Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 73927
Published : 1/5/2015 11:39

ایران کی پالیسی مثبت اشتراک عمل پر استوار ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر روحانی نے دنیا کے ساتھ مثبت اشتراک عمل کو ایران کی اہم پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس ملک کے دروازے بند ہوں اس میں مقابلے کی طاقت نہیں ہوگی اسی لئے مثبت اشتراک عمل ایران ، خطے اور دنیا کے فائدے میں ہے- صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے بدھ کے دن ایران کے جنوبی صوبے فارس کے سرمایہ کاروں کے اجتماع میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی معاملے کے بارے میں طے پانے والے امور کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ثابت کردیا ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ مذاکرات کے لئے ضروری صلاحیت، طاقت، منطق اور سفارتکاری کا حامل ہے اور جنیوا اور لوزان میں دو اہم قدم اٹھائے جانے کے بعد آج نیویارک میں سمجھوتے کی تدوین کا کام شروع ہوگیا ہے- صدر مملکت نے مزید کہا کہ ایران مشکلات حل کرنے کے اعتبار سے گروپ پانچ جمع ایک کے رکن ممالک سے آگے ہے کیونکہ ایران کے اندر ایٹمی معاملے کے بارے میں اتحاد پایا جاتا ہے اور عوام نے ایران کی اس پالیسی کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے جس پر عمل کیا جارہا ہے- صدر مملکت ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ اگر ہمارے ساتھ مذاکرات کرنے والا فریق عملی طور پر اسی طرح سنجیدہ ہو کہ جس کا وہ زبان سے اظہار کرتا ہے اور وہ اپنی داخلی مشکلات پر قابو بھی پاسکتا ہو تو پھر مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنی تقریر کے دوسرے حصے میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے، کہ بہت سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات میں توسیع آرہی ہے، خطے کے دو ایک ممالک کی کارکردگی پر تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ ممالک، آئے دن اپنی مشکلات میں اضافہ کیوں کر رہے ہیں اور مجھے نہیں معلوم یہ کونسا مقصد حاصل کرنے کے درپے ہیں- صدر مملکت نے مزید کہا کہ غیر ملکی مشیروں کی مدد سے ایک غریب ملک پر بمباری کا اس ملک کو کیا فائدہ ہوگا کہ جس کے پاس فوجی تجربہ نہیں ہے؟ انھوں نے کہا کہ خطے میں اثر و رسوخ بڑھانا ہو، یا دوسرے ملک پر تسلط حاصل کرنا ہو یا سرحدوں کا کنٹرول کرنا ہو ان کا ہدف جو بھی ہو بہرحال یہ ایک غلطی ہے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16