Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 73522
Published : 24/4/2015 18:40

پڑوسی ممالک کی ارضی سالمیت کے احترام کے قائل ہیں: ایران

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ایران اپنے کسی بھی پڑوسی ملک کو نہ تو دھمکی دیتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کی دھونس اور دھمکی میں آئے گا-
ایسنا کی رپورٹ کےمطابق بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان نے جمعرات کو رشیا ٹوڈے کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ہم پڑوسی ملکوں کی ارضی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ طاقتور ایران، علاقے میں امن و سلامتی کے استحکام کا باعث ہے اور ہم اپنی قوت و توانائی کو عالم اسلام کا مضبوط پوائنٹ سمجھتے ہیں۔ جنرل حسین دہقان نے کہا کہ ہم ایران کو علاقے کے لئےخطرناک ملک ظاہر کرنے کی امریکہ اور اسرائیل کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ پوری تاریخ میں ایران نے کبھی بھی کسی ملک پر حملہ نہیں کیا ہے۔ ایران کے وزیر دفاع نے شام، عراق اور یمن کے مسائل کے سلسلے میں ایران کے موقف کے بارے میں کہا کہ ہم نے سرکاری طور پر اعلان کر دیا ہے کہ جن ممالک کو بھی امریکہ اور اسرائیل دھمکی دیں گے ہم ان کی حمایت کریں گے اور ہمارا یہ موقف بین الاقوامی تعلقات میں تسلیم شدہ ہے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے منشور سمیت کوئی بھی چیز رکاوٹ نہیں ہے۔ ایران کے وزیر دفاع نے امریکہ اور سعودی عرب کو غاصب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ملکوں نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیارات کی خلاف ورزی کی ہے ، لیکن ایران غاصب یا قابض ملک نہیں ہے اور اگر کوئی ملک ایران سے مدد کی درخواست کرے گا تو ہم اس کی مدد کریں گے۔ انھوں نے یمن کے لئے ایران کے ہتھیاروں کی ترسیل اور انصاراللہ کی مدد کرنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاراللہ کے پاس خود بھاری مقدار میں ہتھیار اور فوجی سازو سامان موجود ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یمن کی فوج اور تمام سرکاری ادارے اور تنظیمیں بھی ان کے ساتھ ہیں۔ ایرانی وزیر دفاع نے، ایس تھری ہنڈرڈ میزائل سسٹم کے معاہدے پر عملدرآمد کے مسئلے کے، یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی فوجی جارحیت سے ممکنہ تعلق ہونے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایس تھری ہنڈرڈ معاہدے پر عملدر آمد کے مسئلے، اور یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے اور امریکہ کا بیانات اور موقف، نیز سعودی عرب کے اقدامات کا اس معاہدے پر عمل درآمد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ہم نے ایس تھری ہنڈرڈ میزائیل سسٹم خریدنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ ایران کے دفاع کی بنیادوں کو مزید مستحکم کرنے کے لئے اور ایران کو درپیش حالات کے تحت کیا ہے۔ ایران کے وزیر دفاع نے کہا کہ ایس تھری ہنڈرڈ میزائیل سسٹم کی خریداری کا معاہدہ، چھ سال قبل اس وقت کے صدر ڈیمٹری مڈوڈف کے فیصلے کے بعد التواء میں ڈال دیا گیا تھا تاہم اس وقت سے لے کر اب تک ہم اس معاہدے پر عملدر آمد کا بار بار مطالبہ کرتے رہے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21