Thursday - 2018 Oct. 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 71866
Published : 23/3/2015 18:27

انتہا پسندی، مغرب کی غلطیوں کا نتیجہ

برطانیہ کے ایک اہم رکن پارلیمنٹ لارڈ جان پرسکاٹ نے کہا ہے کہ انتہا پسندی مشرق وسطی میں مغرب کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے - اطلاعات کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان بالا دارالامرا کے رکن لارڈ جان پرسکاٹ نے، جو لیبر پارٹی کے سینئر رکن ہیں، ڈیلی مرر اخبار میں اپنے ایک مضمون میں غزہ میں اسرائیلی جرائم اور مشرق وسطی میں مغرب کی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ صیہونی حکومت اور مغرب نے مسلمان نوجوانوں کو انتہا پسند بنانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے - لارڈ جان پرسکاٹ نے اس مضمون میں لکھا ہے کہ کیا وہ وقت آگیا ہے کہ اس حققیت کو تسلیم کرلیں کہ ہم نے چھے سو برطانوی نوجوانوں کے شام جانے اور ان میں سے اکثر کے دہشت گرد گروہ داعش میں شامل ہونے میں بڑا کردار ادا کیا ہے - انہوں نے لکھا ہے کہ اگر میں مسلم نوجوان ہوتا اور ایک طرف غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں چند ہفتوں میں دو ہزار افراد کے قتل اور دوسری طرف شام میں ایسے حالات میں کہ امریکی ڈرون طیارے مشتبہ دہشت گردوں کے نام پر بے گناہ لوگوں کو مسلسل قتل کررہے ہوں، لاکھوں شامیوں کو انہیں کے ملک میں بے گھر ہوتے دیکھتا تو میں بھی یقینی طور پر انتہا پسند ہوجاتا - انہوں نے عراق پر حملے سمیت، علاقے میں برطانیہ اور مغرب کی مداخلت اور ان کی طرف سے صیہونی حکومت کی حمایت اور مصر میں مرسی کی قانونی حکومت کے خاتمے پر مغربی ممالک کی خاموشی کو انتہا پسندی پیدا ہونے کے بنیاد اسباب قرار دیا - لارڈ جان پرسکاٹ نے، جو عراق کے خلاف برطانیہ کی فوجی کارروائی کے سخت مخالفین میں سے ہیں، اپنے مضمون میں مزید لکھا ہے کہ یہ مسائل اور ناانصافیاں انتہا پسندی کی طرف نوجوانوں کے رجحان کا سبب بنی ہیں- واضح رہے کہ داعش اور دیگر تکفیری گروہوں کی تشکیل اور ان کی مدد و حمایت میں حکومت برطانیہ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Oct. 18