Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 76892
Published : 12/6/2015 13:13

رہبر معظم کا امام خمینی (رہ) کے حرم میں ان کی 26 ویں برسی کے موقع پر عظیم الشان اجتماع سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) کے حرم مطہر میں آج صبح ایران کے وفادار عوام کے ایک عظیم اور بےمثال اجتماع سے خطاب میں حضرت امام خمینی (رہ) کے مکتب کو ایرانی قوم کے لئے پرامید نقشہ راہ قراردیا

رہبر معظم انقلاب  اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) کے حرم مطہر میں  آج صبح ایران کے وفادار عوام کے ایک عظیم اور بےمثال اجتماع سے خطاب میں حضرت امام خمینی (رہ) کے مکتب کو ایرانی قوم کے لئے پرامید نقشہ راہ قراردیا اور حضرت امام خمینی (رہ) کی شخصیت کے بارے میں تحریف کا سنجیدگی کے ساتھ مقابلہ کرنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اس عظیم انسان کی  شخصیت کے بارے میں تحریف کا مقابلہ صرف ان کے مستند اصول کا مطالعہ کرنے کے ذریعہ ممکن ہے، حضرت امام خمینی(رہ)  کے اصولوں میں ، خالص اسلام  محمدی کا اثبات، امریکی اسلام کی نفی، اللہ تعالی کے وعدے پر اعتقاد ، مستکبرین پر عدم اعتماد ، عوامی طاقت و عزم پر اعتماد ، حکومتی تمرکز کی مخالفت ، محرومین کی سنجیدہ حمایت ، اشرافیت کی مخالفت ، دنیا کے مظلومین کی حمایت ،بین الاقوامی منہ زور طاقتوں کی آشکارا مخالفت، استقلال کی حمایت ، تسلط قبول کرنے کی مخالفت  اور قومی اتحاد پر تاکید جیسے اصول شامل ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کی 26 ویں برسی کے موقع پر اپنے خطاب کے آغاز میں  پندرہ شعبان حضرت ولی عصر (عج) کی ولادت باسعادت اور منجی آخرالزمان کے موضوع  پر تمام ابراہیمی ادیان کے اتفاق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تمام اسلامی مذاہب اس منجی کو پیغمبر اسلام (ص) کی اولاد اور مہدی (عج) کے نام سے پہچانتے ہیں، شیعہ مذہب کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اس عظیم ہستی کو مشخص اور معین طور پر معرفی کرتے ہیں اور امام مہدی (عج) کو گیارہویں امام حضرت امام حسن عسکری (ع) کا فرزند مانتےاور اسےمختلف دلائل کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امید آفرینی کو مہدی موعود (عج) کے ظہور پر اعتقاد کو سب سے بڑی خاصیت قراردیتے ہوئے فرمایا: اس گہرے اور نجات بخش اعتقاد کی یہ شمع فروزاں  شیعوں کو ظلم و تاریکی کے تمام ادوار میں مستقبل کے بارے میں پرامید اور پر تحرک بناتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس کے بعد اپنے آج کے خطاب کے اہم موضوع یعنی امام خمینی (رہ) کی شخصیت کے بارے میں تحریف کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: بعض افراد حضرت امام (رہ) کو اپنے دور میں محصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ حضرت امام (رہ) ایرانی قوم کی عظیم اور تاریخ ساز حرکت کے مظہر ہیں اور قدرتی طور پر ان کی شخصیت کے بارے میں تحریف سے اس عظیم حرکت کو بیشمار حظرات پہنچنے کا خدشہ ہے لہذا اس سلسلے میں مکمل طور پر ہوشیار رہنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کے سیاسی، فکری اور سماجی مکتب کو پیشرفت، اقتدار اور عدالت جیسے اعلی اہداف کے حصول کے لئے ایرانی قوم کا روڈ میپ قراردیتے ہوئے فرمایا: بیشک حضرت امام (رہ) کی صحیح اور درست شناخت کے بغیر یہ نقشہ راہ متوقف ہوجائے گا اور آگے کی سمت نہیں بڑھ پائے گا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کے ممتاز عرفانی، فلسفی اور فقہی  پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا اور انھیں  آیات قرآنی کے مضمون کا عملی مظہر قراردیا جو اللہ تعالی کی راہ کے حقیقی مجاہدوں کی تعریف میں ہیں جنھوں نے اللہ تعالی کی راہ میں حقیقی معنی میں حق جہاد ادا کیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی قوم کے عظيم الشان امام (رہ) نے عالم اسلام اور ایرانی تاریخ میں  بے مثال انقلاب برپا کیا،  شہنشاہیت کے غلط اور بوسیدہ نظام کوسرنگوں کرکے صدر اسلام کے بعد اسلامی احکام پر مشتمل پہلی اسلامی حکومت تشکیل دی  اور اس طرح اپنے تمام وجود کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اندرونی اور معنوی جہاد کو حضرت امام (رہ) کے سیاسی ، فکری اور سماجی  جہاد کی تکمیل قراردیا اور حضرت امام (رہ) کے مکتب کے پہلوؤں کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: وہ فکری منظومہ  جس نے اس عظیم انقلاب کو برپا کیا وہ  توحیدی جہان بینی  پر استوار تھا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فکری بالیدگی کو حضرت امام خمینی (رہ) کی دوسری خصوصیت قراردیتے ہوئے فرمایا: حضرت امام (رہ) اپنے منسجم منظومہ فکری  تکیہ کرکے ایرانی معاشرے اور عالمی معاشرے کے لئے راہ حل پیش کرتے تھے  اور قومیں  ان کے راہ حل کی قدر و قیمت  کا احساس کرتی تھیں  اور مکتب امام (رہ) کو قوموں کے درمیان فروغ ملنے کی ایک وجہ یہی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےمکتب  امام خمینی (رہ) کی دیگرخصوصیات میں تحرک ، فکری بالیدگی  اور زندہ دلی کو شمار کرتے ہوئے فرمایا: امام (رہ) دنیا کے دوسرے نظریہ پردازوں اور مفکرین کی طرح نہیں تھے کہ جو عام محفلوں میں اچھے بیانات جاری کرتے ہیں لیکن عمل کے میدان میں بے بس ہوجاتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی قوم میں امید ، نشاط ، جذبہ کی موجودگی اور حرکت کو  مکتب امام (رہ) اور امام کی پیروی کے مبارک نتاچ میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کا ابھی اپنے اہداف تک پہنچنے میں کافی فاصلہ ہے  لیکن اہم بات یہ ہے کہ ایرانی قوم عزم و ہمت  و امید اور حوصلہ کے ساتھ  اس تابناک راستے پر گامزن ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس شرق آفریں راستے پر درست حرکت کو حضرت امام خمینی (رہ)  اور ان کے اصولوں کی صحیح شناخت سے وابستہ قراردیتے ہوئے فرمایا: حضرت امام (رہ) کی شخصیت کے بارے میں تحریف ، در حقیقت امام (رہ) کے راستے کی تحریف اور ایرانی قوم کو صراط مستقیم سے منحرف کرنے کی ایک کوشش ہے اور اگر راہ امام (رہ) گم ہوگیا یا اسے فراموش کردیا گیا یا خدانخواستہ اسے جان بوجھ کر الگ کردیا گیا  تو اس صورت میں ایرانی قوم کو زوردار طمانچے کا ساما کرنا پڑےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقہ کے ایک بڑے ملک کے عنوان سے  ایران کے بارے میں عالمی منہ زور اور تسلط پسند  طاقتوں کی طمع  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عالمی منہ زور طاقتیں اس وقت اس طمع سے دست بردار ہوجائیں گی جب وہ ایران کی ترقی، پیشرفت اور طاقت کو دیکھ کر مایوس ہوں گی۔

رہبر معظم انقلاب نے حضرت امام خمینی (رہ) کے مکتب کے اصول کے دائرے میں رہ کر حرکت کو ایرانی قوم کی طاقت ، قدرت اور پیشرفت کا ضامن قراردیتے ہوئے فرمایا: ان مسائل کو مد نظر رکھنے کے بعد حضرت امام خمینی (رہ) کی شخصیت کے بارے میں تحریف کے خطرے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور اس خطرے کے بارے میں حوزات علمیہ، یونیورسٹیوں ، مفکرین ، انقلاب اسلامی اور حضرت امام (رہ) سے محبت اور ہمدردی رکھنے والے افراد ، ممتاز شخصیات ،جوانوں ،  حضرت امام (رہ) کے قدیمی شاگردوں اور حکام کو سنجیدہ خطرے کے عنوان سے خاص توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کی شخصیت کے بارے میں تحریف کے موضوع کو انقلاب اسلامی کے آغاز سے لیکر ایک طولانی موضوع قراردیتے ہوئے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) کی زندگی میں اور انقلاب کے آغاز سے دشمن کی یہ تلاش و کوشش تھی کہ وہ حضرت امام (رہ) کو ایک خشک و خشن ، غیر لچکدار شخصیت اور غیر عاطفی شخصیت کے عنوان سے معرفی کرے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حضرت امام (رہ) مستکبر طاقتوں کے مقابلے میں ٹھوس اور غیر متزلزل شخصیت کے حامل تھے اور اس کے ساتھ ہی وہ اللہ تعالی کے سامنے خاضع و خاشع  اور خلق خدا بالخصوص مستضعف طبقات  کے ساتھ مہر و محبت اور الفت  کے ساتھ پیش آتے تھے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کے اندر حضرت امام (رہ) کی شخصیت کے بارے میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر تحریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) کی حیات میں بعض افراد کو جو بات اپنی نظر میں پسند آتی تھی اس کی نسبت حضرت امام (رہ) کی طرف دیتے تھے  حالانکہ اس کا ان کی شخصیت کے ساتھ کوئی ربط نہیں تھا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) کی رحلت کے بعد اس گروپ کی تلاش جاری رہی ، یہاں تک کہ بعض افراد حضرت امام خمینی (رہ) کو ایک لیبرل شخص  معرفی کرتے تھے جو سیاسی، فکری اور ثقافتی رفتار میں کسی قید و شرط کا قائل نہیں تھے حالانکہ یہ ںظریہ بالکل غلط اور خلاف واقع ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حضرت امام (رہ) کی شخصیت کی صحیح اور دقیق شناخت  کی راہ کو ان کے فکری مکتب اور اصولوں کے صحیح مطالعہ پر مبنی قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر حضرت امام (رہ) کی پہچان اس روش کی بنیاد پر نہ ہو تومکن ہے بعض افراد اپنے فکری نظریہ کے مطابق حضرت امام (رہ) کی معرفی شروع کردیں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام کے دلوں میں حضرت امام خمینی (رہ) کی محبت کو یادگار اور اس محبت کو محو کرنے کے سلسلے میں دشمن کی کوششوں کو ناکام قراردیتے ہوئےفرمایا: حضرت امام (رہ) کی شخصیت کی جڑیں عوام کے دلوں میں پیوست ہیں اسی بنیاد پر حضرت امام (رہ) کی شخصیت  کے بارے میں تحریف کا معاملہ بڑا خطرناک معاملہ ہے اور امام خمینی (رہ) کے اصولوں کی شناخت اور ان کی زندگی کے مطالعہ سے اس خطرے کو دور کیا جاسکتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کے فکری نظریات اور اصولوں  کو اسلامی تحریک کے 15 سال کے عرصہ اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد 10 سال کے عرصہ میں ان کے گوناگوں بیانات کے ذریعہ حاصل کرنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اگر ان اصولوں کو ایکدوسرے کے ساتھ ملا کررکھا جائے تو حضرت امام خمینی (رہ) کی شخصیت کی حقیقی تصویر سامنے آجائے گی۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کے سات نظریات اور اصولوں کی تشریح سے قبل حضرت امام (رہ) کے اصول کے سلسلے میں چند نکات پیش کئے: 1- یہ اصول مکرر اور بار بار حضرت امام (رہ) کے بیانات میں بیان اور امام (رہ) کے بیّنات کا حصہ ہوں، 2- ان اصول کا خاص انتخاب اور بیان نہیں ہونا چاہیے، 3- امام کے اصول ان سات موارد میں منحصر نہیں ہیں بلکہ صاحب نظر افراد طے شدہ دائرے کے مطابق،  امام (رہ) کے فکری مکتب سے دوسرے اصول بھی نکال سکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس کے بعد حضرت امام (رہ) کے فکری مکتب کے سات اصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: خالص محمدی (ص) اسلام کا اثبات اور امریکی اسلام کی نفی ، ان میں سے ایک اصول ہے اور حضرت امام (رہ) ہمیشہ خالص اسلام کو امریکی اسلام کے مقابلے میں قراردیتے تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکی اسلام کی دو شاخوں یعنی سیکولر اسلام اور متحجر اسلام  کی حقیقت اور ماہیت کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: حضرت امام (رہ) دین سے انسانوں کی اجتماعی رفتار اور معاشرے کی جدائی کے قائل افراد کو ہمیشہ ان افراد کے ساتھ قراردیتے تھے جونئی سوچ کے افراد کے لئے  دین پر پسماندہ اور متحجرانہ اور ناقابل فہم  نگاہ رکھتے تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکی اسلام کی دونوں شاخوں کے سلسلے میں ہمیشہ امریکہ اور عالمی منہ زور طاقتوں کی بھر پور حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج بھی اسلامی شریعت  اور اسلامی فقہ سے بیگانہ اور منحرف  داعش اور القاعدہ  جیسے  بظاہر اسلامی گروہوں کو  امریکہ اور اسرائیل کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) کی نظر میں خالص اسلام ، کتاب اور سنت پر مشتمل ہے جو زمان و مکان کے شرائط اور روشن و متناسب نظریات کے ذریعہ ، اسلامی و انسانی معاشرے کی بالفعل ضرورتوں  کی شناخت ، قابل قبول علمی طریقوں سے استفادہ کے ساتھ ، دشمن کے طریقوں کو مد نظر رکھنے سے  اور حوزات علمیہ میں تکمیل شدہ طریقوں سے حاصل ہوتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حضرت امام (رہ) کے فکری مکتب میں درباری ملاؤں کا اسلام اور داعشی اسلام  ایک طرف اور امریکہ و اسرائیل کے بھیانک جرائم کے مقابلے میں غیر متوجہ  اور بڑی طاقتوں  کی طرف دیکھنے والے افراد کا اسلام دوسری طرف ؛ لیکن یہ دونوں اسلام ایک نقطہ پر پہنچتے ہیں اور یہ دونوں مردود ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جو شخص خود کو حضرت امام (رہ) کا پیروہ کار سمجھتا ہے  اسے سیکولر اسلام اور متحجر اسلام کے ساتھ اپنی سرحد کو پہچاننا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اللہ تعالی کی مدد پر تکیہ، اللہ تعالی کے سچے وعدے پر اعتماد اور اس کے ساتھ  عالمی منہ زور اور مستکبرطاقتوں  پر عدم اعتماد کو حضرت امام خمینی (رہ) کے فکری اصول کی دوسری اصل قراردیتے ہوئے فرمایا: حضرت امام (رہ)  ہمیشہ اللہ تعالی کے سچے وعدے پر اعتقاد اور یقین رکھتے تھے اور اس کے مقابلے میں عالمی منہ زور اور سامراجی طاقتوں کے وعدوں پر بالکل اعتماد نہیں رکھتے تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حضرت امام (رہ) کی یہ بارز خصوصیت اس بات کا موجب بن گئی تھی  کہ وہ اپنا مؤقف کسی لحاظ اور ملاحظہ کے بغیر واضح اور ٹھوس انداز میں پیش کرتے تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کے بعض مستکبر حکمرانوں کے خطوں کے جوابات کو ادب و احترام  کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ  ٹھوس اور واضح جوابات  دینےکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حضرت امام (رہ) نے اعتماد اور توکل کو ایرانی قوم کی رگوں میں خون کی طرح جاری کردیا ہے کہ یہ  قوم بھی اللہ تعالی کی مدد و نصرت پر اعتقاد اور اس پر توکل کی خوگر بن گئی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مستکبرین اور ان کے وعدوں پر حضرت امام (رہ) کے مکمل عدم اعتماد اور عدم توجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ہم نے اس موضوع کو مکمل طور پر محسوس اور مشاہدہ کیا ہے کہ کیوں مستکبرین کے وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا  اس لئے کہ وہ خصوصی جلسات میں ایک بات کرتے ہیں اور عمومی سطح پر اس کے خلاف عمل کرتے ہیں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اللہ تعالی کی ذات پر اعتماد اور مستکبرین پر عدم اعتماد کو حضرت امام خمینی (رہ) کے اصول کا اہم حصہ قراردیتے ہوئے فرمایا: البتہ اس موضوع کا مطلب دنیا سے رابطہ ختم کرنا نہیں تھا  کیونکہ محترمانہ اور معمول کی حد تک رابطہ موجود تھا  لیکن مستکبروں اور ان کے حامیوں پر کسی قسم کا اعتماد نہیں تھا۔

عوامی طاقت اور عزم پر اعتقاد اور حکومتی تمرکز کی مخالفت امام خمینی (رہ) کے فکری اصول کی تیسری قسم تھی جس کی طرف رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اشارہ کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مختلف اقتصادی، فوجی، تعمیراتی ، تبلیغاتی اور سب سے بڑھ کر انتخابات کے مسائل میں ہمیشہ عوامی رائے اور طاقت پر حقیقی اعتقاد اور ان کے عوام پر متکی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کے بعد حضرت امام (رہ) کی زندگی کے 10 سال میں 10 انتخابات منعقد ہوئے جبکہ ان 10 سالوں میں آٹھ سال دفاع مقدس سے متعلق ہیں، حتی حضرت امام (رہ) نے ایک دن بھی انتخابات کو مؤخر کرنے کی اجازت نہیں دی ، انتخابات مقررہ وقت پر منعقد ہوئے  کیونکہ امام (رہ) حقیقی معنی میں عوام کی رائے ، ان کی تشخيص اور ان کی فکر کے احترام کے قائل تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حتی بعض موارد میں ممکن تھا کہ عوام کا انتخاب و تشخیص ، امام (رہ) کی نظر کے ساتھ یکساں نہ ہو  لیکن امام (رہ) عوام کی رائے کے احترام کے قائل تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کی طرف سے عوام کو بار بار ولی نعمت اور خود کو عوام کا خادم قراردینے کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ تعبیریں اس بات کا مظہر ہیں کہ حضرت امام (رہ) کی نظر میں عوام کا ممتاز نقش، عوام کی آراء اور عوام کے حضور کی بہت بڑی قدر و اہمیت تھی البتہ عوام بھی امام (رہ) کے نظریہ کا مناسب جواب دیتے تھے اور جہاں امام (رہ) کی انگلی کا اشارہ ہوتا تھا وہاں عوام  دل و جان کے ساتھ حاضر ہوجاتے تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس حصہ میں اپنے خطاب کو سمیٹتے ہوئے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) اور عوام کے درمیان دوطرفہ رابطہ تھا امام (رہ) عوام کو دوست رکھتے تھے اور عوام بھی امام (رہ) سے والہانہ محبت کرتے تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام (رہ) کے فکری مکتب کے ایک اور اصول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اندرونی مسائل میں حضرت امام (رہ) محروم ، مستضعف اور پسماندہ طبقہ کی سنجیدگی  کے ساتھ حمایت کرتے تھے  اور غیر منصفانہ اقتصادی  صورتحال اور اشرافیت کو سختی اور شدت کے ساتھ رد کرتے تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام (رہ) کو حقیقی معنی میں سماجی انصاف کا حامی اورعدل و انصاف کا طرفدار قراردیا اور حضرت امام (رہ) کے بیانات میں اس موضوع کے بارے میں بار بار تکرار اور ان کے واضح اور قطعی خطوط میں قراردیتے ہوئے فرمایا: حضرت امام (رہ) ایک طرف غربت اور پسماندگی کے خاتمہ پر تاکید کرتے تھے اور دوسری طرف  حکام کو اشرافیت سے بچنے ،کاخ نشینی اور تجمل گرائی سے دور رہنے کی تاکید کرتے تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کی حکام کو کمزور اورمحروم طبقہ کے بارے میں مکرر سفارشات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ کوخ نشین اور فقیر لوگ ہیں جو مشکلات اور سختیوں کو تحمل و برداشت کرکے میدان میں حاضر ہوجاتے ہیں اور کسی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتے ہیں حالانکہ آرام پسند طبقات مشکلات میں سب سے زیادہ ناراض رہتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کے فکری مکتب کی پانچویں اصل کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: غیر ملکی اور عالمی سطح پر حضرت امام (رہ) مستکبروں اور منہ زور عالمی محاذ کے بالکل خلاف تھے اور وہ مظلوموں کی حمایت میں لحاظ و ملاحظہ بالکل نہیں کرتے تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مستکبرین کے ساتھ حضرت امام (رہ) کی عدم آشتی اور امریکہ کےلئے بڑے شیطان  کی تعبیر کو ان کی عجیب خلاقیت قراردیتے ہوئے فرمایا: بڑے شیطان کی تعبیر کا معرفتی اور عملی سلسلہ بہت زیادہ اور طویل ہے کیونکہ جب کسی کو شیطان کا لقب دیا جاتا ہے تو اس کی رفتار اور چال  و چلن  کو شیطانی صفت کے دائرے میں ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حضرت امام (رہ) کا اپنی زندگی کے آخری دن تک امریکہ کے بارے میں یہی نظریہ اور یہی احساس تھا اور وہ اپنے بیانات میں بڑے شیطان کی تعبیر استعمال کرنے کے ساتھ اس پر گہرا اعتقاد بھی رکھتے تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز میں کچھ افراد کی اس گروپ پر توجہ نہیں تھی جسے شاہی حکومت کے عقبہ اور پشتپناہ کے طور پر امریکہ کی طرف سے مدد مل رہی تھی لہذا وہ ملک میں امریکی موجودگی اور امریکی اداروں کی سرگرمی کے حق میں تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب کے اوائل میں عبوری حکومت اور امام (رہ) کے درمیان اختلاف کو اسی قسم پر مبنی اختلاف قراردیتے ہوئے فرمایا: ان کی توجہ اس بات پر نہیں تھی کہ اگر امریکہ کو دوبارہ موقع دیا جائے تو وہ ایرانی قوم پر اپنی ضرب ضرور وارد کرےگا لیکن حضرت امام (رہ) کی توجہ اس موضوع پر تھی  اور اسی بنیاد پر وہ مؤقف اختیار کرتے تھے اور امریکی جاسوسی کے اڈے(امریکی سفارتخانہ )  پر قبضہ کے بارے میں امام (رہ) کا نظریہ  بھی اسی دائرے میں تھا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقہ کے حالیہ برسوں کے حوادث اور امریکہ پر بعض گروہوں کے اعتماد  اور اسی نقطہ سے ان پر ضرب وارد ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حضرت امام (رہ) اپنی اس فکری اصل کے دائرے میں ہمیشہ امریکہ اور اس کے سیاسی اور سکیورٹی اداروں کے مقابلے میں مؤقف اختیار کرتے تھے اور علاقائی قوموں بالخصوص فلسطینی قوم کی دل و جان کے ساتھ  ٹھوس حمایت کرتے تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام (رہ) کی اس منطق کی روشنی میں علاقائی اور عالمی حوادث کے بارے میں تجزیہ و تحلیل کرنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ہم آج جس طرح عراق و شام میں داعش کے وحشیانہ اور ظالمانہ اقدامات کے خلاف ہیں اسی طرح امریکی پولیس کی امریکہ کے اندرظالمانہ رفتار کے بھی خلاف ہیں اور ان دونوں کے وحشیانہ اقدامات کو ایک جیسا سمجھتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ہم جس طرح غزہ کےمظلوم عوام کے ظالمانہ محاصرے  کے خلاف ہیں اسی طرح یمن کے مظلوم عوام پر وحشیانہ بمباری کے بھی خلاف ہیں، جسطرح ہم بحرین کے مظلوم عوام کے خلاف تشدد کے خلاف ہیں اسی طرح ہم افغانستان اور پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے بھی خلاف ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت پر مبنی حضرت امام خمینی (رہ) کی منطق اور اصول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہی وجہ ہے کہ مسئلہ فلسطین اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے اصلی مسئلہ ہے اور فلسطینی مسئلہ ایرانی نظام سے ہرگز خارج نہیں ہوگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مسئلہ فلسطین اسلامی  واجب و لازم مجاہدت  کا ایک میدان ہے اور کوئی بھی واقعہ ہمیں مسئلہ فلسطین سے الگ نہیں کرسکے گا ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ممکن ہے فلسطین میں بعض افراد اپنی ذمہ داریوں  پر عمل نہ کریں  لیکن ہم فلسطینی عوام اور فلسطینی  مجاہدین کی حمایت اور تائید جاری رکھیں گے ۔

استقلال اور تسلط پذیری کی نفی ، امام (رہ) کے فکری مکتب کی چھٹی اصل تھی جس کی طرف رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اشارہ کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے استقلال کی تعریف کوایک قوم کے مقیاس میں آزادی  پر مبنی قراردیا  اور فردی آزادی کے بعض دعویداروں  اور ایک قوم کی آزادی کے مخالفوں کے ناقابل قبول تناقض اور تضاد پر توجہ مبذول کرتے ہوئے فرمایا: بعض لوگ استقلال کی نفی کے لئے تھیوری پیش کرتے ہیں اور استقلال کوکم اہمیت مسئلہ تصور کرتے ہیں حالانکہ یہ بہت بڑی خطا اور بہت بڑا خطرناک مسئلہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے استقلال پر حضرت امام (رہ) کے راسخ عقیدے اور تسلط کو ٹھکرانے اور دشمن کی طرف سے دھمکیوں اور پابندیوں جیسی سرگرمیوں کو استقلال  کی اصل تعریف پر خدشہ وارد کرنے کا سبب قراردیتے ہوئےفرمایا: دشمن نے ملک کے استقلال کو نشانہ بنا رکھا ہے اور دشمن کے اہداف کی شناخت کے ساتھ سب کو ہوشیار اور آگاہ رہنا چاہیے۔

قومی اتحاد اور دشمن کی تفرقہ انگیز سازشوں کا مقابلہ حضرت امام خمینی (رہ) کے فکری مکتب کی آخری اصل تھی جس کی طرف رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اشارہ کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مذہبی اور قومی تفرقہ کو دشمن کی قطعی پالیسیوں کا حصہ قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب کی کامیابی کی ابتدا ہی سے حضرت امام خمینی (رہ) نے اس سازش کا مقابلہ کرنے پر کمر ہمت باندھ لی اور قومی اتحاد و قومی یکجہتی کے بارے میں باربار سفارش کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالم اسلام میں تفرقہ اور اختلاف کی پالیسی کے استمرار کو امریکہ اور استکبار کی اصلی پالیسیاں قراردیتے ہوئےفرمایا: امریکہ کی اس سازش کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا نظریہ امت اسلامیہ کے اتحاد و یکجہتی پر مبنی نظریہ ہے اور ایران کا اسی بنیاد پر جیسا رابطہ شیعہ حزب اللہ کے ساتھ ہے ویسا ہی رابطہ  فلسطین کے مظلوم سنی مسلمانوں کے ساتھ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ کے درجہ دو کے عوامل کی جانب سے شیعی ہلال اور اسی طرف امریکی عوامل کی جانب سے عراق اور شام میں داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کی مدد کو امریکی استکبار کی طرف سے مذہبی تفرقہ کے ٹھوس شواہد کے طور پر پیش کرتے ہوئے فرمایا: شیعہ اور سنی دونوں کو اس بات پر توجہ مبذول کرنی چاہیے کہ وہ دشمن کے مکر و فریب میں نہ آئیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جس سنی کی امریکہ حمایت کرتا ہے اور جس شیعہ کی لندن سےدنیا میں تبلیغات ہوتی ہیں وہ دونوں شیطان کے بھائی اور مغربی اور سامراجی طاقتوں کے عناصر ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ہمدلی و ہمزبانی پر مبنی اس سال کے نعرے کو دشمن کی سازشوں کے مقابلے میں اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: دشمن اصل اسلام کے وجود کو خطرہ تصور کرتا ہے اور تمام اقوام و مذاہب کو ملکر اور متحد ہوکر ید واحدہ تشکیل دینا چاہیے اور دشمن کو عالم اسلام کے وسیع حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس حصہ میں اپنے خطاب کو سمیٹتے ہوئے حضرت امام (رہ) کے دافعہ و جاذبہ کا مبنا اسی اصول کو قراردیتے ہوئے فرمایا: حضرت امام (رہ) کے اصول صرف انہی موارد میں منحصر نہیں ہیں اور محققین اور صاحب نظر افراد اس سلسلے میں مزید  تحقیق و ریسرچ کرسکتے  ہیں لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ جو خود پسند کرتا ہے اسے امام (رہ) کی طرف نسبت دے، بلکہ اظہارات  اصولی مبنا پر ہونے چاہییں جو امام (رہ) سےمتعلق مآخذ میں مکرر اور مستمر صورت میں موجود ہوں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک اہم حقیقت اور  واقعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا: سبھی جان لیں کہ دشمن کسی قید و شرط کے بغیر اس ملک پر دوبارہ تسلط قائم کرنا چاہتا ہے اور اس کا غصہ و مسکراہٹ، وعدے اور دھمکیاں اسی ہدف کے حصول کے لئے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمن کےاسی تسلط کے دوبارہ لوٹنے کی مخالفت  کو اسلام کے ساتھ اس کی عداوت ر دشمنی کی اصلی اور بنیادی وجہ قراردیتے ہوئے فرمایا: دشمن اسلام کا مخالف ہے کیونکہ اسلام اس سازش کا قدرت اور طاقت کے ساتھ مخالف ہے وہ ایرانی قوم کے بھی مخالف ہیں کیونکہ ایرانی قوم ان کی سازشوں کے خلاف مضبوط پہاڑ کی مانند کھڑی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ کے ایک پرانے سیاستمدار کی طرف سے دہشت گرد گروہوں کو مغرب کے لئے خطرہ قرارنہ دینے اور اسلامی تمدن ایجاد کرنے کی خاطر ایران  کو مغرب کا دشمن قراردینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا:  دشمن کی اس پالیسی سے عالم اسلام میں امت اسلامی کی تشکیل نمایاں ہوجاتی ہے اور سب کو جان لینا چاہیے کہ دشمن اسلام کی حرکت کو روکنے اور ایرانی قوم کی پیشرفت کو متوقف کرنے کی تلاش و کوشش کررہا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دشمن کے مقابلے میں جو زیادہ استقامت اور پائداری کا مظاہرہ کرےگا وہ زیادہ اس کا دشمن ہوگا دشمن ، اسلامی اداروں ، حزب اللہ اور انقلابی اداروں کا سب سے زیادہ مخالف ہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کے نفوذ کو روکنے کے سلسلے میں یہ عناصر مضبوط ، مستحکم  اور سیسہ پلائی ہوئی دیوارکے مانند ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن خمینی نے اپنے خطاب میں رہبر کبیر انقلاب اسلامی کے زائرین کو خوش آمدید کہا اور عراق، شام، بحرین، اور یمن کے حوادث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عرب مرتجعین نے علاقہ میں آشوب بپا کررکھا ہے اور اسلامی معاشرے میں دردناک واقعات رونما ہونے والے ہیں جن کے اصلی ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو اسلام کے بارے میں بغض اور کینہ رکھتے ہیں۔

حضرت امام خمینی (رہ) کے روضہ کے متولی نے کہا: ایک تشدد پسند گروپ  نے پورے اسلامی تمدن کو پیغمبر اسلام (ص)  اور دین اسلام کے نام پر نشانہ بنا رکھا ہے ، انسانوں کو بےرحمی اور بے دردی  کے ساتھ قتل کیا جارہا ہے اور انھوں نے صہیونیوں کی حمایت کے ساتھ ملکر اسلام کے خلاف بہت بری فضا قائم کررکھی ہے۔

حجۃ الاسلام سید حسن خمینی نے ایران کی سرزمین کو حضرت امام خمینی (رہ) کی سرزمین  قراردیا  اور دنیا کی طرف سے ایرانی قوم کو آزمانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگر کسی نے ٹیڑھی آنکھ سے ایران کی طرف دیکھنے کی کوشش کی تو ایرانی قوم اپنے کمانڈر انچیف کی سرپرستی میں ملک پر کسی قسم کے حملے کی اجازت نہیں دےگی اور ملک کے استقلال اور ارضی سالمیت کا بھر پور دفاع کرےگی۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17