Thursday - 2018 july 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 80467
Published : 9/8/2015 18:54

سلامتی کونسل سے ایران کا جوہری مسئلہ ختم ہوجائے گا

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آئندہ دس سال میں ایران کا کیس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ختم ہو جائے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اتوار کے دن، ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے رکن ممالک کے مابین ؛جوہری معاہدے کا جائزہ؛ کے زیر عنواں منعقدہ ایک اجلاس میں کہا کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مابین ہونے والے مذاکرات نے گذشتہ بارہ سے تیرہ سال میں ایک جامع شکل اختیار کی۔ تہران میں ہونے والے اس اجلاس میں ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کے فریق نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل سات کی چالیسویں اور اکتالیسویں شق کے تحت ایران کے خلاف چھے قراردادیں منظور کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممالک ایران کے کیس کو عالمی سلامتی کے ایک کیس میں تبدیل کرکے اس کے ذریعے مذاکرات میں سودے بازی کرنا چاہتے تھے۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران اپنے سائنسی اور تکنیکی توانائی اور صلاحیتوں کو لیکر ان مذاکرات میں شامل ہوا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کے اختتام پر طے پانے والے معاہدے کا متن ایک منصفانہ متن تھا۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران یہ نہیں چاہتا تھا کہ اپنے تمام عزائم مقابل فریق پر مسلط کرے کیونکہ اس صورت میں حاصل ہونے والا متن معاہدے کا متن نہیں بلکہ تسلط پسندی کا دستاویز ہوتا۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ پہلی بار ایسا واقعہ پیش آیا کہ جس میں سلامتی کونسل کی قراردادیں عملدرآمد ہوئے بغیر منسوخ ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتّیس، گذشتہ قراردادوں کے برخلاف محدودیت پر نہیں بلکہ مقبولیت کی بنیاد پر استوار ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ گذشتہ قراردادوں میں پابندیوں پر زور دیا گیا تھا جس کے تحت دیگر ممالک کو ایران کے جوہری منصوبے میں شامل ہونے کی اجازت نہیں تھی، تاہم اس قرارداد میں تمام ممالک کو ایران کے جوہری منصوبے میں تعاون کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ محمد جواد ظریف نے مزید کہا کہ ایران کی جوہری توانائی کا کیس ایک الگ نوعیت کا کیس تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اب ایران کے جوہری منصوبے کے پرامن ہونے کے بارے میں اطمینان ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 july 19