Wed - 2018 مئی 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 79553
Published : 27/7/2015 20:54

ایران، غیر مستحکم علاقے کا ایک مستحکم ملک ہے

ایران کے نائب وزرائے خارجہ نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی اور یورپی وفود کے دورہ تہران کے مقاصد کی وضاحت کی ہے-
ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اتوار کے روز پارلیمنٹ کے، خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے اجلاس میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات میں بڑے پیمانے پر مراعات حاصل کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران، غیر مستحکم علاقے کا ایک مستحکم اور طاقتور ملک ہے جس نے دفاعی طاقت کے لحاظ سے سب کو فوجی طریقے کے استعمال کے سلسلے میں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے- سید عباس عراقچی نے ایٹمی مذاکرات کے دوران ایران کی حساس ایٹمی تنصیبات کے معائنے کے بارے میں تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی ایٹمی تنصیبات کے، کسی بھی طرح کی غیر روایتی دسترس اور معائنے کو قبول نہیں کرے گا جو اب حاصل ہو چکا ہے- سید عباس عراقچی نے کہا کہ دسترس اور معائنے کے لئے پیچیدہ میکینزم تیار ہو چکا ہے جو کسی بھی طرح سے ایران کی فوجی اور سیکورٹی مصلحتوں کو متاثر نہیں کرے گا اور ایران کے سیکورٹی اور فوجی حکام نے بھی اس کی تصدیق کی ہے- ایران کے نائب وزیر خارجہ نے پابندیوں کی بحالی کے امکان کے بارے میں بھی کہا کہ اگر پابندیاں دوبارہ عائد کی گئیں تو ایران بھی آئی اے ای اے کے ساتھ اپنا تعاون منقطع کر دے گا اور ایٹمی سرگرمیاں فورا دوبارہ شروع کر دے گا- یورپ و امریکہ کے امور میں ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے بھی اس اجلاس میں جرمنی کے اقتصادی اور تجارتی وفود کے حالیہ دورہ ایران کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ وفد، اس ملک کا سب سے بڑا تجارتی اور اقتصادی وفد تھا اور اس وفد کے دورہ تہران میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی و اقتصادی شعبوں میں مفید مذاکرات ہوئے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 مئی 23