دوشنبه - 2019 مارس 25
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 73815
تاریخ انتشار : 28/4/2015 14:22
تعداد بازدید : 16

سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے مشترکہ مفادات

آبنائے باب المندب کو کھلا رکھنے کی غرض سے یمن کے خلاف سعودی عرب کے فوجی حملے، غاصب صیہونی حکومت کے لئے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں-
صیہونی حکومت کی ایک ویب سائٹ نے اس سلسلے میں تاکید کی ہے کہ مسئلہ فلسطین کے بارے میں اسرائیل اور یورپی یونین کے درمیان اختلافات پیدا ہونے اور فریقین کے تعلقات بحرانی ہوجانے کے بعد اسرائیل کو آبنائے باب المندب کی اشد ضرورت ہے- اس ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کےلئے اگرچہ پورے افریقہ کا چّکر لگاکر باب المندت کا متبادل مل سکتا ہے تاہم یہ طویل راستہ، اقتصادی طور پر وسیع اخراجات کا باعث ہے- اس ویب سائٹ نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل، بحیرہ احمر میں پائے جانے والے تمام خطرات دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اسی بنیاد پر آل سعود کی حکومت نے مصر کو اربوں ڈالر فراہم کئے ہیں اور وہ، اس ملک کی بھرپور مالی حمایت کررہی ہے تاکہ وہ بحیرہ احمر میں ان کے بحری جہازوں کے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہونے دے- اسرائیل کو بھی ایسی ہی تشویش لاحق ہے اور وہ بھی چاہتا ہے کہ نہر سوئیز میں اس کے بحری جہازوں کو آزادی ملی رہے- اس سائٹ کے مطابق اس کے ساتھ ہی اسرائیل بعض مقاصد کے تحت یمن کے کچھ علاقوں پر حملوں کو ضروری سمجھتا ہے- اسرائیل و سعودی عرب کے مشترکہ مفادات، اس بات کے متقاضی ہیں کہ وہ بحیرہ احمر میں اپنے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو برقرار رکھیں - صیہونی میڈیا کے مطابق یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان خفیہ تعاون شروع ہوا ہے-


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :