Saturday - 2018 August 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 83422
Published : 15/9/2015 9:1

افغانستان: غزنی کی جیل پر حملے میں بعض حکام مبینہ طور پر ملوث

افغان پارلیمنٹ کے کچھ ارکان نے بعض سیکورٹی حکام پر صوبہ غزنی کی مرکزی جیل پر ہونے والے حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے- ریڈیو تہران کی پشتو سروس کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے رکن پارلیمنٹ چمن شاہ نے صوبہ غزنی کی مرکزی جیل پر طالبان کے حملے کو منصوبہ بند اقدام قرار دیا اور کہا کہ بعض افغان حکام اس حملے میں ملوث ہیں- 
افغانستان کی پارلیمنٹ کے داخلی سیکورٹی کمیشن کے سربراہ میرداد خان نجرابی نے بھی افغان وزارت داخلہ کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز میں طالبان کے حملوں کا مقابلہ کرنے کی توانائی نہیں ہے-
ادھر صوبہ غزنی سے منتخب ہونے والے رکن پارلیمنٹ علی اکبر قاسمی نے کہا ہے کہ غزنی کی مرکزی جیل کے قیدیوں کی ایک تعداد نے شورش کر دی تھی اور ان میں سے انیس افراد کو قومی سلامتی کے ادارے منتقل کر دیا گیا تھا- انہوں نے کہا کہ افغان قومی سلامتی کے ادارے نے ملک کی وزارت داخلہ اور صوبہ غزنی کی سیکورٹی کمان کو مطلع کر دیا تھا کہ طالبان کا اس جیل پر حملہ کرنے کا منصبوبہ ہے لیکن اس حملے کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا گیا- 
دوسری طرف افغانستان کی پارلیمنٹ افغان وزیر داخلہ نورالحق علومی کو غزنی کی جیل پر طالبان کے حملے اور وزیر داخلہ کی کمزور کارکردگی پر احتجاج کے لیے ان کو طلب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے-
واضح رہے کہ طالبان نے پیر کی صبح افغانستان کے صوبہ غزنی کی مرکزی جیل پر حملہ کیا اور چار سو تیس قیدیوں کو چھڑا کر لے گئے- یہ حملہ طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ پر منتج ہوا اور اس جھڑپ میں دونوں طرف کے دسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 August 18