Thursday - 2018 july 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 77652
Published : 29/6/2015 19:9

ایٹمی سمجھوتے کا حصول ممکن ہے: صالحی

اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر فریق مقابل لوزان معاہدے کا پابند ہو اور ہٹ دھرمی نہ کرے تو ایٹمی سمجھوتے کا حصول ممکن ہے-
ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے اتوار کے روز تہران میں نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو میں اچھے اور برے سمجھوتے کے معیارات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فریق مقابل کی نظر میں بھی ایک آئیڈیل سمجھوتہ ہے اور ایران کی مذاکراتی ٹیم کے مدنظر بھی ایک آئیڈیل سمجھوتہ ہے لیکن اس طرح یقینی طور پر دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی اس آئیڈیل سمجھوتے تک رسائی حاصل نہیں کر سکے گا- انھوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کو چاہئیے کہ ایک درمیانی راستہ اختیار کریں تاکہ سمجھوتہ انجام پا سکے- ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نقطہ نظر سے سمجھوتہ ایسا ہونا چاہئے کہ ایٹمی سرگرمیاں انجام پاتی رہیں اور سرگرمیاں نہ تو ٹھپ پڑیں نہ ہی سست روی کا شکار ہوں- علی اکبر صالحی نے کہا کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہونا چاہئیے اور فریق مقابل کی جو تشویش ہے اسے بین الاقوامی نقطہ نظر سے استفادے کے ذریعے برطرف کیا جا سکتا ہے- علی اکبر صالحی نے کہا کہ فریق مقابل بعض ناحق مسائل پیش کر رہا ہے جبکہ بارہا اعلان کیا جا چکا ہے کہ ایران کا ایٹمی مسئلہ ٹیکنیکل ہے اور اس سلسلے میں جو تشویش ہے اسے بین الاقوامی اور جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے قوانین سے استفادہ کرتے ہوئے دور کیا جا سکتا ہے- انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے لئے کچھ حدود کا تعین کیا ہے اور اس کی ریڈ لائنز بھی ہیں جنہیں وہ عبور نہیں کرے گا-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 july 19