Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 73521
Published : 24/4/2015 18:37

سعودی عرب کی ایرانی طیارے کو فوجی دھمکی

سعودی عرب نے ایران میں علاج کروانے والے یمنی باشندوں اور انسان دوستانہ امداد کے حامل طیارے کو فوجی دھمکی دے کر، یمن کے دارالحکومت صنعا ایئر پورٹ پر اترنے کی اجازت نہیں دی۔ ہمارے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو ایران کا ایک طیارہ، تہران میں علاج کروانے والے یمن کے پنچانوے زخمیوں اور پانی، غذائی اشیاء اور دواؤں پر مشتمل انسان دوستانہ امداد لے کر تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے سے یمن کے دارالحکومت صنعاء کے لئے روانہ ہوا تاہم پانچ گھنٹے پرواز کرنے کے بعد یہ طیارہ سعودیوں کی جانب سے روکے جانے اور فوجی دھمکی دینے کے سبب صنعاء ایئرپورٹ پر نہیں اتر سکا۔ سعودیوں نے اس طیارے کو ایک ایسے وقت میں صنعاء ایئر پورٹ پر اترنے کی اجازت نہیں دی کہ جب اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ کے حکام نے ریاض کے ساتھ اس سلسلے میں ہم آہنگی کی تھی۔ آل سعود حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال کی دھمکی ملنے کے بعد یمنی شہریوں اور انسان دوستانہ امداد کا حامل یہ طیارہ، ایران کے شہر بندر عباس کے ایئر پورٹ پر اتر گیا تاکہ مناسب حالات فراہم ہونے کے بعد دوبارہ صنعاء کی طرف پرواز کر سکے۔ اس طیارے میں یمن کے وہ مسافر سوار تھے جو یمن پر سعودی جارحیت سے قبل، مختلف شہروں میں القاعدہ کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں شدید زخمی ہو گئے تھے اور انہیں علاج کے لئے تہران لایا گیا تھا ۔ اس وقت سعودی حکام ریاض میں ان کے علاج معالجے کی بات کر رہے تھے اور اب ان ہی افراد کو ان کے وطن واپس جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے ستائیس روز تک یمن پر تباہ کن اور وحشیانہ حملے کرنے کے بعد منگل اور بدھ کی درمیانی شب جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود سعودی جنگی طیاروں نے جنوبی یمن کے مختلف علاقوں پر پچیس مرتبہ بمباری کی ہے۔ یمن کے صوبے صعدہ کے گورنر نے اس صوبے پر سعودی عرب کے شدید حملوں کے بعد اسے آفت زدہ صوبہ قرار دیتے ہوئے فوری امداد روانہ کئے جانے کی درخواست کی ہے۔ یمن پر سعودی عرب کے جنگی طیاروں کے تقریبا ایک ماہ تک جاری رہنے والے ان وحشیانہ حملوں کے دوران ہزاروں افراد شہید اور زخمی ہو گئے۔ یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کی سیاسی کونسل کے رکن نے آل سعود کو خبردار کیا ہے کہ اگر یمن پر ہوائی حملے جاری رہے تو یہ عوامی تحریک آل سعود کی بربریت کا دنداں شکن جواب دے گی۔ محمد البخیتی نے کہا کہ آل سعود خاندان کے داخلی اختلافات کے باعث یمن کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے بارے میں، سعودی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے اور سعودی حکام مایوسی کا احساس کر رہے ہیں۔ البخیتی نے کہا کہ ہم یمن میں مذاکرات کا آغاز وہیں سے کرنے کے خواہشمند ہیں کہ جہاں سعودی حملوں کے سبب رک گئے تھے۔ یمنی عوام نہیں چاہتے کہ ایک غدار صدر اقتدار میں آئے اور وہ یمن میں عبد ربہ منصور ہادی کی اقتدار میں واپسی کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ یمن کی انصاراللہ تحریک کی سیاسی کونسل کے رکن نے کہا کہ سعودی عرب کو جب پتہ چلا تحریک انصاراللہ جوابی حملے کرنے والی ہے تو اس نے اپنے حملے بند کر دیئے اور اگر یہ حملے جاری رہے تو پھر ہم بھی سخت جواب دیں گے۔ ہم سعودی عرب کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اندازوں پر ایک بار پھر نظر ثانی کرے کیونکہ ہمارا جواب بہت سخت ہو گا۔ ہمیں سعودی عرب سے مقابلے کے لئے میزائلوں کی ضرورت نہیں ہے۔ یمن سے موصولہ تازہ ترین خبروں کے مطابق یمنی فوج نے عوامی فورس کی مدد سے تعز کے پینتیسویں بکتربند بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ المسیرہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق یمن کی سیکورٹی فورس نے عوامی فورس کی مدد سے، اصلاح پارٹی اور القاعدہ کے عناصر سے شدید جھڑپوں کے بعد اس پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24