Friday - 2018 Dec 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 73318
Published : 20/4/2015 19:11

یمن پر حملہ: سعودی میڈیا تنقید نہیں کرسکتا

سعودی عرب میں ذرائع ابلاغ پر یمن پر ہونے والے حملوں پر کسی طرح کی تنقید کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ایسوشی ایٹڈ پریس نے اتوار کو رپورٹ دی ہے کہ سعودی ذرائع ابلاغ پر یمن پر حملے کے سلسلے میں سیکورٹی حکام کی طرف سے جاری کئے جانے والے بیان سے ہٹ کر کسی طرح کی خبر دینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے- اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے انسانی حقوق کی سرگرم شخصیات ملک میں فوجی و سیکورٹی ماحول پیدا ہونے کی بات کر رہی ہیں۔ ایسوشی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی ذرائع ابلاغ میں اس وقت پوری توجہ یمن پر سعودی حملوں پر دی جا رہی ہے چاہے وہ انٹرویو یا بیان کی شکل میں ہوں یا مقالے و رپورٹ کی شکل میں۔ سعودی ذرائع ابلاغ کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ یمن پر حملے کو شام، عراق اور لبنان میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ کے حصے کے طور پر پیش کریں۔ اس تناظر میں بحرین میں اب تک تین افراد کو یمن کی جنگ میں اپنے ملک کے شامل ہونے پر تنقید کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن نے جو اس وقت اپنے خلاف مقدمے کی کاروائی کا انتظار کر رہے ہیں، اس سلسلے میں کہا کہ یمن کے خلاف سعودی عرب کی جارحیت پر کسی طرح کی تنقید یا ملک میں اصلاحات کے مطالبے کو جاسوسی اور ملک سے غداری سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ ایسو شی ایٹڈ پریس نے سعودی عرب میں بالخصوص دو ہزار گیارہ سے شروع ہونے والی عوامی انقلابی تحریکوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے اور محمد بن نائف کو ولیعہد بنائے جانے سے سعودی عرب کی گہری سیکورٹی تشویش کا پتہ چلتا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Dec 14