شنبه - 2019 مارس 23
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 77519
تاریخ انتشار : 25/6/2015 12:12
تعداد بازدید : 3

ماہ رمضان کي عظمت (حصّہ دوّم)

تاريخي اعتبار سے ديکھا جاۓ تو روزہ زمانہ قديم سے مختلف مذاھب کے ماننے والوں ميں رائج رہا ہے - حضرت علي عليہ السلام کي ايک حديث سے پتہ چلتا ہے کہ روزہ ايک قديم ترين عبادت ہے اور خدا نے کسي بھي امت کو اس دلنواز عبادت سے محروم نہيں رکھا ہے -

دوسرے مذاھب کي مقدس کتابوں ميں بھي روزہ کے متعلق اشارے موجود ہيں حتي کہ ايسے مذاھب جو آسماني نہيں اور توحيد کے پيروکار نہيں ان ميں بھي روزوں کي تاريخ ملتي ہے

آيۃ اللہ العظميٰ مکارم شيرازي نے تفسير نمونہ کي جلد اول ميں اشارہ کيا ہے ، زيادہ تر قوميں کسي غم و اندوہ ميں مبتلا ہوجانے کي صورت ميں بلا ؤ مصيبت برطرف کرنے کے لئے روزہ سے مدد حاصل کرتي تھيں -

ايک روايت کے مطابق جس وقت حضرت نوح عليہ السلام نے اپنے ساتھيوں کو کشتي ميں سوار کيا اور کشتي دريا ميں رواں دواں ہوئي جناب نوح ( ع) نے سب سے روزہ رکھنے کي تاکيد کي ، رجب کا مہينہ تھا نماز و دعا کا بھي حکم دے سکتے تھے کہ سب کے ساتھ دعا ؤ مناجات کريں ليکن ايسے سخت حالات ميں دعا ؤ مناجات کي فرمائش کے بجائے روزہ رکھنے کي تاکيد روزہ کي اہميت اور مشکلات کو برطرف کرنے ميں روزہ کي تاثير کو نماياں کرتي ہے -

ايک شخص نے خدا کے برگزيدہ بندوں کے درميان روزہ کي تاريخ کے بارے ميں مشہور مفسر ابن عباس سے سوال کيا تو انہوں نے جواب ديا : پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلّم نے فرمايا ہے " اعليٰ ترين روزہ ، ميرے بھائي داؤد عليہ السلام کا روزہ ہے جو پورے سال ايک دن روزہ رکھتے اوردوسرے دن افطار کرتے تھے ، حضرت سليمان عليہ السلام ہر مہينہ تين دن شروع ميں تين دن وسط ميں اور تين دن آخرماہ ميں روزہ رکھتے تھے حضرت عيسيٰ عليہ السلام ہميشہ روزہ سے رہتے تھے ، حضرت مريم (ع) دو دن روزہ رکھتي تھيں اور دو دن افطار کرتي تھيں -" اسلامي روايات کي روشني ميں خود حضرت محمد مصطفيٰ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلّم ہر مہينہ کي پہلي ، درمياني اور آخري تاريخوں ميں روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے " يہ روزے ہميشہ رکھنا چاہئے "


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :