Friday - 2018 Dec 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 73214
Published : 19/4/2015 21:20

ایران اور افغانستان کے صدور کی پریس کانفرنس

صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ تہران اور کابل کے مفادات کے تحفظ کےلئے ایران اور افغانستان کے درمیان تعاون کے فروغ کی ضرورت ہے- اتوار کے روز تہران میں افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ تشدد و انتہا پسندی اور ایران کی سرحدوں سے ملے علاقوں میں دہشتگردی اور اسی طرح اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے ایران اور افغانستان کے درمیان مختلف شعبوں خاص طور سے اطلاعات و سیکورٹی کے شعبوں میں تعاون کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی ضرورت ہے- انھوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر سیکورٹی آپریشن کے لئے بھی تعاون کیا جاسکتا ہے- صدر مملکت نے کہا کہ ایران اور افغانستان کو چاہیئے کہ علاقے کے دیگر ملکوں کے ساتھ بھی تعاون کریں اسلئے کہ یہ مسائل، کسی ایک ملک سے مربوط نہیں ہیں بلکہ یہ پورے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان مسائل کو حل کرنے کےلئے علاقے کے تمام ملکوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے- ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران میں افغان پناہ گزینوں کے مسئلے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ایران میں موجود تمام افغان پناہ گزینوں کے نام کا اندراج ہوگا اور ایسی تدابیر اختیار کی جائیں گی کہ جو افراد کام کے سلسلے میں ایران آتے ہیں وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے رہائش و آمدورفت کا سلسلہ جاری رکھ سکیں- صدر مملکت نے یمن کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے تمام ملکوں کو چاہیئے کہ اس بات کی کوشش کریں کہ یمن کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کیا جائے تاکہ یمنی عوام ،مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کرسکیں- اس موقع پر افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت علاقے کو خطرناک صورت حال سے باہر نکلنے اور امن و استحکام کی طرف قدم آگے بڑھائے جانے کی ضرورت ہے- انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ علاقے کو اس وقت ایک بڑے خطرے اور مختلف قسم کی دہشتگردی کا سامنا ہے اور تمام ملکوں کے تعاون کے بغیر دہشتگرد گروہوں کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا- افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ان کی حکومت اور قوم، ایران کے ساتھ تعلقات میں نئے باب کا اضافہ کرنا چاہتی ہے، کہا کہ دونوں ممالک، مسائل و مشکلات کو حل اور مواقع سے بھرپور استفادہ کئے کے جانے کے بارے میں مشترکہ نظریات رکھتے ہیں-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Dec 14