Monday - 2018 مئی 28
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 71943
Published : 28/3/2015 20:0

واشنگٹن کے دوہرے معیار پر روس کی تنقید

روس کے وزیر خارجہ نے یمن اور یوکرین کے بارے میں امریکہ کے دوہرے رویے پر نکنتہ چینی کی ہے
ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے یمن پر سعودی عرب کی فوجی جارحیت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ، دیگر ملکوں کے مسائل میں دوہرے معیارات رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ نے یمن کے مفرور صدر منصور ہادی کی حمایت کی لیکن یوکرین کے سابق صدر وکٹر یانوکوویچ کی حمایت سے گریز کیا جو امریکہ کے دوہرے معیارات کی پالیسی کا واضح نمونہ ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ یمن اور یوکرین کے مسائل کو مذکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، کہا کہ اگر مغربی ممالک، یانوکوویچ اور یوکرین کی حکومت کے مخالفین سے، فروری دو ہزار چودہ کے سمجھوتے کی پابندی کا مطالبہ کرتے تو یوکرین کا بحران کھڑا نہ ہوتا۔ لیکن یمن میں علی عبدا للہ صالح کی برطرفی کے بعد ان کے معاون عبد ربہ منصور ہادی کو عارضی طور پر اقتدار میں لایا گیا تاکہ اقتدار کی منتقلی کے عمل کو ڈکٹیٹ کرسکے۔ منصور ہادی کے حامی دھڑوں کی جانب سے اس کی مدت حکومت میں توسیع کی کوشش کی بنا پر، یمن کے عوام کی موجودہ تحریک منجملہ الحوثی تحریک، کو اقتدار سبھالنے کا موقع ملا۔ دوسری جانب سعودی عرب، یمن میں منصور ہادی کی کمزور حکومت کو اپنے مفاد میں سمجھتاہے اس بنا پر وہ منصور ہادی کی حمایت کرکے یمن کے عوام کو کچل رہا ہے اور ان کی خواہشات کو پامال کررہا ہے۔ ریاض نے حالیہ برسوں میں یمن کے تین صوبوں عسیر،نجران اور جیزان کو عملی طو رپر اپنے ملک میں شامل کرلیا ہے۔ یمن اور یوکرین کے بحران کے تعلق سے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا یہ بیان، یمن اور یوکرین کے بحرانوں کے سلسلے میں امریکہ اور مغرب کی دوہرے معیار کا آئینہ دار ہے جو اس بار ڈیموکریسی اور قومی اقتدار اعلی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ امریکہ کی دوہرے معیارکی پالیسی کے نتیجے میں تقریبا ایک سال سے مشرقی یوکرین میں خونریز جھڑپیں ہورہی ہیں دوسری طرف یمن بھی آج سعودی عرب کےحملوں کے با‏عث بھرپور جنگ اور عدم استحکام کے دہانے پر کھڑا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 مئی 28