Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196881
Published : 8/12/2018 18:21

خاموش بچپن؛مستقبل میں طوفان بھی بن سکتا ہے

اگر ہمارے غلط رویہ کی بنا پر کوئی بچہ نہایت پر سکون اور خاموش طبیعت کا مالک بن چکا ہے تو اس میں کہیں نہ کہیں والدین کی تربیتی غلطی ہے لہذا ایسے بچوں کو ان کا بچپن لوٹانے کی ضرورت ہے اگر کسی بچے کی اس انداز میں تربیت کی جائے کہ وہ بچپن میں ہی خاموش مزاج بن جائے تو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ اس میں موجود جزبات بڑے ہوکر ایک طوفان کی شکل اختیار کرجائیں گے کہ جن کو رام کرنا کسی ساحل کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ہمارے معاشرے میں فساد،چوری، ڈکیتی،اور دیگر اخلاقی برائیوں کے پیچھے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کا بچپن بڑا پرسکون اور خاموشی کے ساتھ گزرا ہے لہذا بین الاقوامی اداروں کی جانب سے شائع کردہ اعداد و ارقام اس کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔لہذا اگر والدین نے یہ کام کردیا اور پُر سکون بچوں کو ان کے بچپن کے کھِلتے اور کھل کھلاتے ہوئے گلشن میں لوٹا دیا تو مستقبل میں ان کا وجود اخلاق و آداب سے معطر ہوجائے گا۔

ولایت پورٹل: بچوں میں کھیل کود،بھاگ دوڑ اور جسمانی فعالیت ان کے رشد اور صحیح و سالم ہونے کی دلیل ہے اگر کوئی بچہ بہت خاموش ہے اور کسی کھیل کود اور بھاگ دوڑ میں حصہ نہیں لے رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مریض ہے اسے کسی ڈاکٹر کو دکھانا چاہیئے۔
بچے اور کھیل کود میں وہی رابطہ ہوتا ہے جو ایک بچہ اور اس کی ماں کی ممتا کے درمیان پایا جاتا ہے۔اگر کسی ماں کی گود سے اس کا بچہ چھین لیا جائے تو آپ کبھی اسے وہ سکون نہیں لوٹا سکتے جو اسے اپنے بچے سے ملتا تھا۔یہ ماں اس وقت تک بے چین رہے گی اور اس کی ممتا تڑپتی رہے گی جب تک اس کا بچہ اسے واپس نہ مل جائے اگرچہ وہ مصنوعی طور پر اپنے سکون اور اطمئنان کو ظاہر بھی کرتی رہے۔
آپ غور کیجئے! یہ ماں جس سے کسی نے اس کا بچہ چھین لیا ہے اور اسے اس کے بچے سے دور کردیا ہے اگر کوئی شخص لاکر اس کا بچہ واپس کردے تو یہ اس شخص کی نسبت کیا گمان کرے گی؟فطری سی بات ہے، کہ اس کا پورا وجود اس کا شکریہ ادا کرے گا۔اسی طرح کھیل کود،بھاگ دوڑ بچوں کا طبیعی اور فطری حق ہے لہذا ان سے یہ حق نہ چھینا جائے اور اگر ہمارے غلط رویہ کی بنا پر کوئی بچہ نہایت پر سکون اور خاموش طبیعت کا مالک بن چکا ہے تو اس میں کہیں نہ کہیں والدین کی تربیتی غلطی ہے لہذا ایسے بچوں کو ان کا بچپن لوٹانے کی ضرورت ہے اگر کسی بچے کی اس انداز میں تربیت کی جائے کہ وہ بچپن میں ہی خاموش مزاج بن جائے تو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ اس میں موجود جزبات بڑے ہوکر ایک طوفان کی شکل اختیار کرجائیں گے کہ جن کو رام کرنا کسی ساحل کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ہمارے معاشرے میں فساد،چوری، ڈکیتی،اور دیگر اخلاقی برائیوں کے پیچھے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کا بچپن بڑا پرسکون اور خاموشی کے ساتھ گزرا ہے لہذا بین الاقوامی اداروں کی جانب سے شائع کردہ اعداد و ارقام اس کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔لہذا اگر والدین نے یہ کام کردیا اور پُر سکون بچوں کو ان کے بچپن کے کھِلتے اور کھل کھلاتے ہوئے گلشن میں لوٹا دیا تو مستقبل میں ان کا وجود اخلاق و آداب سے معطر ہوجائے گا۔


 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10