Tuesday - 2018 Oct. 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 77235
Published : 19/6/2015 22:2

آنگ سان سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کی حمایت کردی

میانمار کی اپوزیشن رہنما نے پہلی بار ملک کی مسلم آبادی کو شہریت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق میانمار کی موجودہ حکومت کی مخالف اور نوبل امن انعام حاصل کرنے والی رہنما آنگ سان سوچی نے میانمار کی حکومت سے درخواست کی ہے کہ ملک بدر کئے گئے مسلمانوں کو میانمار کی شہریت دی جائے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملائیشیا اور انڈونیشیا نے میانمار کے مسلمان پناہ گزینوں کو اپنی ساحلی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا ہے اور یہ افراد جنوب مشرقی ایشیا کے سمندروں میں سرگرداں ہیں۔ ان افراد کی صورتحال انتہائی تشویشناک بتا‏ئی جارہی ہے۔ میانمار کے مسلمانوں کا قتل عام سن دو ہزار بارہ میں شروع ہوا جس پر میانمار کے حکومت کی مخالف اور نوبل امن انعام حاصل کرنے والی خاتون سیاسی رہنما آنگ سان سوچی نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اس طرح ان کے امن، آزادی اور جمہوریت کے نعرے پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس وقت جنوب مشرقی ایشیا کے سمندروں میں روہنگیا مسلمانوں کی صورتحال انتہائی تشویش ناک بتائی جارہی ہے جہاں بھوک اور پیاس کے نتیجے میں اب تک درجنوں مسلمان ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس انسانی بحران کے آغاز کے تین سال بعد جبکہ یہ المیہ شدت اختیار کرچکا ہے میانمار کی حکومت مخالف لیڈر آنگ سان سوچی نے دبے الفاظ میں میانمار کی حکومت سے درخواست کی ہے کہ انسانوں کی تجارت کرنے والوں کے چنگل میں پھنسے، بھوک اور پیاس کے ستائے روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دے دی جائے۔ اس وقت تیرہ لاکھ روہنگیا مسلمان اپنے ابتدائی شہری حقوق سے محروم ہیں اور عدم حمایت کی وجہ سے انتہائی سخت صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ علاقائی مبصرین کا خیال ہے کہ آنگ سان سوچی کا بیان ممکنہ طور پر مسلمانوں کے لئے مفید ثابت ہوسکتا ہے لیکن بظاہر یہ بیان آئندہ انتخابات میں ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ بعض دیگر سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ آنگ سان سوچی کا یہ اقدام بودھ مذہب کے پیروکاروں کے ووٹ پر اثرانداز ہوسکتا ہے جس کی بے انتہا اہمیت سمجھی جاتی ہے۔ بعض دیگر مبصرین کا خیال ہے کہ اس مسئلے میں آنگ سان سوچی کے سیاسی عزائم اور آئندہ انتخابات سے قطع نظر یہ اقدام روہنگیا مسلمانوں کے لئے سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ میانمار کی حکومت کا دعوی ہے کہ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیشی پناہگزین ہیں لہذا وہ انہیں اپنے ملک کی شہریت نہیں دے سکتی۔ قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ نسل پرستانہ رویے کی مذمت کرتے ہوئے، انہیں دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم اقلیت قرار دیا ہے۔ 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 23