سه شنبه - 2019 مارس 26
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 80463
تاریخ انتشار : 9/8/2015 18:39
تعداد بازدید : 13

ناگاساکی پر ایٹمی بمباری کی برسی

جاپان کے شہر ناگاساکی میں امریکی ایٹمی حملے میں مرنے والوں کی یاد میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا کے ستاون ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی-
فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق ناگاساکی کے میئر نے اس شہر پر امریکہ کے ایٹمی حملے کی ستّر ویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ پروگرام میں ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دنیا کی ضرورت پر زور دیا- شہر ناگاساکی کے میئر تومی ہیسا تاؤ نے امریکی صدر باراک اوباما اور ایٹمی ہتھیاروں کے حامل مختلف ممالک کے سربراہوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ہیروشیما اور ناگاساکی کا دورہ کر کے انسان کے ہاتھوں پہلی اور آخری بار استعمال کئے جانے والے ایٹم بم کے تباہ کن اثرات کا قریب سے مشاہدہ کریں- قابل ذکر ہے کہ جمعرات کو جاپان کے دسیوں ہزار افراد، شہر ہیروشیما میں اس امن پارک میں اکٹھا ہوئے جو امریکی ایٹمی حملے میں مرنے والوں کی یاد میں بنایا گیا ہے- جاپانی عوام نے امریکہ کی ایٹمی بمباری میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کر کے انھیں خراج عقیدت پیش کیا- واضح رہے کہ چھے اگست انیس سو پینتالیس کو اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین کے حکم سے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر تین دن کے اندر دو ایٹم بم گرائے گئے - امریکہ کی اس ایٹمی بمباری میں تقریبا دو لاکھ بیس ہزار افراد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا جس میں زیادہ تر عام شہری تھے- جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی ہی، دنیا کے ایسے شہر ہیں کہ جن پر ایٹم بم گرایا گیا- حیرت کی بات تو یہ ہے کہ امریکہ، ابھی تک جاپان کے ان دونوں شہروں پر ایٹمی بمباری کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے-


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :