Sunday - 2019 January 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 71901
Published : 25/3/2015 20:58

سعودی عرب: یمن کی سرحد پر بھاری ہتھیارنصب

امریکی حکام نےاعلان کیا ہےکہ سعودی عرب نےاپنے بھاری ہتھیارجن میں توپ خانے اور بکتربندگاڑیاں شامل ہیں، یمن کی سرحد کے قریب نصب کردیئے ہیں۔ سعودی عرب کے اس اقدام نے یمن کے بحران کے گرداب میں ریاض کے پھنسنے کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے یہ اقدام جنوب کی جانب عوامی تحریک انصار اللہ کے زیرکمان انقلابیوں کی پیش قدمی اور دارالحکومت صنعا کے بعد یمن کے وسطی شہر تعز پر یمنی انقلابیوں کا کنٹرول ہوجانے کے بعد انجام دیا ہے۔ اس درمیان اطلاع ہے کہ انصار اللہ کے حامی اور یمنی فوج عدن میں مستعفی صدر منصور ہادی کے نئے اڈے کے قریب پہنچ رہی ہے۔ یمن کے مفرور اور مستعفی صدر منصور ہادی کو امریکہ اور سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے اور سعودی عرب کو اس بات کا شدید خوف ہے کہ کہیں انصار اللہ کے زیرکمان عوامی کمیٹیوں کے افراد پورے یمن پر کنٹرول حاصل نہ کر لیں۔ یہ ایک ایسا امر ہے کہ جسے آل سعود حکومت اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے اور اس کو یمنی عوام کے انقلاب کے سعودی عرب کے اندر بھی سرایت کر جانے کے سلسلے میں سخت تشویش ہے۔ امریکی حکومت کے باخبر ذریعے نے کہا ہے کہ سعودی عرب نےبڑے پیمانے پر فوجی سازوسامان یمن کی سرحد کے قریب پہنچادیا ہے اور وہ یمن کے جنوبی شہر عدن میں منصور ہادی کے ٹھکانے پر انصار اللہ سے وابستہ عوامی کمیٹیوں کے حملے کی صورت میں ممکنہ طور پر ہوائی حملے شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ یمن کے مستعفی اور مفرور صدر منصور ہادی نے منگل کے روز ایک ایسے وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔ جبکہ ذرائع ابلاغ نے خبردی ہے کہ عدن کے قریب منصورہادی کے حامی فوجی اور اعلی افسران فرار کرگئے ہیں۔ المیادین ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق یمن کے مستعفی صدر نے سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ وہ فوجی مداخلت کر کے انصار اللہ کی فوجی پیش قدمی کو روکے۔ منصور ہادی نے یہ درخواست ایک ایسے وقت میں کی ہے کہ جب باخبر ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ عدن شہر کے قریب واقع بڑے فوجی اڈے العند میں منصورہادی کےحامی فوجیوں کے محاذ پوری طرح بکھر چکے ہیں۔ المیادین ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ العند اڈے میں تعینات فوجی جوان گروپوں کی شکل میں وہاں سے بھاگ گئے ہیں۔ اسی طرح منصور ہادی کی حامی فوج کے دو اعلی کمانڈروں جنرل محمود الصبیحی اور کرنل ثابت جواس بھی ایک ایسے وقت میں یہ اڈہ چھوڑ کر فرار کرگئے ہیں جب کہا جا رہا ہے کہ انصار اللہ کی عوامی کمیٹیوں کے افراد نے اب اس اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2019 January 20