دوشنبه - 2019 مارس 25
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 71975
تاریخ انتشار : 29/3/2015 22:2
تعداد بازدید : 20

سعودی عرب: سرحدی علاقوں میں خطرے کا سائرن

ذرائع ابلاغ نے، یمن اور سعودی عرب کے سرحدی علاقوں جیزان اور صبیہ میں لڑائی چھڑنے اور خطرے کا سائرن بجنے کی خبر دی ہے۔
سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی فوج، یمن کی سرحدوں پر الرٹ ہوگئی ہے تاکہ یمنی فوج اور انصاراللہ کے کسی بھی قسم کے حملے کی روک تھام کرسکے۔ سعودی اخبار "سبق" نے سعودی عرب اور یمن کی سرحدوں پر تعینات فوجیوں کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی دعوی کیا جارہا ہے کہ یمنی فوج اور انصاراللہ نے بھی اپنے فوجی ساز و سامان سرحدوں کے قریب تعینات کردیئے ہیں تاکہ ضرورت پڑنےکی صورت میں ان کا ممکنہ استعمال کرسکے۔ یہ ایسی حالت میں ہےکہ یمنی عوام کا کہنا ہے کہ جیزان، عسیر اور نجران کا علاقہ، یمن کا حصہ ہے کہ جس پر سعودیوں نے قبضہ جمایا ہوا ہے۔ دوسری جانب سعودی شہزادے یمنی فوج اور انصاراللہ کے حملوں کے خوف سے، جنوبی علاقوں سے فرار کر رہے ہیں۔ المساء پریس کے مطابق سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں بسنے والے سعودی شہزادے، ان علاقوں چھوڑ کر جدہ فرار کرنا شروع ہوگئے ہیں ۔ سعودی عرب کی جنوبی سرحدیں اٹھارہ سو کیلو میٹر تک یمن سے ملتی ہیں۔ سعودی فوج کہ جس نے گذشتہ جمعرات سے یمن کے اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فوجی حملے شروع کر رکھے ہیں،بتایا جات ہے کہ یمنی فوج اور انصاراللہ کے ردعمل کے خوف سے طیارہ شکن توپیں جدہ ایئر پورٹ کے اطراف میں نصب کردی گئی ہیں اور ریاض اور جدہ میں سیکورٹی کے سخت انتظامات عمل میں لائے گئے ہیں۔ جدہ اور ریاض میں فوج کے الرٹ ہوجانے سے، سعودی عوام میں خوف و دہشت طاری ہے۔ میڈیا ذرائع نے بھی سعودی عرب اور یمن کی سرحدوں پر جیزان اور صبیہ میں لڑائی شروع ہونے اور خطرے کا سائرن بج جانے کی خبر دی ہے۔ دوسری طرف یمن الآن کے مطابق سعودی حکومت کو اس بات کا خوف ہے کہ اس کے جارحانہ حملوں کے خلاف کہیں تحریک انصاراللہ، یمنی فوج کے تین سو اسکڈ میزائلوں کا استعمال نہ کرنے لگے۔ واضح رہے کہ یمنی فوج کے پاس جو میزائیل ہیں، ان میں سے بعض میں پانچ سو کیلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت ہے ۔ سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل احمدالعسیری نے دعوی کیا ہے کہ یمن میں حوثیوں اور اس کے اتحادیوں کے پاس موجود زیادہ تر میزائیل تباہ کردئے گئے ہیں تاہم خلیج فارس تعاون کونسل کے عرب ملکوں کے ایک سفارتکار نے کہا ہے کہ یمنی فوج کے تین سو اسکڈ میزائیلوں میں سے صرف اکیس میزائل، سعودی اتحاد کے حملوں میں تباہ ہوئے ہیں اور اسی چیز کے پیش نظر آل سعود میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے-


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :