Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 73820
Published : 28/4/2015 19:29

ایٹمی ہتھیار انسانیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ

اقوام متحدہ کی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر ںظرثانی کانفرنس میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایٹمی ہتھیاروں کو انسانیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ اور ان کی نابودی کو عالمی برادری کی اہم ترین ترجیح قرار دیا- ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کے روز نیویارک میں ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ معاہدے پر نظرثانی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کی نابودی، بدستور ناوابستہ تحریک کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کے اہداف کو عملی جامہ پہنانے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو استحکام پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ اس معاہدے پر کسی تفریق کے بغیر مکمل طور پر عملدرآمد کیا جائے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بعض ملکوں کی جانب سے این پی ٹی معاہدے کی خلاف ورزی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے نہ صرف اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی نابودی کے سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا بلکہ وہ جدید قسم کے ایٹمی ہتھیاروں کے سلسلے میں منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔ محمد جواد ظریف نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی پر عملدرآمد نہ ہونے پر، ناوابستہ تحریک کی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ صورتحال یونہی جاری رہی تو اس سے معاہدے کے اہداف اور ساکھ کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ انہوں نے ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کے اس فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایٹمی ممالک، ترک اسلحہ اور عدم پھیلاؤ کے بارے میں مذاکرات کے پابند ہیں، ان وعدوں پر عملدرآمد اور ایٹمی ہتھیاروں کے جامع کنوینشن کے مذاکرات، فوری طور پر شروع کئے جانے اور ایک معینہ وقت میں ان ہتھیاروں کی نابودی کے سلسلے میں مرحلے وار منصوبہ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال یا ان ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دینا انسانیت کے خلاف جارحیت اور اقوام متحدہ کے منشور نیز بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی پر نظرثانی کانفرنس، پیر ستّائیس اپریل کو شروع ہوئی ہے جو بائیس مئی تک جاری رہے گی۔ یہ کانفرنس ہر پانچ سال میں ایک بار منعقد ہوتی ہے اور اس میں اس معاہدے پر عملدرآمد نیز گذشتہ کانفرنسوں کے منصوبوں اور بلوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس اجلاس میں ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کے ایک سو نواسی رکن ملکوں کے تقریبا پچیس وزرائے خارجہ اور نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20