Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 73907
Published : 29/4/2015 22:35

سعودی عرب میں حکام کی تبدیلی اور اس پر ردعمل

آل سعود کی حکومت کے حکام ک برطرفی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولیعہد مقرن بن عبدالعزیز اور وزیر خارجہ سعود الفیصل کو بھی برطرف کر دیا ہے- کہا جاتا ہے کہ آل سعود نے ملک کی تیل کی آمدنی کے اربوں ڈالر فوجی شعبوں میں لگا کر عوام کی ضرورتوں کو نظر انداز کر دیا ہے جس کے نتیجے میں صحت عامہ، ہاؤسنگ، اور شہری آزادیوں نیز دیگر رفاہ عامہ کے امور میں شہریوں کو سخت مسائل کا سامنا ہے اور اس پر عوام میں غم و غصہ پیدا ہو گیا ہے۔ ادھر نئے بادشاہ کے اقدامات سے معلوم ہوتا ہےکہ انہوں نے عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اقتدار کے مراکز کو اپنے قبضے میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ سابق بادشاہ عبداللہ کے قریبی مہروں کو کلیدی مناصب سے ہٹا کر اپنے قریبی افراد اور اولاد کو ان مناصب پر رکھنا شاہ سلمان کا ہدف ہے جو روز اول ہی سے واضح تھا کیونکہ انہوں نے سعودی عرب کا اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد یہ کام شروع کر دیا تھا۔ سلمان بن عبدالعزیز نے ملک کے تمام اہم عہدوں پر اپنی اولاد اور اپنے قریبی افراد کو مقرر کر کے تمام اداروں اور مراکز کے فیصلوں اور اقدامات پر نظر رکھنے کا انتظام کر لیا ہے، وہ اس طرح آل سعود میں ممکنہ بغاوت کو کچلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آل سعود کے مہروں میں رد و بدل کئےجانے سے اس ملک کے قرون وسطی کے سیاسی اور ظالمانہ نظام حکومت میں کوئی تبدیل نہیں آتی بلکہ محض افراد بدل جاتے ہیں۔ سعودی عرب علاقے کے مختلف ملکوں جیسے بحرین اور یمن میں براہ راست مداخلت کر رہا ہے - شام و عراق اور لبنان میں مغربی سامراج کی فتنہ انگیز پالیسیوں کی مکمل حمایت کر رہا ہے جبکہ پاکستان میں آل سعود کا تخریبی کردار بھی کسی پر پوشیدہ نہیں ہے- حتی ایسی خبریں بھی موصول ہورہی کہ آل سعود نے، پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ کو مشورہ دیا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں منجملہ پپلز پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کو جنگ یمن کی مخالفت کی بناپر محدود کردیا جائے- ان اقدامات سے عالمی رائے عامہ کے نزدیک آل سعود کی حکومت ایک ظالم، استبدادی، جمہوریت مخالف حکومت قرار پائی ہے۔ آل سعود کی غیر ذمہ دارانہ خارجہ پالیسی سے اس حکومت کی شکست کی زمین ہموار ہو چکی ہے اور یمن میں آل سعود کی وحشیانہ جارحیت اور ناکامی کے نتیجے میں ہی شاہی خاندان میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15