يکشنبه - 2019 مارس 24
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 73519
تاریخ انتشار : 24/4/2015 18:32
تعداد بازدید : 31

یورپ میں نسل پرستی فروغ پا رہی ہے: اردوغان

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے استنبول میں اعلی امن کانفرنس میں کہا کہ یورپی ملکوں میں نسل پرستی اور غیر ملکیوں کے خلاف امتیازی رویہ فروغ پا رہا ہے۔
ہمارے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے صدر نے جمعرات کے روز اعلی امن کانفرنس میں کہا کہ یورپ میں پچاس لاکھ ترک باشندوں کو نسل پرستانہ اقدامات کا سامنا ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کی حمایت کریں۔ ترکی کے صدر نے کہا کہ ترکوں کے ہاتھوں ارمنی عیسائیوں کی نسل کشی کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ بے بنیاد ہے اور ہم اس سلسلے میں موجود تمام دستاویزات اور حقائق پیش کرنے کو تیار ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسّی ہزار ارمنی عیسائی کہ جن میں سے نصف ترک اور نصف مہاجر ہیں، ترکی میں ہیں اور مکمل امن و سکون کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں۔ ترکی کے صدر نے مزید کہا کہ چالیس لاکھ مسلمان بالقان کے واقعے میں مارے گئے لیکن کسی نے ان کو یاد تک نہیں کیا جبکہ ہم ارمنی عیسائیوں کے مارے جانے پر غم و اندوہ میں مبتلا ہیں۔ ترکی کے صدر نے کہا کہ جو لوگ ارمنی عیسائیوں کی نسل کشی کی بات کرتے ہیں، ان کا اپنا ماضی صاف اور اچھا نہیں ہے اور وہ اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب عراق کے صدر فواد معصوم نے بھی اس کانفرنس میں کہا کہ ہمیں عوام کی بہتر معیشت اور فلاح و بہبود کے لئے کوششں کرنی چاہئے۔ عراقی صدر نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ داعش دہشت گرد گروہ انتہا پسندی کا واضح مصداق ہے، کہا کہ سب سے خطرناک اور پر تشدد انتہا پسندی وہ دہشت گردی ہے جو دین اور فرقہ واریت کے نام پر انجام پاتی ہے۔


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :