Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 71980
Published : 29/3/2015 22:16

یمن کا بحران: صورتحال مزید سخت اور دشوار

شرم الشیخ میں ہونے والے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کی حمایت کئے جانے کے بعد یمن میں عوامی فورس اور فوجی دستے پوری طرح آمادہ ہوگئے ہیں۔


جبکہ عوامی تحریک انصاراللہ کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے دفاع کے لئے ایک طویل جنگ کے لئے تیار ہے۔

یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ یمن کے عوام آل سعود کے خلاف طویل جنگ کے لئے آمادہ ہیں اور انہیں اپنی کامیابی پر اطمینان ہے۔ اس درمیان یمن کے اینٹی ایئر کرافٹ یونٹ نے صنعا کے شمال میں سعودی عرب کا ایک اور طیارہ مار گرایا ہے۔ ادھر یمن کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے حملے عالمی اور علاقائی قوانین اورمنشور کے خلاف ہیں جو یمن کی سلامتی اور استحکام کے لئے خطرہ شمار ہوتے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق انصاراللہ کے جیالوں نے یمن کے جنوب اور مشرق میں مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ عوامی تحریک انصاراللہ اور اس سے وابستہ فوجی یونٹوں کی کامیابیوں کے بعد سعودی عرب نے انصاراللہ کا خاتمہ کرنے کی غرض سے اپنے اتحادیوں کے ساتھ یمن پر جارحیت شروع کردی تھی جو اب بھی جاری ہے۔ مصری حکام نے کہا ہے کہ ان کی بحریہ کے کئی جہاز اسٹریٹجک حیثیت کے حامل آبنائے باب المندب میں لنگر انداز ہوگئے ہیں۔ ادھر مصری سفارتکاروں نے کہا ہےکہ صدر سیسی نے فوجی کمانڈروں سے ملاقات کی ہے۔ ایسا لگتا ہےکہ مصر نے سعودی عرب کے ساتھ یمن پر زمینی حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ اس درمیان اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملے جاری ہیں- سعودی عرب اور اس کے اتحادی نہتے عوام پر بم برسارہے ہیں- صعدہ میں ایک بازار پر آل سعود کے جنگی طیاروں نے بمباری کی ہے جس میں بیس افراد جاں بحق اور دسیوں زخمی ہوئے ہیں۔ صوبہ صعدہ کی سینٹرل جیل پر بھی سعودی طیاروں نے بم برسائے ہیں- واضح رہے کہ یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی اپنی قانونی حیثیت کھوچکے ہیں اور ایسے حالات میں یمن پر سعودی عرب کے حملوں سے یمن کابحران مزید پیچیدہ ہی ہوتا جائے گا- اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے عرب سربراہوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کی جنگ کے طویل ہونے سے روکنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔ بان کی مون کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب یمن پر طویل اور تباہ کن جنگ کے مہیب بادل منڈلا رہے ہیں- بان کی مون نے کہا ہے کہ یمن کو تباہی سے بچانے کے لئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا ضروری ہے جن کی بنیاد ان کے خصوصی ایلچی جمال بن عمر نے ڈالی ہے- اس درمیان تحریک انصاراللہ نے بھی کہا ہے کہ وہ مذاکرات اور سیاسی حل کی بھرپور حمایت کرتی ہے لیکن یہ مذاکرات صرف یمنی فریقوں کے ہی درمیان ہونے چاہئیں - تحریک انصاراللہ کا کہنا ہے کہ یمن کے عوام کو سعودی عرب، امریکا اور اسرائیل کی نگرانی میں مذاکرات قبول نہیں ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19