہوجائے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! انسان کو اللہ نے یہ زندگی اس لئے دی ہے کہ وہ یہاں عمل کرے،نیکیاں کمائے اور انہیں اپنی آخرت کے لئے زاد راہ کے طور پر اکھٹا کرے۔لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ اچھائیاں کرنے اور نیکیاں انجام دینا تو دور کی بات ایک دوسرے کے حق کو پامال کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
البتہ ذہن نشین رہے کہ حقوق الناس کو پامال کرنے کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ کسی کا مال ہی لوٹ کر کھا لیا جائے،کسی کی زمین ہی کو ہڈپ لیا جائے،یا کسی کے گھر اور باغ پر ہی قبضہ جما لیا جائے۔ اگرچہ یہ سب حقوق الناس کی پامالی کے مصادیق ہیں۔لیکن اکثر ہمارے سماج میں بڑے بڑے حقوق کو پامال کردیا جاتا ہے اور ان کی طرف توجہ بھی نہیں ہوتی۔مثال کے طور پر کسی کی طرف جھوٹ کی نسبت دینا،کسی پر تہمت لگادینا،کسی کو بے عزت کردینا، کسی کی کرامت و شرافت کا مذاق بنانا وغیرہ ۔پس حق الناس کو دو طرح سے پامال کیا جاتا ہے:
۱۔مالی حقوق
۲۔معنوی حقوق
مالی حقوق: ان حقوق کا تعلق انسان کے مالی اور اقتصادی پہلو سے ہے مثال کے طور پر انسان کسی کا مال بغیر اس کی رضامندی کے استعمال کرلے،یا کسی سے قرض لیکر نہ لوٹائے،یا مال یتیم کو ہڈپ جائے ،ناحق کسی کے مال پر اپنا قبضہ جما لے، جیسا کہ اللہ تعالٰی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :’’ یا اَیُّها الَّذِینَ آمَنوا لا تأکلوُا اَموالَکُمْ بَینَکُمْ بِالباطِلِ اِلّا اَنْ تَکونَ تِجارَةً عَنْ تَراضٍ مِنکُمْ‘‘۔(سورہ نساء:۲۹) اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال، باطل طریقہ سے نہ کھاؤ۔ مگر یہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارتی معاملہ ہو۔
اسی طرح اللہ کے رسول(ص) ارشاد فرماتے ہیں:’’ مَنِ اکتَسَبَ مالاً مِنْ غَیرِ حِلِّهِ کانَ رادَّهُ اِلَی النّارِ‘‘ جو شخص حلال طریقہ کے علاوہ کوئی مال حاصل کرے یہ مال اسے جہنم میں پہونچا دے گا۔
لہذا مذکورہ حقوق سے غاصب شخص اسی وقت برئ ہوسکتا ہے جب ان کو اصلی مالک کی طرف لوٹا دے۔یہی اس کی توبہ ،ندامت اور پشیمانی شمار ہوگی۔
معنوی حقوق: مذکورہ بالا قسم سے بھی بڑھ کر ان حقوق(معنوی حقوق) کی پامالی بہت سخت و حساس مرحلہ ہوتا ہے اور ان کا تعلق انسان کی عزت،کرامت اور آبرو جیسے امور سے ہے یعنی اگر کوئی انسان کسی دوسرے انسان کی عزت کو تار تار کردے مثلاً اس کو بے عزت کردے، یا تہمت لگادے۔ چنانچہ ان حقوق کا ضائع کردینا اور پامال کردینا پہلے والی قسم سے بھی زیادہ گناہ ہے۔ہمارے سماج میں جہاں مالی و اقتصادی حقوق پامال کئے جاتے ہیں وہیں ہر روز نہ جانے کتنے معنوی حقوق کی پامال مسائل مشاہدہ کئے جاتے ہیں اور جنہیں انسان صرف شیخی میں پامال کردیتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان کی طرف متوجہ بھی نہیں ہوتا۔جبکہ اللہ کی نظر میں مؤمن کی عزت،کرامت اور توقیر بہت بلند و اعلٰی ہے چنانچہ ایک حدیث میں ملتا ہے:’’ حرمة المؤمن اشد من حرمة الكعبة‘‘۔اللہ کے نزدیک مؤمن کی حرمت و عزت کعبہ سے بھی بلند ہے۔
اب ظاہر ہے کہ ان حقوق کو ادا کرنے کے لئے کسی مال اور دولت کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ان کی ادائیگی نہایت آسان امر ہے اور وہ فقط یہ ہے کہ انسان صاحب حق سے معافی مانگ لے اور معذرت طلب کرلے کہ بھائی اگر ہم سے آپ کی شأن میں گستاخی ہوئی ہے تو ہمیں معاف کردیجئے۔البتہ یہ طریقہ اس وقت کارگر ہے جب صاحب حق زندہ ہو لیکن  اگر وہ شخص جس کا آپ نے حق ضائع کیا ہے اس دنیا سے جاچکا ہے تو تلافی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے لئے نیک اعمال کئے جائیں ،دعا و استغفار کی جائے تاکہ وہ آپ سے راضی ہوجائے۔
اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ جو بھی عمل خیر کریں اسے بھی اپنے ساتھ شریک کرلیں اور اس کی طرف سے بھی نیت کرلیا کریں اور یاد رکھیئے ایسا کرنے سے آپ کا ثواب کم نہیں ہوگا اور اسے آپ ہی کے مثل اللہ کی بارگاہ سے مل جائے گا اس طرح جن لوگوں کے حق آپ کے ذمہ ہیں وہ ادا ہوتے رہیں گے اور آپ کے نامہ اعمال سے حق الناس کی پامالی کا دھبہ صاف ہوتا جائے گا۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12