Monday - 2018 مئی 28
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 71995
Published : 30/3/2015 11:35

یمن اور شام کے لئے عرب ملکوں کا دوہرا معیار

تحریک انصاراللہ نے شام کے صدر اور یمن کے مفرور صدر کے سلسلے میں عرب ملکوں کے دو متضاد رویے پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔
تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے العالم ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں کہا ہےکہ یمن کے مفرور سابق صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حمایت اور شام کے صدر بشار اسد کی مخالفت میں عرب حکومتوں کے دو متضاد مواقف انتہائی حیرتناک ہیں۔ البخیتی نے کہا کہ عرب حکومتیں اپنے ان متضاد مواقف کے ذریعے اس کوشش میں ہیں کہ منصور ہادی کو، جسے یمن کی عوامی حمایت حاصل نہیں ہے، صدر کے طور پر یمن کے عوام پر مسلط کردیں۔ لیکن دوسری طرف ان ہی ملکوں کی یہ بھی کوشش ہے کہ شام کے صدر بشار اسد کا، کہ جنہیں اس ملک میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہے، تختہ الٹ دیں۔ تحریک انصاراللہ نے کہا کہ عبد ربہ منصور ہادی اور بشار اسد کے درمیان فرق یہ ہے کہ منصور ہادی امریکہ کا پٹھو ہے لیکن بشار اسد علاقے میں امریکی پالیسیوں کے سخت مخالف ہیں۔ البخیتنی نے کہا کہ عرب ممالک، منصور ہادی کی حمایت، اور بشار اسد کی مخالفت کرکے امریکی پالیسیوں کی سمت قدم بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے بعض ملکوں کی حمایت سے یمن پر سعودی عرب کے حملوں کے بارے میں کہا کہ ایسے میں جبکہ جارح ممالک اپنے اقدام کے بارے میں نظر ثانی کررہے ہیں، انصاراللہ پوری قوت کے ساتھ میدان میں داخل ہوگی اور پھر حملہ آور ممالک، یمن کی صورتحال کے ذمہ دار ہوں گے۔ سعودی عرب نے یمن کے اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمعرات کی صبح سے یمن کے بعض علاقوں پر اپنے حملے شروع کئے ہیں جس میں بہت سے شہری شہید ہوگئے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 مئی 28