Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 77675
Published : 29/6/2015 20:5

ایٹمی سمجھوتے کا حصول ممکن ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے ساتھ مذاکرات کے چار دور انجام دینے اور اس کےعلاوہ یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ موگرینی، جرمن وزیرخارجہ اشٹائن مائر ، برطانوی وزیرخارجہ فلیپ ہمینڈ اورچین کے نائب وزیرخارجہ سے ایٹمی معاملے پر بات چیت کرنے کے بعد ویانا سے واپس پہنچ گئے۔ وزیرخارجہ جواد ظریف نے تہران روانگی سے قبل ویانا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ اگر مقابل فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو ایٹمی سمجھوتے کا حصول مشکل نہیں ہے انہوں نے کہا کہ وہ منگل کو دوبارہ ویانا واپس لوٹیں گے۔ جواد ظریف نے اپنے دورہ ویانا کا مقصد ایران کی مذاکراتی ٹیم کو کچھ ہدایات دینا اور امریکا اور یورپی ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کرنا بتایا۔ یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ موگرینی نے بھی ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے ملاقات کے بعد کہاکہ ایٹمی سمجھوتہ قریب ہے انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے ضروری سیاسی عزم پایا جاتا ہے۔ اس سے پہلے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے بھی ویانا میں، مذاکرات کے حاصل شدہ نتائج کا جائزہ لیا- محمد جواد ظریف نے اسی طرح چین کے نائب وزیر خارجہ اور جرمنی کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھی مذاکرات انجام دیئے- واضح رہے کہ جامع ایٹمی سمجھوتے کے حصول کے مقصد سے باہمی اختلافات کو حل کرنے کے لئے، ایران اور امریکہ کے وزرائے خارجہ محمد جواد ظریف اور جان کیری کے درمیان چوتھے دور کے مذاکرات اتوار کو ویانا میں انجام پائے۔ ویانا میں ایران کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم کے میڈیا انچارج نے کہا کہ مذاکرات معینہ مدت یعنی تیس جون کے بعد بھی جاری رہیں گے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23