Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 73122
Published : 18/4/2015 12:11

حسن نصراللہ، یمن پر سعودی حملے کی مخالفت

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے یمن پر حملے کے لیے عربوں کی نمائندگی پر مبنی سعودی عرب کے دعوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عربوں نے سعودی عرب کو اپنی نمائندگی میں یمن پر حملے کی ذمہ داری نہیں سونپی ہے-
العالم کی رپورٹ کے مطابق سید حسن نصراللہ نے جمعہ کی شام یمن کے عوام کی حمایت میں ہونے والے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ ہم یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کی مخالفت اور یمن کی مظلوم قوم کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں- سید حسن نصراللہ نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب دعوی کرتا ہے کہ وہ عربوں کی نمائندگی میں یمن پر حملے کر رہا ہے لیکن کیا عربوں نے سعودی عرب کو اپنی نمائندگی میں یمن پر حملہ کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے؟ حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ یمن کے عوام کو خود کو عرب اور مسلمان ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ جس نے یمن پر جارحیت کی ہے اسے اپنا عرب اور مسلمان ہونا ثابت کرنا چاہیے، کیونکہ یمن کے عوام پیغمبر اسلام (ص)، خانہ خدا کی زیارت اور روضہ رسول کے عاشق ہیں اور یہ دعوی کہ یمنی عوام مکہ و مدینہ کے لیے خطرہ ہیں، بےبنیاد اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے ہے- سید حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ یمنی عوام کے حجاز میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کے لیے خطرہ ہونے کا دعوی ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے کہ جب داعش اور سعودی عرب کی وہابیت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے لیے سب سے سنگین خطرہ ہیں- انھوں نے کہا کہ آل سعود نے سعودی عرب کے مذہبی مقامات کو تباہ کیا اور وہ انیس سو چھبیس میں روضہ رسول کو بھی منہدم کرنا چاہتے تھے لیکن مصر کی جامعۃ الازہر اور مسلمانوں کے اعتراضات کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21