Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 82063
Published : 3/9/2015 20:34

مجلس خبرگان کے اراکین سے رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب

رہبر انقلاب اسلامی نے جمعرات کو مجلس خبرگان یا ماہرین کی کونسل کے سربراہ اور نمائندوں سے ملاقات میں پارلیمنٹ میں مشترکہ جامع ایکشن پلان کا جائزہ لیے جانے کی ضرورت پر تاکیدکی ہے- رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس ملاقات میں مشترکہ جامع ایکشن پلان کا جائزہ لیے جانے کے طریقہ کار اور اسے منظور یا مسترد کئے جانے کے بارے میں کوئی سفارش نہیں کی- 
رہبر انقلاب اسلامی نے پابندیوں کو برقرار رکھنے پر مبنی امریکی حکام کے بیانات کے بارے میں تاکید کے ساتھ کہا کہ مذاکرات کا مقصد، پابندیاں اٹھایا جانا تھا- اگر ہم نے مذاکرات کے دوران بعض مواقع پر لچک کا مظاہرہ کیا اور بعض مراعات دیں تو یہ اس لیے تھا کہ پابندیاں اٹھائی جائیں ورنہ ہم اپنی انیس ہزار سینٹری فیوج مشینوں کو بہت کم وقت میں پچاس سے ساٹھ ہزار سینٹری فیوج مشینوں تک پہنچا سکتے تھے اور یورینیم کی بیس فیصد افزودگی بھی جاری رکھ سکتے تھے-
 رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ علاقے میں امریکیوں کی جملہ پالیسیوں میں مزاحمت و استقامت کی طاقت کو پوری طرح ختم کرنا اور شام و عراق پر مکمل تسلط حاصل کرنا ہے اور انھیں توقع ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران بھی اس دائرے میں داخل ہو جائے گا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہو گا-
 آپ نے ممالک کے حکام اور فیصلہ کرنے کا اختیار رکھنے والی شخصیتوں پر اپنی جعلی اصطلاحات و الفاظ کو مسلط کرنے کے لئے عالمی سامراج کے پروپیگنڈے کے بارے میں اہم نکات کی جانب اشارہ کیا- 
رہبر انقلاب اسلامی کے بقول، تسلط پسند نظام کی زبان اور اصطلاح میں دہشت گردی اور انسانی حقوق جیسے الفاظ خاص مفھوم رکھتے ہیں - ان کی زبان اور اصطلاح میں یمن کے عوام پر مسلسل چھ مہینوں سے جاری حملے اور غزہ کے بےگناہ عوام کا قتل، دہشت گردی نہیں ہے اور ووٹ کا حق مانگنے کی بنا پر بحرینی عوام کی سرکوبی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی شمار نہیں ہوتی ہے! 
رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ تسلط پسند نظام کی زبان اور اصطلاح میں لبنان اور فلسطین میں مزاحمت و استقامت کی جانب سے جائز دفاع، دہشت گردی شمار ہوتا ہے لیکن علاقے میں امریکہ کے قریبی اور استبدادی ممالک کے اقدامات، انسانی حقوق کے برخلاف نہیں ہیں-
 آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ ان کی زبان اور اصطلاح میں ایٹمی سائنسدانوں کا قتل بھی کہ جس کا صیہونیوں نے تقریبا کھل کر اعتراف کیا ہے اور بعض یورپی ممالک نے بھی اس اقدام میں مدد کرنے میں اپنے کردار کو تسلیم کیا ہے، دہشت گردی شمار نہیں ہوتا ہے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13