Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 73904
Published : 29/4/2015 22:24

سعودی حکام کا انجام صدام جیسا ہوسکتا ہے

تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے مغربی ایشیا میں امریکی حکمرانوں کی متضاد پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکام کے ساتھ بھی صدام جیسا سلوک ہو سکتا ہے اور یہ خارج از امکان بھی نہیں ہے- محسن رضائی نے بدھ کے روز مزدور برادری کے چودہ ہزار شہیدوں کی یاد میں اور محنت کشوں کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ پروگرام میں کہا کہ جس طرح امریکیوں نے مختلف حیلے بہانوں سے صدام کو ایران کے خلاف جنگ کے لئے اکسایا، اس وقت یمن پر حملے میں سعودی عرب کے لیے یہی صورت حال پیدا ہوئی ہے- انھوں نے کہا کہ لیکن ایران اور عراق کی جنگ کے بعد جب صدام نے سب چیزوں کو ہاتھوں سے نکلے ہوئے دیکھا تو اس نے کویت پر چڑھائی کر دی اور امریکیوں کے مقابلے پر آگیا - انہوں نے کہا کہ بعید نہیں ہے کہ مستقبل میں سعودی حکام کے لیے بھی ایسے ہی حالات پیدا کردئے جائیں -محسن رضائی نے مزید کہا کہ اگر مستقبل قریب میں امریکیوں نے سعودی حکام کو بھی مغربی ایشیا میں صدام کی مانند بدی کا مرکز قرار دے دیا تو تعجب نہیں کرنا چاہیے- محسن رضائی نے ایٹمی معاملے کو اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی و پیشرفت میں رکاوٹ ڈالنے کا بہانہ قرار دیا اور کہا کہ ایران اپنے اصولی اور منطقی معیارت کی بنیاد پر ان مذاکرات کا منتظر ہے اور ہم تیسری بار امریکہ کو آزمانا چاہتے ہیں- انھوں نے کہا کہ امریکی صدر کو تھوڑی سی عقل آئی ہے اور انھوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر مذاکرات منقطع ہوئے تو ہمارے سامنے پابندیوں کو سخت اور فوجی اقدام کرنے کے آپشن ہیں تاہم یہ دونوں آپشن ایران کے طاقتور ہونے کی وجہ سے ناممکن ہوکر رہ گئے ہیں- محسن رضائی نے مزید کہا کہ باراک او باما نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیوں کو سخت کرنے کا نتیجہ واضح نہیں ہے اور ایران کے خلاف جنگ کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ بہت ممکن ہے کہ جنگ، علاقے میں ایران کے مزید قوی اور مضبوط ہونے کا باعث بنے اور اس کے مقابل امریکہ کو بھی نقصان اٹھانا پڑے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16