Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 197327
Published : 3/1/2019 9:15

بلجیم میں اسلامی طریقہ کے مطابق جانور ذبح کرنے پر پابندی

بلجیم ذبیحہ اور کوشر پر پابندی کے قانون کے نفاذ پر مسلمانوں اور یہودیوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادیوں کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔
ولایت پورٹل:بلجیم کے ناردرن فلاندر کے علاقوں میں ذبیحہ اور کوشر پر پابندی نے مسلمانوں اور یہودیوں میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے ،اطلاعات کے مطابق فلامش پارلیمنٹ نے 2017 میں جانوروں کی بہبود کی تنظیموں کے دباو پر حلال اور کوشر پر پابندی کا قانون منظور کیا تھا جس کا اطلاق 1 جنوری 2019 سے کیا جانا تھا ،جانوروں کی بہبود کی تنظیموں کا موقف اور دباو تھا کہ مسلمان اور یہودی ذبح سے قبل جانور کو بیہوش کریں تاکہ اسے کم سے کم تکلیف ہو جبکہ دونوں الٰہی ادیان میں ذبح سے قبل ایسا کرنا ممنوع اور صحیح عمل نہیں ہے ،گزشتہ کچھ عرصے سے اس مسئلے پر بحث چل رہی تھی لیکن کوئی حل سامنے نہیں آ پا رہا تھا ،اسی تنازعے کے باعث بلجیم کے کئی علاقوں میں عید االاضحیٰ پر قربانی کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی،دوسری جانب اس قانون کے نفاذ پر مسلمانوں اور یہودیوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادیوں کے خلاف جرم قرار دیا ہے ،یاد رہے کہ بلجیم میں مسلمان ساڑھے گیارہ فیصد جبکہ یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی تعداداعشاریہ4 فیصد ہے۔
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21